Home پاکستان ایڈہاک چیئرمین نے بدعنوان افسر کاشف ضیاء کو جعلی پنشن اسکینڈل سے...

ایڈہاک چیئرمین نے بدعنوان افسر کاشف ضیاء کو جعلی پنشن اسکینڈل سے بچا لیا

کراچی : ایڈہاک چیئرمین ای او بی آئی ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کا ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے ، بدعنوان ریجنل ہیڈ سیالکوٹ کاشف ضیاء خان کو کلین چٹ جاری کر دی ہے ۔ کاشف ضیاء کو گوجرانوالہ جعلی پنشن اسکینڈل سے بچانے کی بھی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے ۔

ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن( EOBI) میں وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث طویل عرصہ سے کوئی مستقل چیئرمین نہ ہونے اور انتظامیہ کے تین اہم ڈائریکٹر جنرلز کے کلیدی عہدے خالی رہنے کے باعث ایڈہاک انتظامیہ کی زبردست اجارہ داری قائم ہے جس کے باعث ادارہ میں لاقانونیت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے ۔

باخبر ذرائع کے مطابق ای او بی آئی کے سہ ماہی ایڈہاک چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کا ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے 3 مارچ کو اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک مشکوک انکوائری کی بنیاد پر 2024 میں ہونے والے گوجرانوالہ جعلی پنشن اسکینڈل کے مرکزی کردار کاشف ضیاء خان سابق ریجنل ہیڈ گوجرانوالہ کو سنگین الزامات کے باوجود کلین چٹ دیدی ہے۔

واضح رہے کہ کاشف ضیاء سابق ریجنل ہیڈ گوجرانوالہ پر ایک چارج شیٹ کے ذریعہ جعلی پنشن اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اس کے گوجرانوالہ سے ریجنل آفس ساہیوال تبادلہ کے رنج میں مشتعل ہو کر ادارہ کے اعلیٰ افسران کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹی سوشل میڈیا مہم چلانے کے سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے ۔

ایڈہاک چیئرمین نے بدعنوان افسر کاشف ضیاء کو جعلی پنشن اسکینڈل سے بچا لیا
ایڈہاک چیئرمین نے بدعنوان افسر کاشف ضیاء کو جعلی پنشن اسکینڈل سے بچا لیا

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کاشف ضیاء خان سے ہمدردی رکھنے والے اس کے 2007 بیچ کے بعض افسران جو اس وقت ادارہ کی انتظامیہ کا اہم حصہ ہیں، نے کاشف ضیاء کے خلاف ایک اور زیر التوا سنگین انکوائری میں ہر قیمت پر اپنے ساتھی افسر کاشف ضیاء خان کو 2024 میں ہونے والے گوجرانوالہ جعلی پنشن اسکینڈل میں برطرفی کی متوقع سزا سے بچانے کے لئے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔

واضح رہے کہ کاشف ضیاء خان نے ریجنل ہیڈ گوجرانوالہ کی حیثیت سے بہت سے فرضی بیمہ دار افراد کو بھاری رقوم کے عوض درجنوں جعلی پنشنیں جاری کرکے ای او بی آئی پنشن فنڈ کو لاکھوں روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔

ذرائع کے مطابق ان اعلیٰ افسران کا منصوبہ ہے کہ ہمیں ہر حال میں کاشف ضیاء خان کو بچانا ہو گا ، خواہ ہمیں اس مقصد کے لئے انکوائری رپورٹ میں جعلی قرار دیئے گئے ان تمام جعلی پنشنرز کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ای او بی آئی سے پنشن ہی کیوں نہ جاری کرنی پڑے ۔

دستیاب دستاویزی ثبوتوں کے مطابق ای او بی آئی کے اس وقت کے چیئرمین فلائیٹ لیفٹیننٹ (ر) خاقان مرتضیٰ نے کاشف ضیاء خان ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز کو 2024 میں ریجنل ہیڈ گوجرانوالہ کی حیثیت سے انکوائری میں اختیارات کے غلط استعمال، سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور درجنوں پنشن کیسوں میں جعل سازی ثابت ہونے پر سزا کے طور پر ریجنل آفس گوجرانوالہ سے ریجنل آفس ساہیوال تبادلہ کر دیا تھا۔

جہاں اس نے اپنے خلاف انکوائری شروع ہوجانے اور گوجرانوالہ سے ساہیوال تبادلہ کے رنج میں انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ادارہ کے اعلیٰ افسران کی ساکھ کو بدنام کرنے کے لئے غیر قانونی طور پر اپنا ایک واٹس ایپ گروپ EOBI Unofficial کے نام سے تشکیل دیا تھا اور وہ اس گروپ کے ذریعہ سوشل میڈیا پر شب و روز خود کو جعلی پنشن اسکینڈل میں بیگناہ ثابت کرنے، ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران کو بدنام کرنے، ان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگانے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے ایک زبردست پروپیگنڈا مہم میں مصروف تھا۔

ایڈہاک چیئرمین نے بدعنوان افسر کاشف ضیاء کو جعلی پنشن اسکینڈل سے بچا لیا

سوشل میڈیا پر جاری اس کی غیر قانونی سرگرمیوں اور ادارہ کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کاشف ضیاء خان ریجنل ہیڈ ساہیوال کے افسر بالا محمد فاروق طاہر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بینی فٹس اینڈ کنٹری بیوشن لاہور نے 15 جولائی 2024 کو ہیڈ آفس کراچی کو تحریری طور پر رپورٹ دی تھی۔ جس پر چیئرمین خاقان مرتضیٰ نے کاشف ضیاء خان کی سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں اور ادارہ کے نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اسے سخت وارننگ جاری کی تھی اور اسے فوری طور پر ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی ۔

تاہم اس کے باوجود کاشف ضیاء خان سوشل میڈیا پر جاری اپنی منفی سرگرمیوں اور انتظامیہ مخالف پروپیگنڈہ سے باز نہ آیا اور وہ انتظامیہ کے احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے شدید بیماری کے بہانہ دو ماہ تک بلا اطلاع ڈیوٹی سے بھی غائب رہا ۔

جس پر چیئرمین ای او بی آئی فلائیٹ لیفٹیننٹ (ر) خاقان مرتضیٰ نے 13 ستمبر 2024ء کو کاشف ضیاء خان، ایمپلائی نمبر 923353 ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز/ریجنل ہیڈ ساہیوال کو آٹھ سنگین الزامات ادارہ کے احکامات، قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی، نظم و ضبط سے روگردانی، غفلت کا مظاہرہ کرنے، ادارہ کے مفادات کے خلاف جان بوجھ کر کام کرنے، اخلاقی گڑ بڑ میں ملوث ہونے، رخصت کی منظوری کے بغیر دس یوم سے زائد عادی غیر حاضر رہنے، ریجنل آفس گوجرانوالہ میں دفتری اوقات کار کے دوران ای او بی آئی کے ایک بیمہ دار فرد اور معروف مزدور رہنما بابا لطیف انصاری و دیگر سے فساد اور بلوہ کا رویہ اختیار کرنے اور جھوٹے اور گمراہ کن بیانات پر مبنی چارج شیٹ اور انکوائری آرڈرز جاری کرتے ہوئے اس سے 14 یوم کے اندر جواب طلب کر لیا تھا کہ ان سنگین الزامات کے مرتکب ہونے پر کیوں نہ اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے، جو تسلی بخش جواب نہ ہونے کی صورت میں ملازمت سے برطرفی پر منتج ہو سکتا ہے۔

چیئرمین خاقان مرتضیٰ نے اپنے حکم نامہ میں احمد حسیب ڈائریکٹر/ ریجنل ہیڈ لاہور نارتھ کو کاشف ضیاء خان سابق ریجنل ہیڈ گوجرانوالہ کے خلاف انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔ جبکہ اس کیس کے انکوائری افسر احمد حسیب ڈائریکٹر آپریشنز لاہور کے متعلق ذرائع کا کہنا ہے ان کی اپنی شہرت ماضی میں خود بری طرح داغدار رہی ہے ، جب وہ ریجنل آفس گوجرانوالہ میں تعیناتی کے دوران ایک آجر سے رشوت لیتے ہوئے ایف آئی اے کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا اور اس الزام میں تین ماہ تک جیل میں بھی قید رہا تھا اب وہ اس کیس میں ضمانت پر ہے اور مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے۔

لیکن اس دوران 18 ستمبر 2024 کو چیئرمین خاقان مرتضیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد کاشف ضیاء خان کے خلاف انکوائری سرد خانہ میں ڈال دی گئی اور ایک بھاری سفارش پر کاشف ضیاء خان کی تعیناتی ایک منفعت بخش عہدہ ریجنل ہیڈ سیالکوٹ کر دی گئی تھی۔

ایڈہاک چیئرمین نے بدعنوان افسر کاشف ضیاء کو جعلی پنشن اسکینڈل سے بچا لیا

ذرائع کے مطابق اب دو برس گزر جانے کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو جانے پر انکوائری افسر احمد حسیب ڈائریکٹر لاہور نے "اوپر والوں” کی ہدایات پر پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت انکوائری کے دوران انصاف کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے کاشف ضیاء خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کے متعلق شکایت کنندہ افسر بالا محمد فاروق طاہر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لاہور کا موقف شامل کرنے کی زحمت تک نہیں کی اور نہ ہی کاشف ضیاء خان کی جانب سے اس کے واٹس ایپ گروپ EOBI Unofficial پر چلائی جانے والی جھوٹی سوشل میڈیا مہم کی پوسٹوں، وڈیوز اور نفرت آمیز بیانات کے مواد کی جانچ پڑتال کے لئے ایف آئی ائے سائبر کرائم سے تکنیکی مدد حاصل کی گئی۔

انکوائری افسر نے محض خانہ پری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاشف ضیاء خان کو تمام سنگین الزامات سے قطعی بیگناہ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو اپنی رپورٹ چیئرمین کو پیش کر دی تھی۔ جس پر ای او بی آئی کے ایڈہاک چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ نے بھی انکوائری افسر کے فیصلہ کی من و عن توثیق کرتے ہوئے بیک جنبش قلم کاشف ضیاء خان موجودہ ریجنل ہیڈ سیالکوٹ کو تمام تر سنگین الزامات سے یکدم کلین چٹ دیدی ہے۔

چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کی جانب سے انتہائی بدعنوان افسر کاشف ضیاء خان کو سزا دینے کے بجائے اسے کلین چٹ دینے کے فیصلہ سے کاشف ضیاء خان کی جانب سے چلائی گئی جھوٹی سوشل میڈیا پروپیگنڈہ مہم کے نتیجہ میں بدنامی اور اپنی ساکھ متاثر ہونے والے اعلیٰ افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے اس فیصلہ پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی کے ایڈہاک چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کے اس غیر دانشمندانہ فیصلہ سے کئی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں اور ای او بی آئی کے افسران میں چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں ۔

اس حوالے سے قائم مقام چیئرمین ای او بی آئی ڈاکٹر جاوید احمد شیخ سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔ ان کا موقف موصول ہونے پر شائع کر دیا جائے گا ۔

NO COMMENTS

Exit mobile version