جمعہ, جنوری 16, 2026

وفاق المدارس برسوں کا سفر،اور تازہ ترین اعداد وشمار کا ایک جائزہ

تحریر :  مولانا طلحہ رحمانی
میڈیا کوآرڈینیٹر وفاق المدارس العربیہ

پاکستان میں مدارس دینیہ کے سب بڑے تعلیمی و امتحانی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت اس وقت جو مدارس و جامعات ملحق ہیں، ان کی تعداد ستائیس ہزار تین سو اٹھاون (27358) ہے۔۔۔۔وفاق المدارس سے نئے ملحق مدارس کے الحاق ہر سال نئے تعلیمی سال کے آغاز یعنی شوال سے شروع ہوکر تیس ربیع الاول تک اختتام پذیر ہوتے ہیں۔۔۔جدید ملحق مدارس کو الحاق کے ساتھ نئے داخلوں کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔۔۔۔ہر سال قدیم و جدید مدارس کی لسٹوں کا اندراج تمام کوائف وغیرہ کے ساتھ کیا جاتا۔۔۔۔جس میں پڑھنے والے طلباء و طالبات، پڑھانے والے اساتذہ و اسٹاف کی تعداد سمیت دیگر تمام ضروری اندراجات وفاق المدارس کے مرکزی دفتر کے جدید سسٹم میں اپ ڈیٹ بھی ہوجاتا ہے۔

الحمدللہ امسال 1446/47ھ موافق 2025ء میں جو نئے مدارس ملحق ہوئے ہیں ان کی تعداد پندرہ سو (1500) سے زائد ہے۔۔۔۔۔ وفاق المدارس سے ملحق جامعات اورمدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی جو تعداد ہمارے مرکزی سسٹم میں موجود ہے وہ تیس لاکھ سے زائد بنتی ہے۔۔۔جبکہ ان میں خدمات انجام دینے والے علماء و اساتذہ اور عملہ کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ سے زائد ہے۔وفاق المدارس کا قیام 1959ء میں عمل میں آیا تھا۔۔۔۔۔اور 1960ء کا سال تھا، جب باقاعدہ ادارہ کے تحت پہلا سالانہ امتحان منعقد ہوا۔۔۔جس میں ایک سو دو (102) مدارس کے طلباء نے دورۂ حدیث شریف کا امتحان دیا۔۔۔یوں الحمدللہ ایک تاریخی سفر کا مبارک آغاز ہوا۔۔۔۔اور اب 2025ء گزر چکا ہے۔

اکابر و اسلاف امت کی قیادت و سیادت میں تقریباً سڑسٹھ (67) سال کا ایک مبارک سفر طے ہوا۔۔۔تسلسل اور تواتر کے ساتھ وفاق المدارس کا مثالی نظام امتحان آج بھی اکابر وفاق کی زیر نگرانی ان ہی زرّیں اصولوں اور قواعد و ضوابط اور منہج پر جاری ہے۔۔۔۔ابتدائی کئی برسوں تک صرف درجہ عالمیہ یعنی دورۂ حدیث شریف کا امتحان وفاق المدارس کے تحت ہوتا تھا۔۔۔پھر اسّی (80) کی دہائی میں بتدریج دیگر درجات کا اضافہ ہوتا گیا۔۔۔جس میں مڈل کلاس تک درجہ متوسطہ کے نام سے اپنا مرتب کردہ عصری نصاب کا بھی اضافہ کیا گیا۔۔۔۔اس وقت مجموعی طور پر بنین یعنی طلباء کے جن درجات کا سالانہ امتحان وفاق المدارس کے تحت ہوتا ہے ان کی تعداد آٹھ (8) ہے۔

1994ء میں وفاق المدارس نے بچیوں کی دینی تعلیم کیلئے مدارس بنات کا ایک نصاب ترتیب دے کر اپنے مثالی نظم امتحان کا آغاز کیا۔۔۔ابتداء میں مدارس بنات کا نصاب چار سالہ تھا جو تقریباً بیس برس سے زائد عرصہ تک برقرار رہا۔۔۔بعد میں ایچ ای سی کے ساتھ معاہدہ کے بعد اس نصاب کی میعاد چھ سال کر دی گئیتاکہ مدارس بنات کی درجہ عالمیہ کی سند کو بھی ایم اے کے مساوی تسلیم کیا جائے۔۔۔۔۔جن طالبات نے سابقہ چار سالہ نصاب پڑھا تھا ان کی سہولت کے لئے دو سالہ قدیم فاضلات کے نام سے وفاق المدارس نے اپنے امتحان میں ترتیب بنائی۔۔۔۔جو اس وقت بھی جاری ہے۔اس طرح بنات یعنی طالبات کے چھ درجات اور قدیم فاضلات کے دو سالہ کو شامل کریں تو ان کی تعداد بھی آٹھ بنتی ہے۔

اسی طرح وفاق المدارس کے درجہ تحفیظ کے امتحان کا نظم بھی تقریباً 1984ء میں شروع کیا گیا۔۔۔۔وفاق المدارس سے ملحق مکاتب قرآنیہ کی تعداد کافی زیادہ ہے،اس میں وہ اسکول بھی شامل ہیں جن میں دینی و عصری تعلیم ایک ساتھ دی جاتی ہے۔۔۔شعبہ تحفیظ بنین و بنات کا سالانہ امتحان دینے والوں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔۔۔۔چند برس قبل پاکستان میں سب سے زیادہ حفاظ و حافظات تیار کرنے پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو سعودی حکومت کی جانب سے ایک امتیازی اعزاز سے نوازتے ہوئے عالمی ایوارڈ دیا گیا۔۔۔جس برس یہ ایوارڈ دیا گیا تھا اس سال شعبہ تحفیظ کا امتحان دینے والوں کی تعداد تقریباً چھپن (56) ہزار تھی۔۔۔۔جو الحمدللہ اب ایک لاکھ پندرہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسی طرح چند برس قبل بنین و بنات (طلباء و طالبات ) کے لئے دو سالہ مختصر نصاب دراسات دینیہ کا آغاز بھی وفاق المدارس نے کیا۔اس کورس سے بھی ہزاروں افراد مستفید ہوئے،دراسات دینیہ کا سالانہ امتحان دینے والوں کی تعداد میں بھی دیگر درجات کی طرح مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔یہ کورس ان حضرات و خواتین کے لئے ترتیب دیا گیا جو زندگی کے دیگر شعبوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے اپنے آپ تفصیلی علم کے حصول کے لئے فارغ نہیں کر سکتے، تاکہ ایسے افراد بھی بنیادی دینی علوم سے بہرہ مند ہو سکیں ۔

اسی طرح چند برس قبل تجوید للحفاظ و الحافظات اور تجوید للعلماء و العالمات کا آغاز کیا گیا۔۔۔۔اس کے لئے بھی ایک جامع نصاب مرتب کیا گیا۔۔۔اس شعبہ میں بھی امتحان دینے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔۔۔۔تجوید کے ان دونوں درجات یعنی حفاظ و حافظات اور علماء و العالمات کے بھی سالانہ امتحان میں چھ روزہ پرچے ہوتے ہیں۔۔۔۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت سالانہ امتحانات شعبہ تحفیظ اور درجات کتب کے الگ الگ ہوتے ہیں۔۔۔درجات کتب میں تجوید اور دراسات دینیہ سمیت قدیم فاضلات کا امتحان بھی شامل ہے۔

شعبہ تحفیظ کا امتحان ایک روزہ ہوتا ہے۔۔۔جس کی تاریخیں ملک بھر کے لئے وفاق المدارس کی امتحانی کمیٹی مقرر کرتی ہے۔۔۔ان تاریخوں میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں مذکورہ تاریخوں میں علاقائی مسؤل تاریخ اور دن کا تعین کرتے ہیں۔۔۔چند برس قبل تک شعبہ تحفیظ کا امتحان انفرادی سطح پر ہوتا تھا۔۔۔جس کے مطابق مقررہ ممتحن اعلان شدہ تاریخ میں شامل مدارس کو مطلع کرکے امتحان لینے کے لئے جاتے تھے۔۔۔اب چند برس سے الحمدللہ شعبہ تحفیظ کے امتحان کے لئے بھی باقاعدہ امتحانی مراکز قائم کرنے کا کامیاب آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔اس کا ایک مکمل طریقہ کار ہے اور ممتحنین کے ساتھ ممتحن اعلیٰ کا تقرر بھی کیا جاتا ہے۔۔۔۔ہر سینٹر میں کم از کم ڈیڑھ سو سے دو سو طلباء و طالبات شریک ہوتے ہیں۔۔۔۔شعبہ تحفیظ سمیت مذکورہ جن درجات کا سالانہ امتحان وفاق المدارس کے تحت لیا جاتا ہے ان درجات کی تعداد بائیس (22) ہے۔۔۔۔قدیم فاضلات کا امتحان جو گزشتہ چند سال سے ہورہا ہے اس کو گزشتہ سال ختم کردیا گیا تھا مگر پھر امتحانی کمیٹی نے اس میں ایک سال کی توسیع کردی۔۔۔۔اور امسال اس کا آخری سال ہے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت عالیشان اور مثالی امتحان کے لئے جو نگران و ممتحن مقرر کئے جاتے ہیں اس کا بھی ایک مکمل طریقہ کار موجود ہے۔۔۔۔جبکہ سینٹر بنانے کے لئے بھی ایک اصولی ضابطہ موجود ہے۔۔۔اس ضابطہ کے مطابق امتحانی مراکز کے تمام ضروری انتظامات سے جہاں سینٹر والوں کےلئے ہدایات موجود ہیں، وہیں نگران عملہ کے لئے بھی شرائط موجود ہیں۔۔۔ان قواعد و ضوابط کی روشنی میں سالانہ امتحانات سے ملک بھر میں اضلاع و ڈویژن کی سطح پر صوبائی ناظمین کی زیر نگرانی اور مسؤلین کے زیر انتظام تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔۔۔۔یہ نشستیں درجات کتب اور شعبہ تحفیظ دونوں طرز کے نگران و ممتحن حضرات کی رہنمائی کے لئے امتحانات سے چند روز قبل رکھی جاتی ہیں۔۔۔۔ان نشستوں میں برسوں سے رائج جہاں تمام ضروری ہدایات دی جاتی ہیں وہیں بعض انتظامی حوالے سے جزوی تبدیلیوں کی نشاندہی بھی کی جاتی ہیں۔۔

امسال ہونے والے سالانہ امتحانات میں شعبہ تحفیظ کے امتحانات جاری ہیں۔۔۔جبکہ درجات کتب کا بڑے اور اہم مرحلے کا آغاز ان شاءاللہ بروز ہفتہ سترہ (17) جنوری 2026ء سے ہوگا۔۔۔۔جس کا اختتام بروز جمعرات بائیس (22) جنوری 2026ء کو ہوگا۔۔۔۔سالانہ امتحان کی تیاریاں اور تمام ضروری اقدامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔۔۔۔جوابی کاپیوں سمیت دیگر ضروری اشیاء کی بروقت ترسیل ہوچکی ہے۔۔۔۔ہزاروں کی تعداد میں موجود نگران عملہ کی تربیتی نشستوں کا سلسلہ ملک بھر میں جاری ہے۔۔۔۔مرکزی و صوبائی ذمہ داران اور مرکزی دفتر کے اراکین فعال ہیں۔۔۔صوبائی دفاتر میں آپریشن ڈیسک بنا دئیے گئے ہیں۔۔۔تمام مسؤلین و منتظمین امتحان کے حوالہ سے رہنمائی کےلئے مستعد ہیں۔

جس طرح پہلے بھی بیان کیا گیا کہ الحمدللہ ہر سال جہاں وفاق المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد میں انتہائی اضافہ ہورہا ہے وہیں تیزی سے شرکائے امتحان کی تعداد میں بھی حیران کن اضافہ ہورہا ہے۔۔۔۔بنیادی تعداد میں اضافہ کی مناسبت سے امتحانی مراکز اور نگران عملہ میں بھی اضافہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔۔۔۔امسال کے سالانہ امتحانات کے اعداد و شمار کا اجمالی جائزہ اور گزشتہ سال کی نسبت جو اضافہ ہوا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1) امسال پچیانوے ہزار نو سو اکتیس۔۔۔۔(95931) حفاظ اور بیس ہزار چھ سو چھہتر (20676) حافظات شریک امتحان ہیں۔۔۔۔۔۔مجموعی طور پر ایک لاکھ سولہ ہزار چھ سو سات۔۔۔(116607) خوش نصیب طلباء و طالبات ہیں جو تکمیل حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے کے بعد شریک امتحان ہیں۔

2) گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور تین ہزار چار سو آٹھ (3408) طلباء وطالبات کا اضافہ ہوا ہے۔۔۔۔اتنی بڑی تعداد میں قرآن کے حافظ و حافظات تیار کرنا یقیناً مدارس دینیہ و مکاتب قرآنیہ کی عالیشان خدمات کا مظہر ہے۔۔۔جو یقیناً ملک کے لئے بھی باعث خیر و برکت ہے اور رحمت و سعادت کا بڑا ذریعہ ہے۔۔۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ شعبہ تحفیظ کا امتحان اب گزشتہ چار پانچ سالوں سے سال میں دو بار ہوتا ہے۔۔۔ایک شعبۂ کتب کے سالانہ امتحان کے ایام میں اور دوسرا ذی الحجہ کے ابتدائی دنوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔دوسرے مرحلہ میں گزشتہ سال تقریباً اٹھارہ ہزار حفاظ و حافظات شریک امتحان تھے۔۔۔۔

3) عالمیہ بنین دورۂ حدیث کے بارہ ہزار ایک سو پینسٹھ (12165) وہ طلباء شریک ہیں جو امتحان میں کامیابی کے بعد درس نظامی کے فارغ التحصیل ہوجائیں گے۔۔۔اور علماء کی صف میں شامل ہو کر اور دین و دنیا کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔۔۔ان فضلائے مدارس میں کچھ تخصصات ( تخصص فی الفقہ، تخصص فی الحدیث، تخصص فی الدعوہ و الارشاد) یعنی اسپشلائزیشن کرتے ہیں۔۔۔اور علم فقہ و حدیث سمیت مختلف علوم و فنون میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل بن جاتے ہیں۔۔۔۔بعض علماء مختلف یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں مہارت بھی حاصل کرتے ہیں۔۔۔

4) مدارس بنات میں امسال تینتیس ہزار تین (33003) طالبات دورۂ حدیث شریف یعنی عالمات کے سالانہ امتحان میں شریک ہورہی ہیں۔۔۔امتحان میں کامیابی کے بعد دین کی عالمات اور فاضلات کی سند ان کو حاصل ہو جائے گی۔۔۔۔اتنی کثیر تعداد میں طالبات کا دینی تعلیم کا حاصل کرنا مدارس بنات کی والہانہ خدمات کی بدولت ہے۔۔۔۔مدارس بنات کا مکمل نظام امتحان، خواتین معلمات کی زیر نگرانی ہوتا ہے۔۔۔۔۔اس حوالہ سے وفاق المدارس کی جانب سے تمام شرعی ضابطوں پر سختی سے عملدرآمد کیا اور کروایا جاتا ہے۔۔۔۔امتحانی مراکز میں طالبات کی تمام ضروری سہولیات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔۔

5) امسال ان شاء اللہ مجموعی طور پر فارغ التحصیل علماء و عالمات کی تعداد پینتالیس ہزار ایک سو اڑسٹھ (45168) ہوگی، یعنی گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور پر دو ہزار چھ سو چھیاسٹھ (2666) کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔۔۔۔

6) تجوید للحفاظ و الحافظات کے سالانہ امتحان میں دس ہزار سات سو پچیانوے (10695) طلباء و طالبات شریک ہورہے ہیں۔۔۔۔گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور پر چار سو چھیانوے (496) طلباء وطالبات کا اضافہ ہوا ہے۔۔۔

7) تجوید للعلماء و العالمات میں پانچ ہزار سات سو چورانوے (5794) علماء و عالمات شریک امتحان ہوں گے۔۔۔اس میں گزشتہ سال کی نسبت سات سو پندرہ (715) کا اضافہ ہورہا ہے۔۔۔

8) دراسات دینیہ سال اول بنین و بنات کے سترہ ہزار چھ سو ستر (17670) طلباء و طالبات شریک امتحان ہوں گے۔جبکہ دراسات دینیہ سال دوم بنین وبنات کے بارہ ہزار تین سو پچہتر (12375) طلباء وطالبات سالانہ امتحان میں شرکت کریں گے۔

9) مجموعی طور پر دراسات دینیہ بنین و بنات میں مجموعی تعداد تیس ہزار پینتالیس (30045) ہوگی۔۔۔گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور پر دو سو اکسٹھ (261) کا اضافہ ہوا ہے۔

10) امسال الحمدللہ وفاق المدارس کے تحت سالانہ امتحانات برائے 1447ھ/2026ء میں شرکاء کی مجموعی تعداد چھ لاکھ انسٹھ ہزار تین سو پینتیس (659335) ہوگی۔۔۔۔یعنی گزشتہ سال سے اٹھائیس ہزار تہتر (28073) کا قابل تحسین ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔۔۔۔

مذکورہ اعداد وشمار سے مدارس دینیہ کی تعلیمی و تربیتی،علمی و فکری ہمہ جہت خدمات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔۔۔ یہ یقیناً پاکستان کے ہزاروں مدارس دینیہ،ڈھائی لاکھ سے زائد علماء کی دیرینہ کاوشوں کا جہاں مظہر ہے، وہیں عوام الناس کا ان اداروں پر اعتماد کا اظہار بھی ہے۔۔۔۔

جس طرح ملحق مدارس اور شرکائے امتحان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اسی تناسب سے امتحانی مراکز اور نگران عملے میں بھی گرانقدر اضافہ ہوا۔۔۔۔

بنین کے ایک امتحانی مرکز میں ڈیڑھ سو طلباء اور بنات کے ایک امتحانی مرکز میں سو طالبات کا شریک امتحان ہونا وفاق المدارس کے مستقل ضابطہ کا حصہ ہے۔۔۔علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مسؤلین کی جائزہ رپورٹ پر اس سے کم تعداد پر بھی سینٹر کا قیام عمل لایا جاتا ہے۔۔۔۔ہر سینٹر میں نگران اعلی کے ساتھ ہر پچیس طلباء پرایک معاون نگران کی تقرری کی جاتی ہے۔۔۔یہی ترتیب مدارس بنات میں بھی ہوتی ہے۔۔۔۔

بعض بڑے جامعات ایسے بھی ہیں جن میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی ادارہ میں الگ الگ اضافی سینٹر بھی بنائے گئے ہیں جن میں مستقل نگران اعلیٰ اور معاون نگران بھی اصولی ضابطہ کے مطابق مقرر کئے جاتے ہیں۔۔۔اسی طرح زیادہ تعداد والے امتحانی مراکز میں نگران اعلیٰ کے ساتھ ایک "نائب نگران اعلیٰ” کی تقرری بھی کی جاتی ہے۔۔۔۔نگرانی کےلئے جن مدارس کے اساتذہ و معلم کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے اس کے لئے درجات کتب کے ہر پچیس طلباء کے داخلوں کے حساب سے تقرری عمل میں لائی جاتی ہے۔۔۔یعنی درجہ کتب کے ملحق جس مدرسہ کے پچیس (25) سے اننچاس (49) تک طلباء ہوں تو اس ادارہ سے ایک معاون نگران کی تقرری کی جاتی ہے۔۔۔پچاس (50) یا اس سے زیادہ طلباء ہوں تو ان کے دو معاون نگران لئے جاتے ہیں۔۔۔۔اسی پچیس (25) کی تعداد کے تناسب سے وفاق المدارس کا ضابطہ ہے۔۔۔۔اور نگرانی کے لئے ادارہ کی جانب سے نام بھیجنا ضروری ہے۔۔۔۔

نگران اعلیٰ کے لئے بنیادی طور پر کم از کم پانچ سے دس سال نگرانی کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔۔۔سالانہ امتحانات کے مکمل نظام کو مانیٹر کرنے کے لئے وفاق المدارس کے مرکزی و صوبائی قائدین ملک بھر کے سینٹروں کا ہنگامی معائنہ کرتے ہیں۔۔۔اراکین امتحانی کمیٹی و مجلس عاملہ سمیت مسؤلین بھی سینٹروں کا دورہ کر کے رپورٹیں لکھتے ہیں۔۔۔۔عمومی طور پر ہر سینٹر کے لئے نگران اعلیٰ کے پاس ایک فائل ہوتی ہے جس میں سینٹر کے حوالہ سے تمام ضروری تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔۔۔۔اسی فائل میں یومیہ رپورٹ کا اندارج کا صفحہ بھی ہوتا ہے۔۔۔۔سینٹر میں پیژ ٓنے والی کسی بھی خصوصی نوعیت اور اہم بات کا لکھنا نگران اعلیٰ کے لئے لازمی ہوتا ہے۔۔۔۔ان اندراجات کی معائنہ کے لئے آنے والے وفاق المدارس کے ذمہ داران تصدیق کرتے ہیں۔۔۔۔بعد از امتحان اراکین امتحانی کمیٹی پاکستان کے تمام مراکز کی فائلوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں موجود کسی بھی قابل اصلاح نکتہ کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔۔

جبکہ مدارس بنات کے سینٹروں کے معائنہ کے لئے اراکین وفاق کی ذمہ دار خواتین معائنہ کر کے رپورٹیں مرتب کرتی ہیں اور وہ رپورٹیں متعلقہ مسؤلین کے ذریعہ مرکزی دفتر کو ارسال کردی جاتی ہیں۔۔۔ امسال امتحانی مراکز اور مقرر کردہ نگران عملہ کی تعداد کا ایک اجمالی جائزہ۔

1) مراکز امتحان بنین برائے درجات کتب نو سو پچاس (950) ہیں۔۔۔جس میں سات ہزار چار سو چار (7404) نگران عملہ کی تقرری کی گئی ہے۔۔۔۔

2) مراکز امتحان بنات برائے درجات کتب کی تعداد دو ہزار نو سو ستائیس(2927) ہے۔۔۔ان مراکز میں خواتین معلمات پر مشتمل نگران عملہ کی تعداد اٹھارہ ہزار ایک سو اٹھاون (18158) ہے۔۔۔۔

3) مجموعی مراکز امتحان برائے بنین و بنات کی تعداد تین ہزار آٹھ سو ستتر (3877) ہے۔۔۔
4) مجموعی نگران عملہ پچیس ہزار پانچ سو باسٹھ (25562) ہے۔۔۔
5) گزشتہ سال کی نسبت مجموعی مراکز امتحان میں تین سو پندرہ (315) کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔۔۔جبکہ نگران عملہ برائے مراکز بنین وبنات میں مجموعی اضافہ دو ہزار نو سو چار (2904) ہوا ہے۔
6) شعبہ تحفیظ میں امتحانی مراکز برائے بنین نو سو چالیس (940) ہیں۔۔۔
7) امتحانی مراکز بنات برائے شعبہ تحفیظ دو سو چالیس (240) ہیں۔۔۔۔
8) شعبہ تحفیظ کے مجموعی مراکز امتحان برائے بنین و بنات کی تعداد گیارہ سو اسی (1180) ہے۔۔۔۔
9) گزشتہ سال کی نسبت امسال مجموعی طور پر مراکز امتحان برائے تحفیظ میں ایک سو پانچ (105) کا اضافہ ہوا۔۔۔
10) ممتحنین تحفیظ برائے بنین کی تعداد دو ہزار سات سو سات (2707) ہے۔۔۔۔
11) شعبہ تحفیظ بنات میں ممتحنات کی تعداد امسال تیرہ سو سات (1307) ہے۔۔۔۔۔
12) امسال مجموعی طور پر شعبہ تحفیظ میں ممتحنین و ممتحنات کی تعداد چار ہزار چودہ (4014) ہے۔

13) گزشتہ سال کی نسبت شعبہ تحفیظ کے ممتحنین و ممتحنات میں دو سو اٹھاون (258) کا اضافہ ہوا۔۔۔۔
اس سال وفاق المدارس کی امتحانی کمیٹی نے نگران عملے کے بین الصوبائی اور بین الاضلاع تبادلے بھی کئے ہیں۔۔۔۔امسال ان بڑے اداروں کے امتحانی مراکز اور ان بڑے اداروں سے لئے گئے نگران اعلیٰ حضرات کی تشکیلیں کی گئی ہیں جبکہ ان کے ہمراہ دو معاونین بھی کئے گئے ہیں۔۔۔۔امسال جن بین الصوبائی نگران اعلیٰ اور دو معاونین کے تبادلے کئے گئے ہیں ان اداروں کی تعداد چونتیس (34) ہے۔۔۔

جبکہ چاروں صوبوں میں بین الاضلاع پچاس سے زائد امتحانی مراکز میں بھی تبادلے کئے گئے ہیں۔۔۔یہ تبادلے اور تقرریاں صوبائی ناظمین و اراکین امتحانی کمیٹی نے مشترکہ مفصل اجلاس میں متفقہ طور پر طے کئے۔۔۔۔اس تبدیلی کا بنیادی مقصد معیار و نظام امتحان کو مزید فعال و مؤثر اور مفید بنانا ہے۔۔۔برسوں سے وفاق کے امتحانی نظام سے منسلک اس تجربہ کار نگران عملے سے دوسرے صوبوں کے نگرانوں کو بھی یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔۔۔۔

ان شاءاللہ اس اہم تبدیلی سے مستقبل میں دور رس نتائج بھی مرتب ہونگے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ تمام شرکائے امتحان کو نمایاں کامیابی سے ہمکنار فرمائیں۔۔۔۔وفاق المدارس کے تمام قائدین،صوبائی ناظمین،معاون ناظمین، مسؤلین و منتظمین سمیت مرکزی دفتر کے فعال اراکین کی خدمات کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔۔۔۔تمام نگران عملہ و ممتحنین کی محنتوں کو بھی اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائیں

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں