اتوار, جون 21, 2026

صحافیوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ، سچائی تک رسائی سب سے بڑا چیلنج

کراچی: کراچی میں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ریجنل دعوۃ سینٹر سندھ کراچی میں منعقدہ تین روزہ اسلامی تربیتی پروگرام برائے صحافی و میڈیا پرسنز کے دوران مختلف مقررین نے اظہارِ خیال کیا ۔

مقررین نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے تیزی سے فروغ کے باعث صحافیوں کی ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے اور موجودہ دور میں خبروں کے ہجوم میں سچائی تک رسائی صحافت کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تحقیق، توازن، احتیاط اور پیشہ ورانہ دیانت داری کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ اسلام بھی خبر کی تصدیق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد چنہ نے کہا کہ ریجنل دعوۃ سینٹر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، طلبہ، طالبات اور پیشہ ور افراد کے لیے بلامعاوضہ تربیتی کورسز کا انعقاد کرتا ہے ۔ یہ کورس سندھ اور بلوچستان کے صحافیوں ، ابلاغ عامہ کے طلبہ کے لیئے منعقد کیا گیا ہے ۔ جنہیں تین دن یہیں رکھ کر مختلف لیکچررز کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے مسائل اور ان کے تدارک کی تربیت دی گئی ہے ۔

میڈیا میں قائدانہ کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے نثار موسیٰ بلوچ نے کہا کہ حقیقی قیادت درد، احساس اور مسلسل جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں، وی لاگر اور صحافی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وی لاگر زیادہ تر مشاہدات اور مقبولیت کے لیے کام کرتا ہے جبکہ صحافی کا اصل مقصد سچائی کو سامنے لانا اور عوام کی رہنمائی کرنا ہوتا ہے۔

صحافتی اقدار اور پیشہ ورانہ رویوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے تسنیم الحق فاروقی نے مطالعے، مسلسل سیکھنے اور مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال پر زور دیا ، بدلتے ہوئے حالات میں صحافیوں کو نئی مہارتیں حاصل کرنا ہوں گی تاکہ وہ جدید تقاضوں کا مؤثر انداز میں سامنا کر سکیں ۔ فیصل شہزاد نے حرمتِ قلم کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ قلم کی جگہ اب ڈیجیٹل ذرائع نے لے لی ہے، تاہم صحافیوں کی ذمہ داری کم نہیں ہوئی، سنسنی خیزی کی دوڑ میں معاشرے میں انتشار پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

سابق ڈائریکٹر شعبۂ ابلاغِ عامہ سندھ یونیورسٹی ڈاکٹر بدر سومرو نے کہا کہ سوشل میڈیا بعض اوقات استحصال کا ذریعہ بن جاتا ہے، اس لیے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر محمود غزنوی نے زور دیا کہ خبر نشر کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ معاشرتی انتشار کا سبب تو نہیں بن رہی۔

جدید صحافتی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی وی کراچی کے سینئر پروڈیوسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ سولنگی نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا اب ناگزیر حقیقت بن چکا ہے، اس کے ساتھ پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صحافیوں کو پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ادارے کے انچارج ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن نے کہا کہ قرآنِ کریم کی تعلیمات اور عملی زندگی میں اس کے اطلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات صحافیوں کو خبر کی تصدیق، سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ معلومات کی ترسیل کا درس دیتی ہیں ۔

ورکشاپ کے دوران پروفیسر سلیم مغل نے میڈیا اور پروپیگنڈا کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ جب کہ سینئر صحافی عظمت خان نے صحافیوں کو  این ای سی آئی اے سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ سے آگاہی حاصل کرنے اور ہر خبر میں تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف شامل کرنے کی تلقین کی ۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے ریجنل دعوۃ سینٹر سندھ کراچی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی صحافیوں اور طلبہ کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ ذمہ دار، باخبر اور پیشہ ور صحافت کو فروغ مل سکے ۔

معلوم رہے کہ اس ورکشاپ میں کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، میڈیا کارکنان اور جامعہ کراچی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کے طلبہ نے شرکت کی ۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے ریجنل دعوۃ سینٹر سندھ کراچی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی صحافیوں اور طلبہ کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ ذمہ دار، باخبر اور پیشہ ور صحافت کو فروغ مل سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں