ہری پور : پاک آسٹریا فاخخشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کے میڈیکل کالج کے معاملے کا دوسرا رخ بھی سامنے آ گیا ۔ یونیورسٹی انتطامیہ نے عمر ایوب خان کو گمراہ کن معلومات دیکر دیگر سیاست دانوں سے الجھا دیا جس کی وجہ سے ہری پور کے نوجوانوں کا تعلیمی ادارہ سیاست کی نذر ہونے لگا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پاک آسٹریا فاخخشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کے میڈیکل کالج کی منظوری (ریکیگنیشن) کے لئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حکام کی جانب سے پاک آسٹریا میں جنوری 2026 میں پہلا وزٹ کیا گیا تھا جس میں پی ایم ڈی سی کی ٹیم غیر تسلی بخش انتطامات کی وجہ سے مطمئن نہیں ہو سکی تھی ۔
جس کے بعد پی ایم ڈی سی نے دوبارہ 14 اور 15 اپریل 2026 کو پاک آسٹریا کے میڈیکل کالج کا دوبارہ وزٹ کیا ۔اس وزٹ میں پاک آسٹریا کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو گمراہ کن اور غلط معلومات فراہم کی گئیں ۔ پی ایم ڈی سی کے سامنے جو میڈیکل اساتذہ کی لسٹ پیش کی گئی ، اس میں بیشتر میڈیکل اساتذہ ممبران کو سفارش پر بھرتی کیا گیا اور میرٹ کے بجائے براہ راست واک اینڈ انٹرویو کے ذریعے بھرتی کیا گیا ۔ بھرتی کرنے والے سلیکشن پینل میں صوبائی وزارت صحت ، پی ایم ڈی سی اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا ۔
پیش کردہ میڈیکل اساتذہ لسٹ میں موجود بعض اساتذہ دیگر نجی اور سرکاری اداروں میں ملازمت کر رہے ہیں ، جن کو پاک آسٹریا حکام نے بطور ممبر فکلیٹی ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ معاون اسٹاف میں بھی بیشتر ملازمین کو دیگر شعبہ جات سے نکال کر پی ایم ڈی سی کے وزٹ کے دوران میٖڈیکل کالج کا اسٹاف ظاہر کیا گیا ۔ مذید براں معاون اسٹاف کے بھرتی کا ریکارڈ بھی جعلی طور پر تیار کیا گیا ، کیوں کہ بیشتر معاون اسٹاف گزشتہ چار 5 برس سے پاک آسٹریا کے دیگر شعبہ جات میں ملازمت کر رہا ہے ۔
پاک آسٹریا کی جانب سے پی ایم ڈی سی حکام کو میڈکل کالج کی جو عمارت دکھائی گئی وہ بنیادی طور پر شعبہ فارمیسی کی عمارت ہے ، جس کے طلبہ کو پی ایم ڈی سی کے انسپکشن کی وجہ سے رخصت دی گئی تھی اور یوں فارمیسی کی عمارت کو میڈیکل کالج ظاہر کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ پی ایم ڈی سی کے انسپکشن کے لئے میڈیکل آلات وغیرہ بھی عارضی طور پر دیگر اداروں سے منگوائے گئے تھے ۔
چونکہ پاک آسٹریا کی انتظامیہ حالیہ انسپکشن سے بھی مطمئن نہیں ہے جس کی وجہ سے پاک آسٹریا حکام نے اپنی جعل سازی و نااہلی کو چھپانے کے لئے عمر ایوب خان کا سہارا لیکر انہیں گمراہ کن معلومات دے رہے ہیں ۔ جس کے بعد عمر ایوب خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے مذکورہ تعلیمی اور پروفیشنلی معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے ۔ یونیورسٹی حکام کی نااہلی کو سیاست دانوں کے سر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم عمر ایوب خان دانستہ یا غیر دانستہ طور پر یونیورسٹی حکام کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں ۔ یونیورسٹی حکام انہیں گمراہ کن معلومات مہیا کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاک آسٹریا فاخخشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر عمران خان کے ویژن کے مطابق اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے لئے انسٹیٹیوٹ بنایا گیا تھا ۔ تاکہ ہری پور اور مضافات میں حطار ، گدون امازئی سمیت دیگر انڈسٹریز اس سے مستفید ہو سکیں ۔ یہاں کے طلبہ کو پاکستان اور آسٹریا کی جامعات کی دہری ڈگریاں دی جا سکیں ۔ جس میں پاک آسٹریا فاخخشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی انتطامیہ مکمل طور پر ناکام رہی ہے ۔
اس ناکامی کو چھپانے کے لئے انسٹیٹیوٹ انتظامیہ نے میڈیکل کالج بنانے کا سہارا لیا ہے ۔ حالانکہ میڈیکل کالج پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ کا استحقاق ہی نہیں ہے ۔ انسٹیوٹ انتطامیہ نے انتہائی چالاکی ظاہر کر کے اس کو پرائیویٹ کالج ظاہر کرنے کی کوشش کی تاکہ ہر طالب علم سے 20 لاکھ روپے سے زائد فیس سالانہ لے سکیں ۔ جب کہ سرکاری سطح کے میڈیکل کالجز کی فیس 90 ہزار روپے سالانہ ہے ۔
حیران کن طور پر عمر ایوب خان مذکورہ کالج کو سرکاری کالج کہہ رہے ہیں جب کہ اس کا فیس اسٹرکچر پرائیویٹ کالجز کا ہے ۔ اس کی ایڈمنسٹریشن کالج کو نجی کالج کے طور پر منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ تاکہ طلبہ سے بھاری بھر کم فیسیں وصول کی جا سکیں ۔ اس حوالے سے کالج کے وائس پرنسپل اور ایسوسی ایٹ پروفیسر سالک کاکڑ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مجھے اس حوالے سے کوئی علم نہیں ہے کہ کالج کا کیا ایشو ہے ۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کے ایچ آر یا پرنسپل ڈاکٹر اظہر سے رابطہ کر لیں ۔
