Home پاکستان چیئرمین FBR کیخلاف بھی سنگین الزامات سامنے آ گئے

چیئرمین FBR کیخلاف بھی سنگین الزامات سامنے آ گئے

کراچی : فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے موجودہ چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کے خلاف بدعنوانی، ہراسانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر مشتمل ایک تفصیلی اور جامع رپورٹ سامنے آ گئی ہے ۔ یہ رپورٹ پاکستان انٹرنیشنل کونسل، اوورسیز پاکستانیوں کے مختلف فورمز، فدینڈز آف پاکستان ،ایف بی آر آفیسرز ایسوسیشن آف ان لینڈ ریونیو اور پاکستان کسٹمز سروسز اور امریکی و بین الاقوامی کاروباری حلقوں سے وابستہ افراد کے تعاون سے مرتب کی گئی ہے۔ جس پر دستخط ٹیم لیڈر احسن ملک کے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ کی تیاری میں ایک سال سے زائد عرصہ صرف ہوا ، جس دوران مبینہ شواہد جمع کیے گئے ، تجزیہ کیا گیا اور متعدد اجلاسوں میں ان الزامات پر غور کیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ الزامات بغیر تحقیق اور تصدیق کے شامل نہیں کیے گئے ۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے فیس لیس کسٹمز ریفارمز پروگرام کے تحت کراچی پورٹ پر تقریباً 100 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری اور بدعنوانی سامنے آئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران 13,140 مشتبہ کلیئرنس کیسز رپورٹ اور تصدیق کیے گئے، جن میں رشوت خوری کے الزامات ہیں ۔

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے کسٹمز افسران کو معطل یا تبادلے کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ جونیئر افسران کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ رشوت سونے اور زمینوں کی صورت میں وصول کی گئی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر بے نامی جائیدادیں خریدی گئیں ۔

رپورٹ میں ایف بی آر کی خواتین افسران کو ہراسانی کے انتہائی سنگین الزامات شامل ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسٹمز کی ایک خاتون افسر کو اسلام آباد اور کراچی میں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، اور بعد ازاں خاموشی کے بدلے انہیں 2024 میں برسلز میں غیر معمولی پوسٹنگ دی گئی۔ مزید الزامات کے مطابق دیگر خواتین افسران کو بھی مبینہ طور پر تضحیک، ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان معاملات کی فوجداری تحقیقات کی جائیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے حقیقی بھائی شہزاد محمود لنگڑیال کو ماضی میں رشوت اور کرپشن پر ملازمت سے برطرف کیا گیا ، تاہم وہ مبینہ طور پر بطور کنسلٹنٹ اب بھی ٹیکس معاملات میں اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ 2025 کے بعد سے 40 کروڑ روپے تک کی مبینہ غیر قانونی رقوم وصول کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے اثاثے 5 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جن میں پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں مبینہ جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس شامل ہیں۔ رپورٹ میں خفیہ ای سم کے ذریعے مالی لین دین کنٹرول کرنے کے دعوے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق راشد محمود لنگڑیال پر ماضی میں بھی داسو-اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن، سولر پینل اسکینڈل اور ایف بی آر گاڑیوں کی خریداری میں مبینہ کمیشن جیسے الزامات سامنے آ چکے ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی کارروائی عمل میں نہیں آ سکی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں ایف بی آر کو 400 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا ہے، جبکہ بزنس کمیونٹی کو مبینہ طور پر ہراساں کر کے ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری شدید متاثر ہو رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ امریکی محکمہ خارجہ، عالمی بینک، اقوام متحدہ کے انسدادِ بدعنوانی دفتر، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ اعلیٰ عسکری و سول قیادت کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کی فوری معطلی ہو اور نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں پر مشتمل آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے ،گواہوں اور متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔

تحقیقات ڈاٹ کام کی جانب سے یہ رپورٹ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کو ارسال کی گئی اور اس سے متعلق ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا اگر بعد ازاں اس خبر کی اشاعت کے بعد بھی چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے ان کا موقف سامنے آیا تو تحقیقات ڈاٹ کام پر ان کا موقف من و عن شائع کیا جائے گا

NO COMMENTS

Exit mobile version