تحریر : فارینہ حیدر
ڈیڑھ سال پہلے جب ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو گرفتار کیا گیا تو ملک میں ایک طوفان اٹھ گیا۔ تجزیے شروع ہوئے جھوٹی سچی خبریں دی گئیں ۔ کہا گیا فیض صاحب نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا سیاست میں مداخلت کی ملک میں سسٹم چلایا ایسا سسٹم جس میں سامنے سیاسی قیادت اور پشت پر فوجی قیادت تھی زمینوں پر قبضے کیے اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی حساس ملکی معلومات اپنے پاس رکھی وغیرہ وغیرہ ان تمام الزامات پر کیس چلا اور ایک ماہ پہلے ان کا کورٹ مارشل ہوگیا، جس میں چودہ سال قید با مشقت، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کو ضبط کرنا فوجی اعزازات کو واپس لینا شامل ہے ، ان کے ساتھ ساتھ ان کے بھائیوں کو بھی سزا سنائی گئی ہے کیونکہ وہ بھی سرکاری ملازم تھے اور غالباً اسلام آباد میں پٹواری تھے ۔ اس پورے قصے میں جو معلومات اکھٹی ہوئی وہ بہت مفید اور ملکی تاریخ کا حصّہ قرار پائی ۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یوٹیوب چینلز پر ریٹائرڈ افسران کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی جن کی اکثریت اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھتی ہے ۔ ان یوٹیوبرز نے فوج کا انتہائی پیچیدہ نظام عوام کو آسان اور درست انداز میں سمجھایا ورنہ شاید ہم اس پیچیدہ نظام کو کبھی نہیں سمجھ سکتے ۔ان ہی یوٹیوبرز کی مدد سے ہمیں معلوم ہوا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ سویلین عہدہ ہے۔ یہ فوج کا ڈومین نہیں جیسا کہ آپ بھارت میں دیکھتے ہیں ،را کا ہیڈ سویلین اسٹیبلشمنٹ کا افسر ہوتا لہذا اس عہدے کے لیئے زیادہ تر پولیس کیڈر سے افسران لیئے جاتے ہیں اسی طرح امریکہ کی سی آئی اے یا ایف بی آئی کا عہدہ ہے اس میں بھی سویلین کیڈر کے افسران ہوتے ہیں یہی حساب پاکستان کابھی ہے ، چونکہ پاکستان میں مارشل لاء طویل مدت تک رہا اور فوج کا اثرورسوخ زیادہ ہے اس لیئے یہ پوسٹ بھی فوج ہی لیتی ہے جس کی وجہ سے فوج کا اثرورسوخ سول اداروں پر قائم رہتا ہے ۔ ہمارے نزدیک اس پوسٹ پر سول اداروں کی استطاعت اور قابلیت اتنی کم کردی ہے کہ اب اس پوسٹ پر سول اداروں کا کام کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، پولیس سے لیکر کوئی ڈیپارٹمنٹ بھی دیکھ لیں ، نہ پروفیشنلزم ہے اور نہ ہی قابلیت کیونکہ اکثریت کی بھرتی اور پروموشن سفارش اور رشوت پر ہورہی ہے اگر بدقسمتی سے کوئی قابل افسر سول سروس میں آجائے تو سب کی کوشش ہوتی ہے کہ جس پوسٹ پر آیا ہے اسی پر ریٹائرڈ ہو جائے۔ دنیا کو پروفیشنلزم بھی دکھانا ہے تو صرف ایک فوج ہی بچتی ہے جس کے افسران کو اس پوسٹ کے لیئے فٹ قرار دیا جاتا ہے ۔
جب اس عہدے پر ہم غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آرمی چیف کی اکثریت اس عہدے پر کام کرتی ہوئی آرہی ہے اور اس کی پروجیکشن بھی زیادہ ہے ۔ جو اس عہدے پر کام کرتے ہیں ان کے سیاسی پارٹیوں سے روابط بھی زیادہ ہوتے ہیں اسی وجہ سے یہ عہدہ ہمیشہ تنازعے کا شکار رہتا ہے اس لئیے جو ترقی پاتے ہیں ، ان کے زاتی روابط سیاسی جماعتوں سے صرف قائم نہیں ہوتے بلکہ خراب بھی ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں فوج کے سیاسی کردار پر انگلی اٹھتی ہے اور پولیٹیکل انجینئرنگ کی بات ہوتی ہے ۔
اس سارے قصے سے بچا کیسا جائے اب اس کو سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ جنرل مشرف کے مارشل لاء کے بعد پاکستان میں نہ مکمل جمہوریت رہی نہ مکمل مارشل لاء اور اس طرز حکومت کو ہائبرڈ ڈیموکریسی کہتے ہیں ۔بھارت ہم سے آگے ہے اور وہ ہائبرڈ ڈیموکریسی سے اگے نکل چکا ہے ۔اسوقت بھارت میں ڈیفیشنٹ ڈیموکریسی یا ناقص جمہوریت ہے یعنی ایسی جمہوریت جس میں عیوب تو ہے لیکن عوام کے من پسند نمائندوں کو حکمرانی ، قانونی سازی اور بولنے کا حق ہے۔ میڈیا اور عوام کو اظہارِ رائے کا حق ہے لیکن کسی حد تک محدود،اسی طرح گورنس کے مسائل ہیں ،بھارت نے اپنی 1.5 ارب کی آبادی کو کسی حد تک سنبھال لیا ہے اور اب وہ دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت کہلاتے ہیں اس وقت ڈیموکریسی میں ان کی رینکنگ ہم سے بہتر ہے یہاں یہ بات واضح کردیتے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ووٹنگ سسٹم کا مضبوط ہونا ہے اور عوام کے من پسند نمائندوں کا اسمبلیوں تک پہنچنا اور آزادی رائے ہے ۔اس کا معاشی طاقت بننے سے کوئی تعلق نہیں جبکہ بنگلہ دیش کی حالت بری ہے اور عالمی انڈکس کے مطابق دو سال پہلے تک بنگلہ دیش میں ڈیفیشنٹ ڈیموکریسی تھی اور اب درمیانے درجے کا مارشل لاء ہے جسے ماڈریٹ آٹوکریسی کہتے ہے بنگلہ دیش کی جمہوریت اب چار انڈکس مزید گر چکی ہے۔
۔ پاکستان میں ہم باجوہ ڈاکٹرائن کا شہرہ 2016 سے سن رہے تھے دراصل وہ ہائبرڈ رجیم تھا یعنی آگے سیاسی قیادت اور پیچھے فوجی قیادت اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کیا اب بھی ہائبرڈ ڈیموکریسی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ہائبرڈ ڈیموکریسی بھی ختم ہوگئی اور جمہوریت کے عالمی انڈکس کے مطابق 2022 سے پاکستان میں فل آٹو کریسی جسے ہم آٹو کرین یا اردو میں آمرانہ طرز حکومت کہتے ہے وہ رائج ہے ، یعنی ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہمیں جو ہائبرڈ ڈیموکریسی کی داستان سنارہی ہے وہ تو تین سال ہوئے قصہ پارینہ ہوچکی ، ہم تین سال سے آمرانہ حکومت میں رہ رہے ہیں اور عالمی انڈکس میں ڈھائی فیصد نیچے گر چکے ہیں ۔اسوقت ترکی ہائبرڈ ڈیموکریسی میں ہے ہم نہیں ۔ ہائبرڈ رجیم کی آخری حکومت تحریک انصاف کی تھی اس کے بعد جو حکومتیں آئیں ہیں یا 2024 کے الیکشن سے جو حکومت وجود میں آئی ہے وہ مکمل پر آٹوکریسی کی حکومت ہے ۔
پاکستان کا طرز حکومت بدلنا مشکل ہوگیا ہے ہمارا نظام ہائبرڈ ڈیموکریسی اور فل آٹو کریسی کے بیچ میں چل رہا تھا لیکن نظام اب مکمل طور گر چکا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سسٹم میں بہتری کیسے لائی جائے اور اسٹیبلشمنٹ کا اثرورسوخ سویلین اداروں پر کیسے کم کیا جائے۔ اس کا حل بہت آسان ہے لیکن عمل تھوڑا مشکل۔ حل یہ ہے کہ جو آفیسر آئی ایس آئی کے ڈی جی کی حیثیت سے آرہے ہیں انہیں مستقبل میں آرمی چیف کی دوڑ سے باہر کرنا چاہے۔ یہاں یہ بات بھی بتاتے چلے کہ امریکہ میں بھی اب مکمل جمہوریت نہیں ہے بلکہ عالمی انڈکس کے مطابق امریکہ میں بھی ناقص ڈیموکریسی یا ڈیفیشنٹ ڈیموکریسی ہے ، ناقص جمہوریت کا مطلب ہے کہ ایسی جمہوریت جس میں عوام کو اپنے پسندیدہ نمائندے چننے کا حق ہے لیکن ان ممالک میں گورننس، عوام کی جمہوری عمل میں حصہ داری اور آزاد میڈیا کے حقوق کم ہے امریکہ میں جمہوریت میں گراوٹ 2016 سے ہونا شروع ہوئی جو بتدریج جاری ہے جبکہ جس گرین لینڈ کو امریکہ خریدنے کی بات کر رہا ہے وہ ڈنمارک کا حصہ ہے جہاں مکمل جمہوریت ہے جسے ورکنگ ڈیموکریسی یا مکمل ڈیموکریسی کہتے ہیں یعنی ایسی جمہوریت جہاں صرف آزادی سے عوامی نمائندوں کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ ہر عمل میں جمہور کی رائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جاتا اسوقت یورپ کے اکثریتی ممالک میں مکمل جمہوریت ہے اور امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ کا یورپی ممالک سے اسی وجہ سے تنازعہ رہتا ہے، یورپی ممالک صدر ٹرمپ کے بہت سے فیصلوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور عوامی حقوق، علاقائی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے جبکہ یو اے ای ، سعودیہ عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں بادشاہت ہے اور افریقی مسلم ممالک میں فل آٹوکریسی ہے ۔
پاکستان میں جو جمہوریت اور اداروں میں تنزلی آئی ہے اس کی وجہ امریکہ کے زیر اثر رہنا بھی ہے ، بھارت نے امریکہ کے اثر سے اپنے آپ کو بہت اچھے طریقے سے باہر نکالا ہے اور اسوقت جمہوری انڈکس کے مطابق بھارت اور امریکہ دونوں میں ناقص جمہوریت رائج ہے اور دونوں میں کچھ ہی انڈکس کا فرق ہے جبکہ امریکہ کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے اور ہم دوبارہ اسی٘ کی دہائی میں واپس پہنچ چکے ہیں ۔
اس واپسی کے سفر نے ہمیں خطرناک صورتحال سے دوچار کردیا ہے کیونکہ جس اشرافیہ کو ضیائی مارشل لاء کے بعد پیچھے دھکیلا گیا تھا ، امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کونڈا لیزا رائس کے معاہدے a US-brokered power-sharing deal 2007, جو کہ جنرل مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان کرایا گیا تھا ، اس نے اشرافیہ کی واپسی پوری طاقت سے واپس کرائی ہے اور پاکستان نوے فیصد امریکہ کی سرپرستی میں چلا گیا ہے ۔جس کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی ترقی بلکل رک گئی ہے،چونکہ سول ادارے خودمختار نہیں اور احتساب کا عمل رک چکا ہے تو سماجی اور اخلاقی گراوٹ عروج پر ہے۔ اگر ہمیں ان تمام مسائل سے نکلنا ہے تو ہمیں 2007 کے امریکی معاہدے سے نکلنا ہوگا اور سیاست میں فوج کے کردار کو کم کرنا ہو گا۔
