Home تازہ ترین بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات کیلئے پولنگ مکمل

بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات کیلئے پولنگ مکمل

ڈھاکہ: بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس پر ملک بھر میں سیاسی تجزیہ نگاروں کی توجہ مرکوز ہے، یہ انتخابات اس طلبہ تحریک کے اٹھارہ ماہ بعد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دو دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ عمل میں آیا تھا اور اب ملک کی سیاسی فضاء میں نئے اتحاد اور مقابلے کی فضا قائم ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بار انتخابات میں سب سے بڑی توجہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحادی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے پر ہے، دونوں جانب سے زیادہ سے زیادہ نشستیں جیتنے کے لیے بھرپور مہم چلائی گئی اور اس بار ووٹروں کی تعداد اور پولنگ اسٹیشنز کی تعداد کے لحاظ سے گنتی میں وقت لگ سکتا ہے۔

بنگلادیش الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جہاں 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ خواتین کی نمائندگی کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں، جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جائیں گی۔

الیکشن کمیشن کی حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق نومبر 2025 تک ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ 25 ہزار 361 مرد اور 6 کروڑ 28 لاکھ 85 ہزار 200 خواتین شامل ہیں۔ اس بار پہلی مرتبہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی، جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرونِ ملک مقیم محنت کش ووٹ ڈال سکیں گے۔

انتخابات کی پیچیدگی میں اس بار ایک اہم نیا عنصر یہ بھی شامل ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران نہ صرف سفید رنگ کے پارلیمانی بیلٹ پیپرز استعمال کیے گئے بلکہ جولائی کے قومی چارٹر سے متعلق ریفرنڈم کے لیے گلابی بیلٹ پیپر بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے عملِ شمار کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث غیر سرکاری نتائج کی آمد میں سابقہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

بنگلادیش کی پارلیمنٹ، جاتیا سنگسد، ایک ایوان پر مشتمل ہے جس کے 350 ارکان ہیں۔ ان میں سے 300 ارکان براہِ راست ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ باقی 50 خواتین کے لیے مخصوص نشستیں تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار کے انتخابات ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ نتائج نہ صرف حکومتی تشکیل بلکہ معاشرتی اور سیاسی توازن پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

NO COMMENTS

Exit mobile version