تحریر : اقراء زیب عباسی
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سرکاری بیانیہ اس وقت بڑا الگ ہے۔ ہمارے محترم نائب وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اس وقت جو ہماری پالیسی ہے وہ "جنگ نہیں تجارت” ہے۔ ہم کسی ایسے بلاک کا حصہ نہیں ہیں جہاں جنگ کی بات کی جائے، ہم سب کے دوست ہیں، ہم دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں ہماری خارجہ پالیسی تضاد کا شکار ہے اور ہمارے پاس اس کی کوئی سمت نہیں ہے۔
2025 اور 2026 کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی کل لیبر فورس 8 کروڑ 31 لاکھ ہے، جس میں سے 7 لاکھ 59 ہزار افراد بے روزگار ہیں، اور اس سال بے روزگاری میں تقریباً 12.69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی ساکھ باقی نہ رہی ہو، جو برسوں سے اپنا قرضہ واپس کرنے میں ناکام رہا ہو، وہ سرمایہ کاری کو کیسے راغب کر سکتا ہے؟
تو سوال یہ ہے کہ کوئی اور ہمارے ملک کے ساتھ تجارت کیسے کرے گا؟ کیا کوئی ایسی پالیسی ہے جو ملک سے بے روزگاری ختم کر سکے؟ اور اگر ہماری خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو ہمارے پڑوسی ممالک سے تعلقات بری طرح خراب ہیں۔
ہماری موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ہم چین اور امریکہ دونوں کے دوست ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ توازن قائم رکھنے کی کوشش ناکام ہو رہی ہے۔ واشنگٹن ہمیں آج بھی صرف چین کا پالتو اور انسدادِ دہشتگردی کی نظر سے دیکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب چین ہم سے مکمل وفاداری چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ان دو سپر پاورز کے درمیان پس رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ہماری کمزور اور بے سمت خارجہ پالیسی ہے۔
مزید یہ کہ بھارت اور افغانستان سے ہمارے تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر مئی 2025 کی جھڑپ کے بعد بھارت سے ہمارے تعلقات بدترین سطح پر ہیں اور دو طرفہ تجارت صفر ہے۔ ہمارے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کشمیر پر بات کرو تو بھارت کہتا ہے پہلے دہشتگردی ختم کرو۔ اس تعطل میں حتمی نقصان صرف اور صرف ہمارا ہے، کیونکہ بھارت باقی دنیا سے تجارت جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری بڑی ناکامی افغانستان ہے۔ دو دہائیوں تک ہم نے اپنی ساری پالیسی افغانستان کے گرد بنائی، اور آج وہی سرحد ہمارے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری پالیسی کے مطابق ہم سب کے دوست ہیں، جبکہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے ہم اپنے مسلمان بھائی ممالک سے بھی اچھے تعلقات قائم نہیں رکھ پا رہے؟
پاکستانی خارجہ پالیسی کا اصل مسئلہ دفترِ خارجہ میں نہیں، بلکہ اسلام آباد میں ہے – ہماری اندرونی سیاست میں ہے۔ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام نہیں ہوگا، جب تک ہم اپنی معاشی طاقت کے بل بوتے پر کھڑے نہیں ہوں گے، تب تک ہماری بات کوئی نہیں سنے گا۔ آج کی دنیا میں صرف ایٹمی طاقت بن جانا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ معاشی طور پر مضبوط ہونا اور پڑوسی ممالک سے اچھے سفارتی تعلقات قائم رکھنا ،اپنی عوام اور ملک کی سلامتی کے لیے بہتر پالیسی بنانا ہی اصل طاقت ہے ۔
