Home پاکستان ہری پور میں امن و امان کیلئے سرکاری سطح پر بین المسالک...

ہری پور میں امن و امان کیلئے سرکاری سطح پر بین المسالک ہم آہنگی کا اہم اجلاس

ہری پور :ضلع ہری پور میں امن و امان کے قیام، بین المسالک ہم آہنگی، بھائی چارے کے فروغ اور معاشرتی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم امن مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ، جس کی صدارت ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے کی۔

اجلاس میں ضلع بھر سے کثیر تعداد میں علمائے کرام، مشائخ عظام اور تمام مکاتبِ فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ہری پور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے وسیع پیمانے پر تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا ، اس موقع پر تمام شرکاء کو امن و امان کے قیام، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کے حوالے سے اظہارِ خیال کا موقع فراہم کیا گیا ۔

شرکاء کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات امن، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ اجلاس میں ضلع بھر میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، مذہبی رواداری، باہمی احترام، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال، منبر و محراب کے مؤثر کردار اور عوامی اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ علمائے کرام، مشائخ عظام اور مختلف مسالک کے نمائندگان نے معاشرے میں امن، برداشت اور اخوت کے فروغ کے لیے اپنی قیمتی تجاویز بھی پیش کیں۔

ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور نے کہا کہ علمائے کرام معاشرے کی اصلاح اور نوجوان نسل کی مثبت رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، اتحاد و اتفاق اور قانون کی پاسداری ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون اور ضابطہ اخلاق کی پابندی ہر شہری پر لازم ہے اور کسی کو بھی طے شدہ حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے خطبات اور اجتماعات میں صبر، برداشت، اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں اور سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔

ڈی پی او ہری پور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع میں امن و امان کا قیام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور پولیس تمام مکاتبِ فکر کے ساتھ مل کر امن دشمن عناصر کے عزائم ناکام بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تنازع کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، استحکام اور دیرپا امن کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

NO COMMENTS

Exit mobile version