Home پاکستان سکول چوکیدار کی ساتھیوں کے ہمراہ طالب علم سے گن پوائنٹ پر...

سکول چوکیدار کی ساتھیوں کے ہمراہ طالب علم سے گن پوائنٹ پر بدفعلی

ہری پور: سکول چوکیدار کی ساتھیوں کے ہمراہ طالب علم سے گن پوائنٹ پر بدفعلی، بلیک میلنگ پر مقدمہ درج

شہریوں کا خیبرپختونخوا کے سکولوں میں لڑکوں کے لیے بھی اینٹی ہراسمنٹ سیل قائم کرنے کا مطالبہ

ہری پور (نمائندہ خصوصی): گورنمنٹ ہائی سکول ڈھینڈہ میں نویں جماعت کے طالب علم کو گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ تھانہ کھلابٹ ٹاؤن شپ پولیس نے متاثرہ طالب علم کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے سکول کے چوکیدار سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق، گورنمنٹ ہائی سکول ڈھینڈہ کے نویں جماعت کے طالب علم عکراش عزیز (ولد نوید احمد میر) کو سکول کا چوکیدار ایمان ملک (ولد خورشید) بہانے سے اپنے گھر لے گیا۔ گھر کی بیٹھک میں عبید (ولد ربنواز) نامی شخص پہلے سے موجود تھا۔ دونوں ملزمان نے طالب علم پر پستول تان کر اسے زبردستی بدفعلی کا نشانہ بنایا، جبکہ ایمان ملک نے اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ ملزمان نے طالب علم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ یہ ویڈیو فیس بک پر وائرل کر دیں گے۔

خوفزدہ طالب علم نے خاموشی اختیار کر لی، تاہم کچھ عرصہ گزرنے کے بعد عمر (ولد شیر محمد)، حسین عارف (ولد محمد عارف)، نذیر شاہ (ولد تنویر شاہ)، اور زوہیب سمیت 4 مزید نامعلوم لڑکوں نے اسے ڈھینڈہ کے مقام پر روکا اور بلیک میل کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اس کی ویڈیو ان کے پاس موجود ہے۔ بلیک میلنگ سے تنگ آ کر عکراش عزیز نے تمام واقعہ اپنے والدین کو بتا دیا، جس کے بعد اس کے والد نے تھانہ کھلابٹ ٹاؤن شپ میں واقعے کی رپورٹ درج کروائی اور میڈیکل کروانے کی درخواست دی۔

تھانہ کھلابٹ ٹاؤن شپ پولیس نے واقعے کا مقدمہ (رپورٹ نمبر 349) زیرِ دفعہ 375-A اور 53 CPA درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم (سکول چوکیدار ایمان ملک) سمیت دیگر افراد کو گرفتار کر لیا تھا، تاہم بعد ازاں بعض افراد کے ضمانت پر رہا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس لرزہ خیز واقعے کے بعد ہری پور کے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں، لڑکیوں کی طرح لڑکوں کے تحفظ کے لیے بھی ہراسمنٹ شکایات کا ایک خصوصی سیل (Anti-Harassment Cell) قائم کیا جائے تاکہ بچوں کو ایسے درندوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

NO COMMENTS

Exit mobile version