Home پاکستان دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

4

کراچی : دعوت اسلامی کے ذیلی تعلیمی منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پاکستان کی مذہبی و فلاحی تنظیم دعوت اسلامی کے ایک تعلیمی منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

یہ الزامات تنظیم کے تعلیمی شعبے کے ذیلی ادارے دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس (DMIUUP) سے متعلق ہیں، جو تنظیم کے زیر انتظام اسکولوں کے لیے درسی کتب اور کاپیاں شائع کرتا ہے۔

دعوت اسلامی کیا ہے؟

دعوت اسلامی کا قیام 1981 میں مولانا محمد الیاس عطار قادری نے کیا تھا۔ تنظیم خود کو غیر سیاسی اور عالمی سطح پر سرگرم تبلیغی تحریک قرار دیتی ہے اور اس کے بقول وہ سو سے زائد شعبہ جات کے ذریعے دو سو سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے۔ اس کے تحت متعدد تعلیمی ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں۔

ٹینڈر کا اجرا اور ٹھیکے کی تفصیلات

دستاویزات کے مطابق 16 دسمبر 2025 کو ایک اشاعتی منصوبے کے تحت اردو، انگریزی اور ریاضی کی کاپیوں اور ہوم ورک ڈائریوں کی طباعت کے لیے کوٹیشن طلب کی گئیں۔ کوٹیشن جمع کرانے والی کمپنیوں میں DEPTH پبلشر، فیضان سیفی بک بائنڈر اور رضا کاپی ہاؤس پنجاب سمیت دیگر شامل تھے۔

مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے دی گئی کوٹیشن اور ریٹس کا عکس

دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس کی جانب سے 16دسمبر 2025کو پروجیکٹ 102شروع کیا گیا ۔ جس کے لئے وینڈرز سے اردو ، انگریزی ، ریاضی اور ہوم ورک ڈائری شائع کرنے کیلئے کوٹیشن طلب کی گئیں ۔ اردو کیلئے 160 صفحات کی سنگل لائن کی 90 ہزار کاپیاں ، انگریزی کے لئے سرخ اور نیلی رنگت کی چار لائینوں والی 160 صفحات کی 25 ہزار کاپیاں ، ریاضی کیلئے درمیانے سائز کی 160 صفحات پر مشتمل 10 ہزار کاپیاں اور 152 صفحات پر مشتمل 16 ہزار ہوم ورک ڈائریوں کے لئے وینڈرز نے کوٹیشن ارسال کر دیں ۔ کوٹیشن دینے والوں میں DEPTH PUBLISHER، فیضان سیفی بک بائنڈر ، رضا کاپی ہائوس پنجاب سمیت دیگر نے ریٹ جاری کئے۔ جس میں دیگر چند کی طرح رضا کاپی ہائوس نے فی کاپی کے ریٹ 90 اور ڈائری کے ریٹ 105 روپے دیئے ، فیضان سیفی بک بائنڈر نے 98 روپے فی کاپی اور ڈائری کے ریٹ 105 روپے جب کہ DEPTH پبلشر نے کاپی کے ریٹ 94 روپے اور ڈائری کے ریٹ 106 روپے دیئے ۔

الزام ہے کہ:

  • بعض کمپنیوں نے اپنی بولی میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس شامل کیا۔
  • تاہم DEPTH پبلشرنے مبینہ طور پر ٹیکس شامل کیے بغیر نرخ جمع کرائے۔
  • اس کے باوجود ٹھیکہ DEPTH پبلشرز کو دے دیا گیا۔
  • کمپنی کو مبینہ طور پر 70 فیصد پیشگی ادائیگی کی گئی۔

دستاویزات کے مطابق تقریباً 93 لاکھ 12 ہزار روپے کے چار چیکس جاری کیے گئے۔

DEPTH پبلشرسے متعلق الزامات

دستاویزات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ DEPTH پبلشر:

  • بطور پبلشنگ ادارہ عملی طور پر فعال نہیں ہے۔
  • کمپنی کے کاغذات میں دفتر کا پتہ درج ہے، تاہم موقع پر ایسا دفتر موجود نہیں ہے۔
  • کمپنی کی رجسٹریشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ریجنل ٹیکس آفس 2 میں جولائی 2023 میں ہوئی۔
  • کمپنی کے ڈائریکٹر محمد اویس ماضی میں اسی تعلیمی منصوبے سے وابستہ رہے اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے بعد علیحدہ ہوئے۔

مزید یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کے نام پر جاری چیکس بعد ازاں دیگر اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔

ڈیپتھ پبلشر کو جاری کردہ چیکس کی تصاویر

انتظامیہ کا مؤقف

دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پریس کے ہیڈ آفس میں رابطہ کرنے پر سی ای او ڈاکٹر دانش گوڈیل اور دیگر ذمہ داران نے الزامات کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ:

"جب تک ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے جاتے اور معلومات کے ذرائع نہیں بتائے جاتے، ہم اس حوالے سے مؤقف نہیں دیں گے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنظیم کا باقاعدہ آڈٹ نظام موجود ہے اور تمام امور شورائی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔

ممکنہ تحقیقات

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے پر متعلقہ ٹیکس اداروں کی سطح پر ابتدائی جانچ پڑتال متوقع ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

دعوت اسلامی کی جانب سے جاری کردہ عمومی مؤقف کے مطابق تنظیم شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر کاربند ہے۔

NO COMMENTS