پاکستانی میڈیا انڈسڑی شدید بحران سے دوچار

تحریر : محمد زبیر خان

کچھ سال پہلے خیال تھا کہ جب ٹیلی وژن اور اخبارات زیادہ ہونگے تو اس کا صحافیوں کو فائدہ ہوگا اور اچھے مقابلے کی فضا بنے گی۔

مگر کافی عرصہ پہلے پتا چل گیا کہ کوئی فائد نہیں ہوگا بلکہ گند میں مزید اضافہ ہوا اور اس حد تک کے پوچھو نا۔ مارکیٹ تو وہ ہی ہے مگر حکومت ہے کہ ٹیلی وژن چینلوں کے لائنس اور اخبارات کی اجازت دیتی جارہی ہے۔

اس میں سب سے زیادہ گند ہوٹل والے، سونا والے، بیکری ،پان ، سکول کالج کے سیٹھوں اور جعلی ڈگری والوں نے ڈالا اور پاکستان میں صحافت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ رہتی کسر مختلف علاقائی اخبارات نے ڈالا ۔

اور اس کا نقصاں ان گنے چند چند میڈیا ہاوسز کو ہوا جو کچھ نہ کچھ صحافت کررہے تھے اور ان کے اداروں میں صحافیوں اور سٹاف کو تنخواہیں مل رہی تھی۔ مگر جب یہ ان ٹیلی وژن چینلوں اور اخبارات کی حد کنجائش سے باہر ہوئی تو یہ بھی بیٹھ گے اور ان میں سے بھی صحافیوں اور سٹاف کو نکالا جارہا ہے۔

اے آر وائے، ایکسپریس جیسے چینل سے صحافیوں کو نکالنا تو بڑی بات نہیں کیوں کہ سیٹھوں سے زیادہ توقعات نہیں ہے مگر جنگ، جیو، ڈان سے نکالا جانا اور امت میں خطرے کی گھنٹی بجنا تشویش ناک ہے اور یہ اسی وجہ سے ہوا کہ مارکیٹ میں سے جن میڈیا ہاوسز کو حصہ ملنا چاہیے تھا وہ اب نہیں مل رہا ہے۔

قصہ مختصر کے اب پوری کی پوری صنعت ہی غلط پالیسیوں اور صحافیوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے بیٹھ چکی ہے۔ شاید تحریک انصاف کو ترس آجائے مگر لگتا نہیں ہے۔ ایسے میں ان میڈیا ہاوسز کو اپنے وسائل خود ہی پیدا کرنا ہونگیں۔

ٹیلی وژن چینل تو شاید کچھ نہ کچھ کرلیں مگر اخبارات کے لےئے مسائل زیادہ ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال سے پہلے ہی بچا جاسکتا تھا اور مارکیٹ سروے کے بعد ایک حد سے زیادہ میڈیا ہاوسز کو نشریات اور اشاعت کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔

اب بھی وقت ہے اس پر سوچا جاسکتا ہے اور ساتھ میں صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کچھ قوانین پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اپنے لےئے کچھ قوانین تو ضرور منظور کروائیں مگر صحافت میں سے گند ختم کرنے اور بلیک میلنگ کو ختم کرنے کے لےئے بھی قوانین ہونا لازم ہے اگر ہتک عزت کے قانون کو بہتر کردیا جائے اور اس کا ٹائم فریم متعارف کروایا جائے تو اس سے یقیناًبہتری آئے گی۔

باقی رہی بات صحافتی تنظیموں کی تو ان سے امید نہ ہی رکھیں کوئی ن لیگ کا وفادار ہے تو کسی کو تحریک انصاف نے بلایا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *