Home بلاگ پھانسی گھاٹ سے ایوانِ اقتدار تک

پھانسی گھاٹ سے ایوانِ اقتدار تک

بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے بعض حیران کن اور خوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے ہیں ۔

شیخ حسینہ واجد نے جن لوگوں کو پھانسی کی سزائیں سنوائیں ۔ انہیں پھانسی گھاٹ تو نہیں پہنچایا جا سکا مگر وہ اسی ایوان میں آ گئے ہیں جہاں حسینہ واجد موجود تھی ۔

صلاح الدین قادر چوہدری (فاضل جامعہ پنجاب) کو حسینہ کے دور میں پھانسی دے دی گئی تھی ۔ اب ان کا بیٹا ہُمام قادر چوہدری BNP کے ٹکٹ پر چٹاگانگ 7 سے اور صلاح الدین قادر چوہدری شہید کے بھائی غیاث الدین چوہدری چٹاگانگ 6 سے MP بن کر اقتدار میں آ گئے ہیں ۔ ان دونوں رہنماؤں کو جیل بھی ہوئی ۔ سزائیں بھی دی گئی تھیں ۔

لُطف الزمان بابر کو حسینہ کے دور میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ۔ کیونکہ لُطف الزمان بابر خالدہ ضیاء کے دور میں ڈپٹی ہوم منسٹر تھے ۔ اینٹی انڈیا ہونے کی سزا دیتے ہوئے پھانسی گھاٹ پہنچانے کا انتظام کر دیا تھا ۔ مگر آج لُطف الزمان بابر نیتروکونا 4 سے MP بن کر ایوان اقتدار تک پہنچ گئے ہیں ۔ لُطف الزمان بابر انڈیا کیلئے حافظ س_عید جیسا درجہ رکھتے ہیں ۔ سیکڑوں سٹوریاں حالیہ الیکشن میں ان کیخلاف انڈیا میں شائع ہوئی ہیں ۔

اسی طرح ATM اظہر الاسلام ( نائب امیر JIB ) کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی تاہم عوام نے انہیں رنگ پور 2 سے MP بن کر بنگلہ دیش کی طاقتور اپوزیشن بنا کر ایوان میں پہنچا دیا ہے ۔

عبدالسلام پِنٹو کو بھی پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کیلئے سزا سنائی گئی تھی مگر قربانیاں رنگ لائیں اور عبدالاسلام پِنٹو ڈھاکہ 9 سے MP منتخب ہو کر اسی ایوان میں پہنچ گئے ہیں جس کے بَل پر شیخ حسینہ واجد نے ظلم کا راج نافذ کر رکھا تھا ۔ ان کا تعلق بھی BNP سے ہے ۔

وقت کا پہیہ گھوما اور صورتحال بدل گئی ۔ مطلق الہعنان حسینہ انڈیا بھاگ گئی اور آج اس کی ہر دو مخالف جماعتیں ایوان میں آ گئی ہیں ۔

رات آرمی کے ایک کبپٹن کا انٹرویو کیا ہے جس نے سب سے پہلے بغاوت کر کے فوج کا محاصرہ توڑا اور عوام کو لیکر شیخ حسینہ کے گھر کی طرف نکلا اور پہنچنے سے قبل حسینہ واجد ملک چھوڑ چکی تھی ۔

Previous articleبیت المکرم مسجد ڈھاکہ
عظمت خان ، کراچی بیسڈ صحافی ہیں ، 2 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔ گزشتہ 12 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی رپورٹنگ فیلڈ میں تعلیم و صحت ، لیبر ، انسانی حقوق ، اسلامی جماعتوں سمیت RTI سے معلومات تک رسائی جیسی اہم ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ 10 برس تک روزنامہ امت میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اب ڈیجیٹیل سے جرنلزم کر رہے ہیں

NO COMMENTS

Exit mobile version