ہری پور : پاکستان ریلورے نے پاک آسٹریا کے غیر متعلقہ ایم ایس پروگرام کی فنڈنگ روک کر طلبہ/ریلوے افسران کو واپس بلا لیا ۔ یونیورسٹی کی جانب سے ریلوے کے ملازمین کو 16 سے 20 لاکھ روپے میں ایم ایس کورس کرایا جاتا تھا ۔
تفصیلات کے مطابق پاک آسٹریا فاخخشولے انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی منظوری کے بعد ریلوے افسران کیلئے کورس متعارف کرایا تھا جس کا مقصد ریلوے کے ریٹائرڈ افسر کو نوازنا تھا ۔ پاک آسٹریا کے خلاف ضابطہ تعینات پروجیکث ڈائریکٹر کی ایماء پر پاکستان ریلوے کے ریٹائرڈ جنرل منیجر اشفاق خٹک کو یونیورسٹی میں بھاری تنخواہ پر 2020 میں ایڈوائزر تعینات کیا گیا تھا ۔
6 لاکھ روپے تنخواہ پر بھرتی ہونے والے اشفاق خٹک کی تعلیم 16 سالہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں تھی ۔ اور ان کو یونیورسٹی نے بغیر پی ایچ ڈی ‛ تجربے اور اشتہار کے براہ راست پروفیسر بھرتی کر لیا تھا ۔ پاکستان بھر کی جامعات میں بھرتی ہونے والے پروفیسرز میں یہ اکلوتی و منفرد ترین مثال تھی کہ افسر ریٹائرڈمنٹ کے بعد براہ راست پروفیسر بھرتی ہوا تھا ۔

بھرتی ہونے والے افسر اشفاق خٹک نے یونیورسٹی میں اپنی پروفیسر شپ کو جواز بخشنے کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اکیڈمک کمیٹی سے منظوری کے بعد ریلوے کی فنڈنگ سے ملازمین کو ایم ایس / ایم فل برائے ریلوے انجنیئرنگ سسٹم کرانے کیلئے کورس شروع کرایا تھا ۔ جس کیلئے پاکستان ریلوے نے یونیورسٹی کو ساری فنڈنگ کی تھی ۔
کورس کی تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے پاک آسٹریا کو فی طالبعلم 16 سے 20 لاکھ روپے فیس ادا کرتا تھا ۔ بعد ازاں پاکستان ریلوے کو شکایات موصول ہوئیں اور حقیقت معلوم ہونے کے بعد وزارت ریلوے کے سیکرٹری نے یونیورسٹی کو خط لکھ کر 13 سینئر افسران کو فی الفور واپس جوائننگ کا حکم دے دیا ہے تاکہ کیڈر افسران اپنی اپنی ڈیوٹی سر انجام دے سکیں ۔ اور یونیورسٹی کے اس انوکھے کورس کب فنڈنگ بھی ختم کر دی ہے ۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ یونیورسٹی نے ایم ایس ریلوے انجینئرنگ سسٹم کیلئے جس کورس کی منظوری کرائی تھی ۔ وہ کورس پڑھایا ہی نہیں جاتا تھا ۔ اکیڈمک کونسل کو جو فکیلٹی ظاہر کی گئی تھی وہ فکیلٹی یونیورسٹی میں موجود ہی نہیں تھی جبکہ خود پروفیسر اشفاق خٹک کی ڈگری بھی انجنیئرنگ کے بجائے پبلک ایڈمنسٹریشن کی تھی ۔
