اسلام آباد : ریاض عرف نازی کے قتل میں نامزد ارشد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ، خانپور پولیس نے ایک بار خود کو جعلی مقابلے سے بچانے کے لیئے مذید ٹیکنیکلی سمن کے نام پر ریاض عرف نازی کی والدی سے دستخط کرانے کی کوشش کی ہے جس کو وکلا کی مدد سے ناکام بنا دیا گیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق خانپور پولیس کے اُس وقت کے ایس ایچ او اعجاز خان اور خانپور پولیس اسٹیشن کے انوسٹی گیشن انچارج عباس خان نے پولیس پارٹی کے ہمراہ 10 اپریل کو رات ساڑھے 9 بجے سے 10 بجے کے درمیان کھیدو پنجو گاؤں میں قتل کے ملزم ملک ریاض عرف نازی کے لئے چھاپہ مارا جہاں پر ریاض اور اس کے بہنوئی ارشد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ارشد اور اس کے اہلخانہ کے مطابق پولیس نے ملزم ریاض عرف نازی کو پنجو قبرستان میں لے جا کر گولیاں ماریں جس کی وجہ سے خون بہہ جانے کے سبب ریاض عرف نازی دم توڑ گیا جس کو پونے 12 بجے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال خانپور مردہ حالت میں پہنچایا گیا تھا۔
جس کے بعد نعش کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا ۔ 11 مئی کی رات گئے خانپور پولیس نے سرکار کی مدعیت میں ایک اور مقدمے کا اندراج کیا ، جس میں ریاض عرف نازی کی ہلاکت کا الزام اس کے بہوئی ارشد پر لگا دیا تھا اور اس کی گرفتاری ظاہر کرکے ریمانڈ کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔
جیل جانے کے بعد ارشد نے ہری پور کے کرائم رپورٹر حارث ایوب سواتی کو انٹرویو دیا جس میں ارشد نے انکشاف کیا کہ سنجلیالہ داخلی جب کے رہائشی فرزان ولد ہادی زمان کو اس نے اس وقت دیکھا تھا جب اسے اور ریاض عرف نازی کو علیحدہ علیحدہ پولیس گاڑیوں میں ڈالا گیا تھا اور گاڑیاں کسی کا انتظار کر رہی تھیں کہ ایک ہائی روف آیا جس میں فرزان ولد ہادی موجود تھا جس کے بعد ریاض عرف نازی کی گاڑی کو بہادر پور چوک کی جانب لے جایا گیا تھا اور اسے خانپور تھانے کی جانب لے جایا گیا تھا۔
بعد ازاں 11 مئی کو جنازے کے بعد فرزان ولد ہادی زمان نے تھانے آ کر ارشد کو کہا کہ صلح کر لو اور آپ کو یہیں سے چھڑوا کر لے جاتا ہوں ۔ جس کے بعد ارشد نے فرزان کو منع کر دیا میں کس حیثیت میں صلح کر لوں ۔ اس کے بعد خانپور ایس ایچ او اعجاز خان نے مقدمہ درج کر لیا تھا۔
تاہم 20 روز بعد ارشد کے وکیل موسی خان نے ارشد کی ضمانت کے لئے ہری پور ضلعی مجسٹریٹ تھری میں درخواست ضمانت دائر کی ۔ جس کے بعد جمعہ یکم مئی کو ڈی جے تھری نے ارشد کو ضمانت دے دی اور 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے بعد منگل کو ارشد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ادھر اس وقت حیران کن صورت حال سامنے آئی جب کہ خانپور پولیس کے آئی او عباس خان کی طرف سے اس کیس میں ٹیکنیکلی طور پر کھیلنے کی بھر پور کوشش کی ۔ عباس خان نے سمن کے نام پر دو اہلکاروں کو سجلیالہ میں ریاض عرف نازی کے گھر روانہ کیا اور ایک سمن نما تحریر پر دستخط اور انگوٹھے لگانے کا کہا تاہم اس واردات کو ناکام بنا دیا گیا۔

معلوم رہے کہ اس سمن کو بظاہر نوٹس طلبی کا نام دیا گیا تھا ۔ تاہم اس میں پولیس نے جعلی مقابلے کو چھپا کر ارشد کو قتل کا ذمہ دار لکھا تھا اور ریاض عرف نازی کی والدہ مسماۃ پروین جان بیوہ اللہ داد سے انگوٹھا اور دستخط کرانا تھا تاکہ ورثا کی جانب سے اس تحریر پر دستخط اور انگوٹھے کو ٹرائل کورٹ میں پولیس کہہ سکے کہ واقعی لیگل ہیئرز کا سمن لیکر آئے اور اس میں ٹیکنیکلی طور پر پولیس اپنے درج کردہ بیان کی توثیق کرا لیتی جس کو ٹرائل کورٹ میں والدہ کا بیان ظاہر کیا جانا تھا ۔