کراچی : جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک کے گیارہویں روز بھی اساتذہ کی جانب سے امتحانات کے بائیکاٹ، تدریسی سرگرمیوں کی معطلی اور جامعہ بھر میں ہڑتال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران اساتذہ، افسران، ملازمین، طلبہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے جامعہ کو درپیش سنگین مالی و انتظامی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک اساتذہ، ملازمین اور افسران کے جائز مطالبات، واجبات اور مالی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحران صرف ملازمین یا اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ جامعہ کراچی کے اور اس کے طلبہ کے مستقبل، تعلیمی وقار اور ادارہ جاتی استحکام کا معاملہ ہے۔
احتجاج میں شریک افراد نے جامعہ کے مجموعی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر مختلف تنظیموں اور شعبہ جات سے وابستہ افراد نے احتجاج میں بھرپور شرکت کر کے مشترکہ جدوجہد کے عزم کو دہرایا۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے واضح کیا کہ مذاکرات اور احتجاج کے باوجود تاحال مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث احتجاجی تحریک میں مزید شدت لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں آج انجمن اساتذہ کی ایگزیکٹو کونسل (EC) کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
مظاہرین نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ جامعہ کراچی کے بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے اور فوری بنیادوں پر عملی اقدامات کرتے ہوئے جامعہ کو مالی و انتظامی عدم استحکام سے نکالا جائے۔
