ہفتہ, جنوری 17, 2026

غیر ملکی ملازم کی مشکوک سرگرمیاں ، کراچی کا ایک اور بڑا ہوٹل فروخت ؟

کراچی : ریجنٹ ہوٹل کراچی کی 14 ارب روپے میں فروخت کے بعد ایک اور بڑے ہوٹل کے 56 فیصد شیئرز فروخت ہو چکے ہیں ۔ بڑے ہوٹل کے مالکان کو بیرون ملک سے بلائے گئے ملازم کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکا ، ملازم کو ماہانہ 40 ہزار ڈالر یعنی ایک کروڑ 12 لاکھ 7 ہزار 840 روپے تنخواہ دی جاتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے ایک اور بڑے ہوٹل کے 56 فیصد شیئرز فروخت ہو چکے ہیں ۔ دو بڑے سیٹھوں نے 13 ارب روپے میں 56 فیصد شیئرز خریدے تھے ، جس کی شرائط میں یہ بھی لکھا تھا کہ 12 اکتوبر کو 13 ارب روپے کی واپیس پر شیئرز واپس کر دیئے جائیں گے ۔

تاہم 12 اکتوبر کو ہوٹل کے مالکان رقم واپس نہیں کر سکے اور انہوں نے اس دوران سندھ ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر دی ، جس میں موقف اختیار کیا کہ 12 اکتوبر کو ملک کے بعض حصوں میں چونکہ تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج جاری تھے اس لیئے شراکت داروں کو پیمنٹ کی ادائیگی نہیں کی جا سکی ہے ۔ لہذاہ عدالت انہیں پابند کرے کہ وہ شیئرز فروخت نہ کریں ۔ 

تاہم اس دوران دونوں سیٹھوں نے اپنے اپنے 28 اٹھائیس فیصد شیئرز میں سے 14 چودہ فیصد شیئرز صدر پاکستان کے دوست کی کمپنی کو فروخت کر دیئے ہیں ۔ یوں اب 56 فیصد شیئرز دو سیٹھوں کے بجائے تین سیٹھوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔

تاہم اس دوران تیسرے بڑے شیئرز ہولڈر نے سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں درخواست دی کہ جلد الیکشن کرائے جائیں ۔ جس پر ہوٹل کی انتظامیہ نے سندھ ہائی کورٹ سے حُکمِ امتناع حاصل کر لیا ہے ۔ جہاں انہیں 23 دسمبر تک حکم امتناع مل گیا ہے ۔

دوسری جانب اس ہوٹل کا ایک غیر ملکی ملازم جسے ماہانہ 40 ہزار ڈالر یعنی ایک کروڑ 12 لاکھ 7 ہزار 840 روپے تنخواہ دی جاتی ہے جس کا اصل کام یہ تھا کہ اس نے ہوٹل مالکان کیلئے بیرون ملک سے انویسمنٹ لانی تھی ۔ تاہم گزشتہ ڈیڑھ برس میں ملک کے دو چھوٹے ہوٹلوں نے فرنچائز حاصل کیں اور کچھ ہی عرصہ بعد واپس کر دی ہیں ۔ یعنی ناکام انویسمنٹ لائی گئی ہے ۔

اس کے علاوہ غیر ملکی ملازم نے 3 خواتین کو ہوٹل میں بھرتی کیا جن میں ایک کو جاب ڈسکربشن سے زیادہ کا موبائل دلایا کہ وہ اس کو کشمیر کی تصاویر و ویڈیو بنا کر بھیجا کرے ، جس نے اس معاملے کو مشکوک بنا دیا ہے کہ کیا آیا اس یہ غیر ملکی ملازم پاکستان کے خلاف کام تو نہیں کر رہا ہے کیوں کہ ایک کروڑ روپے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ لگژری گاڑی ، ڈرائیور ، ہوٹل میں اپارٹمنٹ کے علاوہ دیگر سہولیات بھی ہیں ۔

جب کہ اس ہوٹل میں ایک سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے جو انڈین کمپنی کا ہے اور ہوٹل میں آنے والی ہر کمپنی اور ہر شخص کا ڈیٹا اس انڈین کمپنی کے پاس جا رہا ہے ۔ مذکورہ غیر ملکی ملازم لنک ڈن میں کوئی بھی چیز پوسٹ کرنے کے بعد اپنے وٹس ایپ کے براڈکاسٹ لسٹ میں ڈال کر اس پر کمنٹ کرنے کا بھی کہتا ہے ۔ اسی طرح ایک بڑے ہوٹل کے سابق جی ایم نے اختلافی کمنٹ کیا جس کے بعد غیر ملکی ملازم نے اسے دھمکی بھی ہے ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://www.azmatnama.com/
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں