Home پاکستان ای او بی آئی سنگدل افسر نے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی...

ای او بی آئی سنگدل افسر نے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات بند کر دیں

کراچی : ای او بی آئی: سنگدل افسر کا سیاہ کارنامہ، غیر قانونی طور پر سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات بند، شدید بیمار ریٹائرڈ ملازمین کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے ۔

نجی شعبہ کے ملازمین کو بڑھاپے میں پنشن فراہم کرنے والا قومی ادارہ ایمپلایئز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن(EOBI) اپنے قیام کے 50 ویں برس اپنی تاریخ کے بدترین انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ ادارہ میں گزشتہ دو برسوں سے مستقل چیئرمین کی عدم تعیناتی نے ادارے کے نظم و نسق کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ادارہ کے چند بااثر اور خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے والے افسران اختیارات کا ناجائز استعمال اور ادارہ کے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین میں بے چینی اور اضطراب پھیلا رہے ہیں۔

حال ہی میں خود کوقانون سے بالاتر سمجھے جانے والے ایک سنگدل افسر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ای او بی آئی کے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کی جملہ طبی سہولیات بند کر دی ہیں۔ جس کے نتیجہ میں شدید بیمار اور زیر علاج ریٹائرڈ ملازمین کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیکریٹری بورڈ آف ٹرسٹیز اور ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کا اضافی چارج رکھنے والے بدنام زمانہ افسر محمد نعیم شوکت نے اپنی تسکین کے لئے ای او بی آئی چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کی منظوری کے بغیر بیک جنبش قلم ملک بھر میں ادارہ کے ریٹائرڈ ملازمین کی تمام طبی سہولیات بند کردی ہیں، ابتدا میں اس نے تین ہفتے قبل ادارہ کے سینئر میڈیکل افسر کو اس پابندی کے زبانی احکامات جاری کئے تھے۔

بعد ازاں محمد نعیم شوکت نے 7 مئی 2026 کو چیئرمین کی منظوری کے بغیر بالا ہی بالا ایک متنازعہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے ادارہ کے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایت دی کہ ملک بھر میں ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین اور زیر کفالت افراد کے علاج و معالجہ کے لئے کوئی میڈیکل ریفرل لیٹر جاری نہ کیا جائے۔ جس کے باعث ملک بھر میں ادارہ کے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور علاج و معالجہ کی بروقت سہولت نہ ملنے سے بیشتر معمر اور شدید بیمار ریٹائرڈ ملازمین کی حالت غیر ہو گئی۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو ای او بی آئی (میڈیکل اٹینڈنس) ریگولیشن 1980کے تحت علاج و معالجہ کی مکمل سہولیات حاصل ہیں جو ایک قانونی و آئینی ضابطہ ہے جو ای او بی ایکٹ 1976 کی دفعہ 45 کے تحت سرکاری گزٹ میں شائع شدہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یکطرفہ طور پر ادارہ کے ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کی طبی سہولیات واپس لے یا ختم کرے۔

محمد نعیم شوکت ڈائریکٹر جی اے ڈی کا یہ طرز عمل سراسر غیر قانونی اور ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے فیصلے کی غلط تشریح، غلط اطلاق اور ریٹائرڈ ملازمین سے دشمنی کے مترادف ہے ۔ محمد نعیم شوکت کے اس ظالمانہ اقدام نے ادارہ کے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ کی قیمتی جانوں، صحت اور طبی فلاح کو شدید خطرات اور ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ جو اس کی سنگدلی، اختیارات سے تجاوز اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت دیے گئے سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔

بڑھاپے میں انسان کو اپنی بقا کے لئے بہتر طبی نگہداشت اور علاج ومعالجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ادارہ کے متعدد ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد پھیپھڑوں اور دل کے دائمی امراض، رسولیوں، اعضا کی خرابی، اعصابی و نفسیاتی بیماریوں، مرگی، فالج، متعدی امراض، گٹھیا، ہیپاٹائٹس اور دائمی اینڈوکرائن امراض جیسے سنگین مسائل میں مبتلا اور زیر علاج ہیں۔ ادارہ کے عمر رسیدہ اور طبی لحاظ سے کمزور اور 60 سے 85 برس کے بیشتر ریٹائرڈ ملازمین کافی عرصہ سے جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس موقع پر انہیں طبی سہولیات سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت حاصل حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اعلیٰ عدالتیں حقِ زندگی کی تشریح میں صحت اور علاج معالجہ کے حق کو بھی شامل قرار دے چکی ہیں ۔ای او بی آئی کے 700 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین محدود پنشن پر گزارہ کرتے ہیں اور مہنگے طبی علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے ۔

بتایا جاتا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر شیراز حسین وگن 26 نومبر 2018 کو ای او بی آئی کے سرکاری آڈٹ کے دوران ایک آڈٹ پیرا کے ذریعہ محمد نعیم شوکت ڈائریکٹر کی2007 میں ایک کوالیفائڈ امیدوار محمد نواز کی جگہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے غیر قانونی بھرتی اور اس کی ترقیوں کو غیر قانونی قرار دے کر اس کے خلاف انکوائری کی سفارش کرچکے ہیں لیکن محمد نعیم شوکت نے اس آڈٹ پیرا کو اپنے بھاری اثر و رسوخ کے ذریعہ سرد خانہ میں ڈالا ہوا ہے ۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر محمد نعیم شوکت ادارہ کے دیگر ملازمین کے برعکس اداری کے منظور شدہ پینل کے بجائے آغا خان یونیورسٹی سے اپنے اور اہل خانہ کے علاج و معالجہ کی خصوصی سہولیات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد نعیم شوکت اگرچہ فنانس کیڈر کا افسر ہے لیکن وہ اپنے گہرے اثر و رسوخ کے ذریعہ غیر قانونی طور پر آفس کیڈر کے دو انتہائی کلیدی عہدوں سے لطف اندوز ہورہا ہے۔

دریں اثناء ای او بی آئی ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) پاکستان کے جنرل سیکریٹری محمد جمیل سابق ڈائریکٹر اور ای او بی آئی ایمپلایئز فیڈریشن آف پاکستان( سی بی اے) کے سیکریٹری جنرل سید مبشر رضی جعفری نے اس مسئلہ پر انتظامیہ کے ساتھ گفت و شنید کے ذریعہ یہ مسئلہ حل نہ ہونے کے بعد دو علیحدہ علیحدہ خطوط کے ذریعہ وفاقی سیکریٹری ترقی انسانی وسائل اور ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر ندیم اسلم چوہدری کو باور کرایا ہے کہ ای او بی آئی کے سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین کی ادارہ کی تعمیر و ترقی کے بیش بہا خدمات ہیں اور وہ ادارہ کے لئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

لہذاء ہمارا پر زور مطالبہ ہے کہ ای او بی آئی کے ریٹائرڈ ملازمین کے لئے حسب دستور ای او بی آئی (میڈیکل اٹینڈنس) ریگولیشن 1980 کے عین مطابق منظور شدہ اسپتالوں میں جملہ طبی سہولیات کی فراہمی فوری طور پر بحال کی جائیں اور غیر قانونی اقدامات کے مرتکب افسر محمد نعیم شوکت کو دونوں کلیدی عہدوں سے ہٹاکر اس کے خلاف انکوائری کی جائے بصورت ایسوسی ایشن اور سی بی اے غیر قانونی اقدام کے مرتکب افسر محمد نعیم شوکت ڈائریکٹر جی اے ڈی اور ملوث دیگر افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version