Home پاکستان عدالت کا صحافی حارث سواتی پر پیکا ایکٹ میں گرفتاری کے دوران...

عدالت کا صحافی حارث سواتی پر پیکا ایکٹ میں گرفتاری کے دوران تشدد پر انکوائری کا حکم

ہری پور : صحافی حارث سواتی پر پیکا ایکٹ میں گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد کے معاملے میں عدالت نے FIA کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔

ہری پور کے صحافی حارث ایوب سواتی کیخلاف NCCIA ایبٹ آباد حکام نے ضلعی پولیس افسر ہری پور شفیع اللہ گنڈا پور کی درخواست پر 22 اپریل کو انکوائری شروع کی تھی ، حارث سواتی نے ملزم گلباس کا پولیس تشدد کے حوالے انٹرویو کیا تھا ۔ این سی سی آئی اے حکام نے حارث سواتی کو انکوائری کا کوئی نوٹس نہیں بھیجا۔

بعد ازاں 5 مئی کو NCCIA ایبٹ آباد نے مقدمہ نمبر 44/2026 درج کر کے حارث ایوب سواتی کو کالے رنگ کی ہیول گاڑی میں اٹھایا ، قریبی دکان کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی اتار کر لے گئے ، اور حارث سواتی کو ہری پور سٹی تھانے منتقل کیا گیا ۔ جہاں مبینہ طور پر بعض سول افراد کے ہمراہ سٹی تھانے کے اہلکاروں نے صحافی پر تشدد کیا ۔ بعد ازاں سرائے صالح تھانے کے ایک سپاہی نے بھی کالے رنگ کی ہیول گاڑی میں بیٹھ کر حارث سواتی پر تشدد کیا ۔

جس کے بعد رات گئے ایبٹ آباد NCCIA کی حوالات میں بھی تشدد کیا جاتا رہا ، جس میں حارث سواتی کی کمر ، بائیں کان اور پیٹھ پر زخم بھی آئے ۔ 6 مئی کو حارث سواتی کو ایبٹ آباد سینئر سول جج و اسپیشل میجسٹریٹ FIA/NCCIA، ایبٹ آباد مجیب الرحمن کے سامنے پیش کیا گیا ۔ جہاں کیس کا آئی او پیش ہی نہیں ہوا ۔ NCCIA حکام نے حارث سواتی کا 14 روز کا ریمانڈ مانگا ، جج نے ریمانڈ کے بجائے حارث سواتی کا میڈیکل بورڈ منعقد کرانے کا حکم دیتے ہوئے جیل بھیج دیا ۔ ۔جس کے بعد حارث سواتی کو 7 مئی کو دوبارہ میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ۔

جہاں حارث سواتی نے عدالت میں درخواست پیش کی کہ پولیس تحویل کے دوران اسے NCCIA، ایبٹ آباد کے افسران نے جسمانی تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا ہے ۔ لہذا اس نے اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے مجاز میڈیکل آفیسر سے میڈیکل ایگزامینیشن کرایا ہے ۔

جس کے بعد عدالت نے تحریری طور پر جاری کردہ حکم میں لکھا کہ خصوصی میڈیکل بورڈ، BBS ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی میڈیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ درخواست گزار کو واقعی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے ۔

جس کی وجہ سے درخواست اور میڈیکل معائنے کی رپورٹ کے مطابق، اس کو ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 4(ہ) کے تحت شکایت کے طور پر سمجھتے ہوئے ۔ مدعی کی بیان حلفی کو سیکشن 200 ض۔ف کے تحت درج کرتے ہوئے تشدد اور حراستی موت (پیشگیری اور سزا) ایکٹ 2022 کے سیکشن 5 کے تحت عدالت وفاقی تحقیقاتی (FIA) کو حکم دیتی ہے کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی نگرانی میں میڈیکل رپورٹ میں موجود واضح نتائج کی روشنی میں مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے ۔

عدالت نے کمیشن برائے انسانی حقوق کو حکم دیا ہے کہ وہ مکمل تفتیشی رپورٹ اس عدالت میں 21 مئی سے پہلے پیش کرے ۔ تفتیشی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیس قانون کے مطابق ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو منتقل کیا جائے گا ۔ قانون کے مطابق سیشنز کورٹ کو خصوصی اختیارات حاصل ہونگے کہ وہ مذکورہ جرائم کے تحت مدعی کو انصاف مہیا کرے اور بغیر کسی ایڈجرنٹمنٹ کے کیس کا ٹرائل کیا جائے گا تاکہ 30 روز میں کیس کا فیصلہ ہو سکے ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version