جمعرات, اپریل 30, 2026

سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کی پاکستان سے اظہار یکجہتی

کراچی : فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی امن کی مضبوط آواز، سکھ فار جسٹس کا خراج تحسین اور پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے امریکہ سے کراچی پریس کلب میں بذریہ ویڈیو لنک پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ سید عاصم منیر کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیادت میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کو عبرت ناک شکست دی اور عالمی سطح پر اپنی طاقت منوائی۔

انہوں نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ ایران جنگ کے دوران دنیا میں امن کے لیے ایک توانا آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مرتبہ عاصم منیر کی خدمات کو سراہ چکے ہیں۔
پنوں کا کہنا تھا جب سے بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور اسے شکست ہوئی تب سے پاکستان گلوبل رائزنگ پاور بن کر سامنے آیا ہے۔

گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ خالصتان کے حامی سکھ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت دکھائی تو سکھ برادری پاکستان کا ساتھ دے گی۔ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کربھارت کامقابلہ کریں گے۔ 1947 میں سکھوں کو بھارت کے ساتھ نہیں جانا چاہیے تھا۔

سکھ فار جسٹس کے سربراہ نے “چالیسویں خالصتان ڈیکلریشن ڈے” کے موقع پر بھارت بھر میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹر رجسٹریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں اب تک 18 لاکھ سے زائد سکھ اس ریفرنڈم میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ دلی کے لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہرائیں گے ۔ضرورت پڑی تو خالصتان تحریک کے لئے پھر سے بندوق اٹھائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ووٹر رجسٹریشن کا عمل مرحلہ وار گوردواروں کے ذریعے شروع کیا جائے گا، جس کا آغاز دہلی، ہماچل پردیش اور ہریانہ سے ہوگا۔ تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب کو آزاد ریاست بنانے کی جدوجہد خالصتان کے قیام تک جاری رہے گی۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ خالصتان تحریک اب صرف ایک علاقائی نہیں بلکہ عالمی تحریک بن چکی ہے، اور اسے مزید وسعت دی جائے گی

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں