جمعہ, مئی 15, 2026

صحافی حارث سواتی کی پیکا میں گرفتاری اور تشدد کے معاملے پر عدالتی حکم پر انکوائری شروع

 ہری پور : صحافی حارث سواتی پر پیکا ایکٹ میں گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد کے معاملے پر  عدالتی حکم پر انکوائری شروع ہو گئی ۔

 ہری پور : ہری پور کے صحافی حارث ایوب سواتی کیخلاف NCCIA ایبٹ آباد حکام نے ضلعی پولیس افسر ہری پور شفیع اللہ گنڈا پور کی درخواست بدست ایس ڈی پی او سٹی سعید یدون پر 22 اپریل کو انکوائری شروع کی تھی ، حارث سواتی نے ملزم گلباس پر سٹی پولیس اسٹیشن میں تشدد کے حوالے سے انٹرویو کیا تھا ۔ این سی سی آئی اے حکام نے حارث سواتی کو انکوائری کا نوٹس بھیجے بغیر گرفتاری کی ہے ۔

بعد ازاں 5 مئی کو NCCIA ایبٹ آباد نے مقدمہ نمبر 44/2026 درج کر کے حارث ایوب سواتی کو کالے رنگ کی ہیول گاڑی میں ان کے دفتر سے اٹھایا ، قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمرے باتار ے اور حارث سواتی کو ہری پور سٹی تھانے منتقل کیا گیا ۔ جہاں مبینہ طور پر بابر نامی شخص سمیت دیگر سادہ لباس اہلکار وں نے صحافی پر تشدد کیا اور ویڈیو بھی بناتے رہے ۔

بعد ازاں  ایبٹ لے جاتے ہوئے سرائے صالح تھانے کے سپاہی زبیر  نے بھی کالے رنگ کی ہیول گاڑی میں بیٹھ کر حارث سواتی پر تشدد کیا، راستے میں این سی سی آئی اے کی خاتون افسر پاکیزہ اور اس کے گارڈ نے بھی حارث سواتی پر تشدد کیااور رات گئے ایبٹ آباد NCCIA کی حوالات میں بھی تشدد کیا جاتا رہا ، جس میں حارث سواتی کی کمر ، بائیں کان اور پیٹھ پر زخم بھی آئے ۔

 6 مئی کو حارث سواتی کو ایبٹ آباد سینئر سول جج و اسپیشل میجسٹریٹ FIA/NCCIA، ایبٹ آباد مجیب الرحمن کے سامنے پیش کیا گیا ۔ جہاں کیس کا آئی او پیش ہی نہیں ہوا ۔ NCCIA حکام نے حارث سواتی کا 14 روز کا ریمانڈ مانگا ، جج نے ریمانڈ کے بجائے حارث سواتی کا میڈیکل بورڈ منعقد کرانے کا حکم دیتے ہوئے جیل بھیج دیا  ۔جس کے بعد حارث سواتی کو 7 مئی کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ۔

میڈیکل بورڈ کی تصدیقی رپورٹ کے بعد حارث سواتی  کی استدعا پر عدالت نے تحریری طور پر حکم جاری کیا کہ خصوصی میڈیکل بورڈ، BBS ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی میڈیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ درخواست گزار کو واقعی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کو ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 4(ہ) کے تحت شکایت کے طور پر سمجھتے ہوئے ۔ مدعی کی بیان حلفی کو سیکشن 200 ض۔ف کے تحت درج کرتے ہوئے تشدد اور حراستی موت (پیشگیری اور سزا) ایکٹ 2022 کے سیکشن 5 کے تحت عدالت وفاقی تحقیقاتی (FIA) کو حکم دیتی ہے کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (ڈپٹی کمشنر)کی نگرانی میں میڈیکل رپورٹ میں موجود واضح نتائج کی روشنی میں مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے ۔

عدالت نے کمیشن برائے انسانی حقوق  اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سردار اللہ بابر کو حکم دیا ہے کہ وہ مکمل تفتیشی رپورٹ اس عدالت میں 21 مئی سے پہلے پیش کرے ۔ تفتیشی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیس قانون کے مطابق ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو منتقل کیا جائے گا ۔ قانون کے مطابق سیشنز کورٹ کو خصوصی اختیارات حاصل ہونگے کہ وہ مذکورہ جرائم کے تحت مدعی کو انصاف مہیا کرے اور بغیر کسی ایڈجرنٹمنٹ کے کیس کا ٹرائل کیا جائے گا تاکہ 30 روز میں کیس کا فیصلہ ہو سکے ۔

دریں اثنا 13مئی کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کی ہدایت پر سب انسپکٹر شجاع احمد نے جیل میں حارث سواتی کا بیان قلمبند کیا ، جس میں مکمل تفصیلات ، سابقہ عدالتی فیصلے ،ہیول گاڑی،میڈیکل رپورٹ مہیا کر دی ہے ۔ادھر حارث ایوب سواتی کے وکلا نےدرخواست ضمانت دائر کی جس میں ڈی ایس پی سٹی سعید یدون نے عدالت سےوکالت نامہ فائل کرنے کیلئے 4 روز کا وقت مانگا ، عدالت نے مسترد کرکے ایک روز کا ٹائم دیا جس کے بعد جمعرات 14مئی کو وکالت نامے فائل کرنے کے بعد 18مئی کو بحث کےبعد ضمانت کا فیصلہ کیا جائے گا اور ایف آئی اے کی رپورٹ بھی 21مئی تک جمع کرائی جائے گی ۔

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسکhttps://alert.com.pk/
Alert News Network Your Voice, Our News "Alert News Network (ANN) is your reliable source for comprehensive coverage of Pakistan's social issues, including education, local governance, and religious affairs. We bring the stories that matter to you the most."
متعلقہ خبریں

مقبول ترین

متعلقہ خبریں