سندھ میں نیب سے پلی بارگین کرنیوالے افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

کرپٹ افسران اورمنتخب عوامی نمائندوں کیلئے بری خبر!حکومت سندھ نے نیب سے پلی بارگین کرنے والے تمام افسران کے خلاف کارروائی کافیصلہ کرلیا۔کرپشن میں ملوث افسران کسی پوسٹنگ اورسرکاری عہدے کیلئے 10سال کیلئے نااہل قرار دیئے گئے سندھ میں اعلیٰ عہدوں پرخدمات انجام دینے والے والے 590 افسران نے نیب سے پلی بارگین کیا،

200 افسران کے تاحال مختلف اعلیٰ عہدوں پرخدمات انجام دینے کے انکشاف پرحکومت سندھ نے کارروائی کاحکم دیا۔یہ احکام وزیراعلیٰ سندھ سیدمراعلی شاہ کوبھجوائی گئی اس رپورٹ کے بعدجاری کیاگیا، جس میں کہاگیا ہے کہ نیب سے پلی بارگین کرنیوالے 590 افسران میں سے 200 اعلیٰ افسران تاحال اپنے عہدوں پر خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں ،

جنہیں حکومت سندھ نے فوری ہٹانے کی ہدایت کردی۔ وزیراعلیٰ سندھ کوپیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2018 تک حکومت سندھ کے 590 افسران نے کرپشن کے کیسزمیں نیب سے پلی بارگین کے بعد لوٹ مارکی گئی رقم سرکاری خزانے میں واپس جمع کراکر کرپشن کے الزامات سے جان چھڑائی ،

لیکن عدالتوں کی بار بار ہدایات کے باوجود پلی بارگین کرنے والے 200 منظور نظر افسران وملازمین حکومت سندھ کے اہم محکموں میں تعینات رہے جنہیں بھاری مراعات سے نوازا جاتا رہا ہے ، ایسے ملازمین و افسران کی زیادہ تعداد محکمہ تعلیم ،بلدیات،ایکسائز،محنت وافرادی قوت ،ریونیو،آبپاشی،محکمہ خوراک،پولیس سمیت مختلف محکموں میں اہم عہدوں پرفرائض انجام دے رہی ہے ۔

سندھ حکومت نے عدالتی فیصلے کے پیش نظر تمام صوبائی محکموں،نیم سرکاری اورخودمختار اداروں اوراتھارٹیزمیں تعینات افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ سروسزاینڈجنرل ایڈمنسٹریشن کے توسط سے صوبے کے تمام ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، گورنر اوروزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹریز،تمام صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اورممبربورڈ آف ریونیو،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، صوبائی محتسب سندھ، آئی جی سندھ پولیس،چیئرمین اینٹی کرپشن و چیف منسٹرزانسپیکشن ٹیم اورایڈووکیٹ جنرل سندھ کوایسے ملازمین کے خلاف کارروائی کیلئے کہاہے ۔

سرکاری حکمنامہ میں کہاگیاہے کہ ایسے تمام اہلکاروں کوسرکاری دفاترمیں فرائض کی انجام دہی سے روکاجائے اور انہیں10سال کیلئے وفاق یاصوبوں میں نیب آرڈیننس کی دفعہ15کے تحت کسی بھی سرکاری عہدے کے لئے منتخب،بھرتی یا مزیدکرنے سے متعلق10سال کیلئے نا اہل قراردیاجائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *