کراچی : پنجاب میں ای او بی آئی کے مختلف ریجنل آفسوں میں کنٹری بیوشن کی وصولی کے نام پر بڑے پیمانے پر کرپشن کا کھیل حسب معمول جاری ہے، جس کے باعث سینکڑوں اداروں کے ہزاروں پرائیویٹ ملازمین اور ان کے لواحقین پنشن کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔
ایک حالیہ واقعہ کے مطابق ریجنل آفس فیصل آباد نارتھ کی جانب سے 10فروری 2025 کو ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کمپنی میسرز ڈان پلاسٹک انڈسٹری گوجرانوالہ رجسٹریشن نمبر BJA02252 کو ان کے 170رجسٹرڈ ملازمین کی مد میں واجب لادا کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لئے 9,378,800, روپے پر مشتمل ایک ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا ۔
اس نوٹس میں 6,976,800 روپے کمپنی اور ملازمین کے کنٹری بیوشن حصہ کا کنٹری بیوشن اور تاخیر سے ادائیگی پر دو فیصد جرمانے کی رقم 2,402,100 روپے شامل تھی ۔ ابتداء میں ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے اس کمپنی کے ریکارڈ کی چیکنگ کے لئے ایک دو رکنی کمیشن قائم کیا تھا لیکن وہ کرپٹ افسران کی ناپاک خواہشات پر پورا نہیں اتر سکا۔
جس کے بعد ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی لاہور کے کرپٹ افسر کی شہرت رکھنے والے موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل احمد حسیب نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت 6 جولائی 2026 کو اس کمپنی کے مالکان سے جوڑ توڑ کرنے اور من مانی ڈیل کے لئے ایک لاڈلے افسر ابوبکر سلیم ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس پر مشتمل یک رکنی کمیشن کی تشکیل دیا جس نے میسرز ڈان پلاسٹک انڈسٹری گوجرانوالہ کے خلاف جاری 93 لاکھ روپے کے واجب الادا کنٹری بیوشن کے ڈیمانڈ نوٹس کی ڈیل معمولی رقم کے عوض کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے ۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل احمد حسیب ماضی میں ریجنل آفس گوجرانوالہ کرپشن کیس میں ملوث رہا ہے ، اس کے خلاف ایف آئی اے نےایف آئی آر درج کی تھی ہے اور وہ اس مقدمہ میں ضمانت پر ہے ۔جب کہ ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس ابوبکر سلیم بھی پچھلے دنوں ریجنل آفس شاہدرہ میں جعلی پنشن اسکینڈل میں نہ صرف ملزم کی حیثیت سے تادیبی کارروائی کا سامنا کر چکا ہے بلکہ ایف آئی اے کی حالیہ ایف آئی آر میں تاحال زیر تفتیش بھی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ ابوبکر سلیم انتظامیہ کا بیحد لاڈلہ افسر اور لاہور میں چیئرمین ای او بی آئی ڈاکٹر جاوید شیخ کا پروٹوکول افسر بھی بنا ہوا ہے اور اہل نہ ہونے کے باوجود ادارہ کی سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے ۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے چھاپہ کے خوف سے مذکورہ کمپنی کے مالکان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ابوبکر سلیم کے درمیان یہ ڈیل ای او بی آئی کے آفس کے بجائے ڈائیو بس اسٹینڈ پر طے ہوئی ہے ۔
کیونکہ پچھلے دنوں ای او بی آئی میں رجسٹرڈ تین اداروں کے مالکان کی جانب سے کنٹری بیوشن کی وصولیابی کے نام پر بعض اعلیٰ افسران کی جانب رشوت طلب کرنے کی شکایت پر ایف آئی اے پنجاب کی ٹیم نے ریجنل آفس لاہور ساؤتھ، رریجنل آفس شاہدرہ اور ریجنل آفس فیصل آباد سنٹرل میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد رشوت خور افسران کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا ۔جن کے خلاف ایف آئی اے نے ایف آئی آر بھی آر درج کی ہیں لیکن انتہائی بااثر اور کرپٹ افسران اپنی ضمانتیں کرا چکے ہیں ۔
ای او بی آئی کے حلقوں نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور وفاقی سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری سے ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی لاہور میں کرپٹ ٹولہ کی جانب سے جاری بھاری کرپشن کی روک تھام کے لئےفوری طور پر تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ پرائیویٹ سیکٹر کے ہزاروں ملازمین اور ان کے لواحقین پنشن کے حق سے محروم نہ رہ جائیں ۔
