اسلام آباد : آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں کرپشن کو مستقل چیلنج قرار دیئے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت کی گئی ہے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر قانون و انصاف سنیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کرپشن اورمنی لانڈرنگ کے خلاف 15 رکنی اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ۔
کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون و انصاف، سیکرٹری خزانہ، سیکریٹری آئی ٹی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی نیب، ڈی جی اے این ایف، چیئرمین ایس ای سی پی،چیئرمین سی سی پی اور ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ بطور ارکان شامل ہیں۔
اسی طرح ڈی جی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی، پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا نمائندہ ، ممبر ایف بی آر اور ڈی جیز اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کمیٹی ارکان کا حصہ ہیں۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ پاکستان میں کرپشن کی کمزوریاں حکومت کی ہر سطح پر موجود ہیں ۔ذرائع کے مطابق ڈی جی اینٹی منی لانڈرنگ اینڈکاونٹر فنانسنگ آف ٹیررارزم کمیٹی کے لیے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے۔
جب کہ نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاونٹر فنانسنگ آف ٹیررارزم اتھارٹی کمیٹی کے لیے سیکریٹرل سپورٹ فراہم کرے گی ۔ کمیٹی سہ ماہی بنیادوں پر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی ۔
