کراچی : کراچی یونین آف جرنلسٹس ( کے یو جے) نے وکیل سرکار اور این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سینئر صحافی اسلم شاہ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت قائم مقدمہ واپس لے کے کر انہیں فوراً رہا کیا جائے۔
کے یو جے کے صدر اعجاز احمد، جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی، دیگر عہدے داروں اور مجلس عاملہ کے اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پیکا ایکٹ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے سلب کرنے کے مترادف ہے ۔
اسلم شاہ نے تو محض اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے بعض سرکاری افسروں کی بدعنوانیاں اجاگر کی تھیں، مگر ان افسروں نے پیکا ایکٹ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکورہ صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ۔
سرکاری وکیل اور نیشنل سائبر کرائم انٹیلی جنس ایجنسی ( این سی سی آئی اے) کے تفتیشی افسر تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، جس کے باعث متاثرہ صحافی کی ضمانت بھی نہیں ہو پا رہی ۔
کراچی یونین آف جرنلسٹ کے رہنمائوں نے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ سے اس صورت حال کا نوٹس لینے کی بھی اپیل کی ۔
معلوم رہے کہ واٹر کارپوریشن کے افسر سید تابش رضا حسنین نے ریٹائرڈمنٹ سے 26 روز قبل سید محمد اسلم شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے ۔
