پولیس نظام میں اصلاحات کےلیے 23 تجاویز، رپورٹ (خلیل احمد)

قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی عوامی یا فوجی حکمران نے پاکستان میں پولیس کے نظام کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی کیونکہ ہر حاکم وقت نے پولیس کے ذریعے ہی عوام کو قابو میں رکھا ہے اور انہیں آزادی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اگر انگریزوں کی بنائی گئی اس پولیس کو بروقت ٹھیک کر دیا جاتا تو آج اس ملک پر کالے انگریزوں کا راج نہ ہوتا بلکہ عوام کے من پسند افراد عوام کی خدمت میں مصروف ہوتے۔

ماضی قریب میں تخت حکمرانی سے اترنے والے خود پسند حاکموں نے صرف وردی کو تبدیل کر کے یہ سمجھ لیا کہ پولیس اب بالکل پاک صاف ہو جائے گی اور سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس قدر جہالت اور بے عقلی کا مظاہرہ اگر ایک صوبے کا وزیراعلی کرے تو اس صوبے کے عوام کو صبح و شام اکیس توپوں کی سلامی دی جانی چاہیے کہ انہوں نے ایسے ارسطو کو اپنا حاکم منتخب کر لیا ہے۔ خدا خدا کرکے کسی شخص نے خلوص نیت کے ساتھ قوم کو حقیقت میں آزاد کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

سنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس کی شرمناک تاریخ کو مٹانے کےلیے افسران، سابقہ آئی جیز اور قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو چند ہی دنوں میں اپنی سفارشات وزیراعظم کو بھیج دے گی اور پھر وزیراعظم غور و فکر کے بعد حتمی منظوری دیں گے۔ اللہ کرے کہ سفارشات بنانے والی کمیٹی کے تمام ارکان بذات خود ایماندار اور پیشہ ورانہ قابلیت کے حامل ہوں، تحقیق و مطالعہ سے شغف رکھتے ہوں، مسائل سے پوری طرح آگاہ ہوں اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انٹرنیٹ سے کسی دوسرے ملک کی تحقیقی رپورٹ اٹھا کر اس میں سے سفارشات لکھ کر وزیراعظم کو بھیج دی جائیں جیسا کہ سابقہ افسران اور حکمران کرتے آئے ہیں۔

پاکستان کی پولیس کو تبدیل کرنے کےلیے انتہائی سوچ بچار اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے دیگر ممالک کے نظام سے بھی استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سارے عوامل کو مدنظر رکھ کر ایسی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جو اس ادارے کو مکمل طور پر تبدیل کردیں۔ اس ضمن میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔ اگر کسی طرح میری یہ تجاویز حاکمان وقت تک پہنچ جائیں تو گزارش ہوگی کہ وہ ان پر بھی ایک نظر ڈالیں اور اگر پسند آجائیں تو عمل کرلیں؛ ملک و قوم کا بھلا ہو جائے گا۔

1۔ پولیس میں بھرتی کے خواہشمند افراد کا انتخاب انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد آرمی کی طرز پر مختلف ٹیسٹ لے کر کیا جائے۔

2۔ انتخاب کے بعد انہیں دو سال تک پولیس اکیڈمی میں اعلی اور جدید بنیادوں پر تربیت دی جائے جس میں شعبہ پولیس سے متعلق تمام بنیادی امور شامل ہوں۔ (جسمانی تربیت، اخلاقی تربیت، نفسیاتی تربیت، قانونی تربیت، تکنیکی تربیت، انتظامی تربیت، وغیرہ)۔ اس دو سالہ تربیت کو شامل کر کے ان کی تعلیم کو گریجویشن یا اس کے مساوی قرارد دیا جائے اور پھر ٹریننگ مکمل کرنے والے کو بنیادی درجے پر بھرتی کیا جائے۔

3۔ انہی منتخب افراد کو اعلی عہدوں پر جانے کےلیے درجہ بدرجہ مختلف نوعیت کے اور مختلف شعبوں سے متعلق دو سالہ، تین سالہ اور چار سالہ کورسز مقرر کیے جائیں اور وہ کورسز مکمل کرنے والے افراد ہی کو اگلی پوزیشنوں پر ترقی دی جائے۔ ان کورسز میں پولیس سے متعلق تمام جدید علوم شامل ہوں۔

4۔ سی ایس ایس یا پی ایم ایس کے ذریعے محکمہ پولیس میں براہ راست افسران کی بھرتیوں کو ختم کیا جائے کیونکہ اس طرح بڑے عہدے پر پہنچنے والا افسر پولیس سے متعلقہ امور سے نابلد ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بہت بڑی شے سمجھ کر پورے پولیس کے نظام کو تہس نہس کر دیتا ہے۔

5۔ مکمل تحقیق کی جائے اور فارمولا طے کیا جائے کہ کتنے لوگوں پر کتنے پولیس اہلکار ہونے چاہئیں۔ مثلاً ہر 100 افراد پر 1 پولیس اہلکار وغیرہ۔ پھر اسی حساب سے بجٹ اور دیگر ضروری عوامل کو مدنظر رکھ کر سالانہ بنیادوں پر پولیس میں لوگوں کی بھرتی کی جائے۔

6۔ پولیس میں بھرتی کے خواہشمند امیدواروں کےلیے دیگر شرائط کا تعین کیا جائے۔ مثلاً انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 80 فیصد مارکس۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اچھے دماغ والے لوگ جب محکمہ پولیس میں جائیں گے تو اس کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ اگر نکمے اور نہ پڑھنے والے طلبہ کو ملازمت برائے ملازمت کے طور پر بھرتی کیا گیا تو پھر اداروں کا وہی حشر ہوگا جو اس تک وقت ہو چکا ہے۔ ایسے لوگوں کےلیے روزگار فراہم کرنے کے بیسیوں دیگر آپشنز موجود ہیں، جن پر بعد میں کالم لکھا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں عمر، قد، وزن، چھاتی، میڈیکل فٹنس، مجرمانہ پس منظر اور دیگر ضروری لوازمات کی تکمیل بھی ازبس ضروری ہے۔

7۔ ملازمت میں بھرتی کرتے وقت امیدوار اور اس کے والدین، بیوی، بچے، بہن بھائی وغیرہ کے اثاثہ جات اور دیگر ذرائع آمدن بھی ڈیکلیئر کروائے جائیں اور پھر ہر سال ان کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ ملازمت شروع کرنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص کوئی دوسرا ذریعہ روزگار اپناتا ہے مثلاً کسی کمپنی کے شیئرز خریدتا ہے، کسی کے ساتھ کوئی شراکتی کاروبار کرتا ہے یا بنک میں پیسہ رکھتا ہے اور اس پر منافع لیتا ہے تو اسے ایسی تمام ذاتی معلومات کو محکمے میں اندراج کرانا ہوگا اور نہ کرنے پر ملازمت سے برخاست کردیا جائے۔ (یہ شق تمام سرکاری محکموں کے ملازمین پر لاگو کی جائے۔)

8۔ سالانہ بنیادوں پر نئے افراد کے انتخاب کے ساتھ ساتھ پرانے پولیس اہلکاروں کا بھی مکمل احتساب کیا جائے اور ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو نہ صرف ملازمت سے برخاست کیا جائے بلکہ ان سے ناجائز دولت بھی واپس لی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے؛ جبکہ ان کے اہل خانہ کو حکومت کی طرف سے سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ انہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

9۔ میٹرک اور اس سے کم تعلیم یافتہ تمام پولیس اہلکاروں کو دو سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ جبری ریٹائر کیا جائے اور ان کے ساتھ ساتھ ان پولیس اہلکاروں کو بھی رخصت کیا جائے جو جسمانی طور پر پولیس میں رہنے کے قابل نہیں۔

10۔ محکمہ پولیس کے ملازمین کی ڈیوٹی کے اوقات 24 گھنٹے کے بجائے 8 گھنٹے کیے جائیں اور 3 شفٹوں میں ڈیوٹی مقرر کی جائے۔

11۔ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ ان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی بہ آسانی پوری ہوسکیں۔

12۔ پولیس کے تمام اہلکاروں کو ترقی یافتہ پولیس کی طرح جدید آلات سے لیس کیا جائے اور انہیں ان آلات کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔ تمام پولیس اسٹیشنز میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔

13۔ تفتیش کے پرانے، غیر انسانی اور گٹھیا طریقوں کو ترک کرکے جدید سائنسی اور نفسیاتی طریقوں کو استعمال کرنے کی تربیت دی جائے۔

14۔ پولیس اور عوام میں بہتر تعلقات قائم کرنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کےلیے محکمہ پولیس کی طرف سے تمام تعلیمی اداروں میں سیمینارز اور لیکچرز کے ذریعے عامۃ الناس اور طلبہ کو آگہی دی جائے اور ساتھ ہی ساتھ پولیس، عوام کے مسائل کو ان سے براہ راست سنے اور پھر عوام کو تربیت دے کہ وہ کس طرح پولیس کے ساتھ تعاون کرکے اپنے جان، مال اور عزت کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ہی رشوت کے خاتمے کا اعلان عوام کے سامنے کیا جائے اور عوام کو پولیس افسران خود کہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص آپ سے کسی بھی طرح کا خرچہ پانی مانگے، آپ اسی وقت اپنی شکایت درج کرائیں اور عوام کے سامنے ہی اس شخص کو سزا دی جائے۔

15۔ تمام پولیس اہلکاروں بشمول اعلی افسران کو چاق و چوبند رکھنے کےلیے تمام تھانوں پر روزانہ کی بنیاد پر ورزش لازمی قرار دی جائے اور غیر حاضری پر سخت سزا دی جائے۔

16۔ ہر تھانے کے ایس ایچ او کو پابند کیا جائے کہ وہ یونین وائز یا وارڈ وائز ہفتہ وار بنیادوں پر گشت کرے اور اس وارڈ کے تمام لوگوں سے ملاقات کرکے ان سے ان کے مسائل پوچھے، اپنے علاقے میں ہونے والی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھے، تمام شہریوں کی مکمل تفصیلات اس کے پاس موجود ہوں، ہر واقعے پر رپورٹ تیار کرے اور تمام غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیوں پر فوری ایکشن لے۔

17۔ تمام پولیس اہلکاروں کو بااختیار بنایا جائے اور انہیں ہر قسم کے سیاسی تسلط سے آزاد کیا جائے۔ پولیس اہلکاروں کی قانونی ذمہ داری میں یہ شامل کیا جائے کہ وہ کسی بھی ممبر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، سینیٹ یا کسی بھی دوسرے محکمے کے اعلی افسر کی کسی بھی سفارش کو قبول نہیں کریں گے (اور اگر کسی نے ایسا کوئی کام کیا تو اسے کم ازکم ایک سال کےلیے معطل کیا جائے) اور اپنے ہی محکمے کے کسی بھی اعلی افسر کے غیر قانونی اور ناجائز حکم کو بھی قبول نہیں کریں گے۔

18۔ تمام پولیس اہلکاروں کو کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ اور دیگر ضروری سافٹ ویئر/ ایپس استعمال کرنے کی بھی تربیت دی جائے۔ فون کال پر دیئے جانے والے احکامات کو بذریعہ موبائل میسج، ای میل یا تحریری شکل میں بھیجنا لازمی قراردیا جائے۔ فون کال کے ساتھ ہی فوراً ثبوت کے طور پر ٹیکسٹ میسج یا ای میل بھیجنا لازمی قرار دیا جائے اور صرف اسی حکم کو قانونی درجہ دیا جائے جس کا تحریری ثبوت موجود ہو۔

19۔ مختلف اقسام کی تمام پولیس فورسز کو ایک ہی تھانے سے کنٹرول کیا جائے۔ ان کے الگ الگ ڈپارٹمنٹس کو ختم کرکے ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں مختلف شعبہ جات کی صورت میں قائم کیا جائے۔

20۔ جتنی بھی غیر ضروری اور فضول پولیس فورسز بنائی گئی ہیں، ان سب کا خاتمہ کیا جائے۔ مثلاً ڈولفن فورس وغیرہ۔

21۔ پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس قوانین میں تبدیلی کرکے پولیس کے غیر ضروری اختیارات اور طاقت کو بھی ختم کیا جائے۔ مثلاً بغیر وارنٹ گرفتار کرنا وغیرہ۔

22۔ پولیس کے عوام کے ساتھ وحشیانہ اور ظالمانہ سلوک کے خاتمے کےلیے قانون سازی کی جائے۔ کسی بھی شخص کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے، گالی گلوچ، مار پیٹ اور دیگر تمام اقسام کے غیر انسانی سلوک کرنے پر بلاامتیاز عہدہ و مرتبہ پولیس اہلکار کےلیے سخت سزائیں تجویز کی جائیں اور ان پر مکمل ایمانداری سے عمل کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی پولیس اہلکار کسی سیاسی دباؤ، خوف یا اپنے ذاتی مفاد کی خاطر یا ذاتی خواہش کی تسکین کےلیے غیر انسانی و غیر اخلاقی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرے۔

23۔ پولیس اہلکاروں کی تربیت کےلیے موجود پولیس اکیڈمی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔ اس میں موجود ٹریننگ ماڈیولز کو تبدیل کیا جائے، ٹریننگ ایکسپرٹس کو بھی تبدیل کیا جائے، مکمل طور پر نیا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے اور اس سلسلے میں پاکستان اور بیرون ملک کے بہترین اور ایماندار پولیس افسران کے ساتھ ساتھ قانون دانوں، ماہرین نفسیات، فزیکل ٹرینرز، آئی ٹی ایکسپرٹس، کرمنالوجسٹس، موٹیویشنل اسپیکرز وغیرہ پر مشتمل ٹریننگ اسٹاف مقرر کیا جائے اور اس کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *