اتوار, مارچ 8, 2026

اصل ٹارگٹ خلیجی ممالک ؟

اصل ٹارگٹ خلیجی ممالک ؟

ایران اور اسرائیل کی جنگ کو عام طور پر صرف دو ملکوں کے درمیان لڑائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اگر میزائل اور ڈرون حملوں کے ٹھوس اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے ۔

ایران نے اسرائیل پر اب تک تقریباً 200 کے قریب بیلسٹک میزائل اور چند درجن ڈرون حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے بڑی تعداد کو تباہ کر دیا اور محدود میزائل ہی اسرائیلی سرزمین تک پہنچ سکے۔

لیکن جب خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کو دیکھا جائے تو صورتحال بالکل ہی مختلف نظر آتی ہے۔

صرف 4 خلیجی ممالک کے اعداد و شمار یہ ہیں:

متحدہ عرب امارات

196 بیلسٹک میزائل…. 1072 ڈرون۔

قطر

101 بیلسٹک میزائل اور 39 ڈرون… 2 سخوئی جنگی طیارے

بحرین

74 میزائل اور 123 ڈرون

کویت

178 بیلسٹک میزائل اور 384 ڈرون

اگر مجموعی تعداد دیکھی جائے تو خلیجی ممالک کی طرف تقریباً 549 بیلسٹک میزائل اور 1618 ڈرون بھیجے گئے۔

یعنی سادہ الفاظ میں:

اسرائیل پر تقریباً 200 میزائل جبکہ خلیجی ممالک پر 500 سے زیادہ میزائل۔ اسی طرح ڈرون حملوں کی تعداد بھی خلیج میں کئی گنا زیادہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے تو میزائلوں اور ڈرونز کا سب سے بڑا دباؤ خلیجی ممالک کیوں برداشت کر رہے ہیں؟ ۔

اعداد و شمار ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں : اس جنگ کی سب سے بڑی عسکری قیمت خلیجی ممالک ادا کر رہے ہیں ۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ … اس جنگ کا اصل ٹارگٹ کون ہے ؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں