Home بلاگ فخر پاکستان مولانا ڈاکٹر عبدالباسط کا عالمی اعزاز

فخر پاکستان مولانا ڈاکٹر عبدالباسط کا عالمی اعزاز

تحریر : ضیا الرحمن چترالی 

پاکستان کے معزز طبی ماہر، ڈاکٹر مولانا پروفیسر عبد الباسط صاحب کو عالمی سطح پر ایک شاندار اعزاز حاصل ہوا ہے۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University) جو دنیا کے سب سے معتبر تحقیقی اداروں میں شمار ہوتی ہے، کی جانب سے جاری فہرست میں انہیں دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدان میں شامل کیا گیا ہے۔ جو ان کی تحقیق اور علمی خدمات کا عالمی اعتراف ہے۔ ڈاکٹر صاحب کراچی کے انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک میں ڈائریکٹر، ڈائبٹیز و اینڈوکرائن سینٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ملک کی مایہ ناز دانش گاہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل اور ایک سند یافتہ عالم دین بھی ہیں۔

یہ عالمی اعزاز کسی بھی محقق یا طبی ماہر کے لیے علمی معیار اور پہچان کا اہم پیمانہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالباسط کی تحقیق خاص طور پر ذیابیطس (Diabetes)، اینڈوکرائنولوجی (Endocrinology) اور میٹابولک امراض (Metabolic Disorders) کے شعبوں میں نمایاں ہے۔ ان کی علمی خدمات نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر طبی تحقیق اور مریضوں کی فلاح میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

یہ فہرست اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے Elsevier کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی ہے، جس میں دنیا بھر کے صحت، طب، سائنس، تحقیق اور دیگر شعبوں کے ہزاروں محققین کو ان کی تحقیقاتی حوالہ جاتی اثر (Citation Impact) اور تحقیقی خدمات کے لحاظ سے شمار کیا جاتا ہے۔ اسٹینفورڈ کی تحقیق اور تعلیمی معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کی “Top 2% Scientists” فہرست دنیا کے محققین میں حوالہ جاتی اثر کے لحاظ سے اہم سمجھی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اپریل میں ڈاکٹر عبد الباسط کو ایک اور اعزاز حاصل ہوا تھا۔ پاکستان کی قومی ذیابیطس ایجوکیٹرز ایسوسی ایشنNADEP کو انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن (IDF) کا مکمل رکن منتخب کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب اس ادارے کے رکن رکین ہیں۔

ڈاکٹر عبدالباسط تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں، ان کی ڈاڑھی اور سر پر پگڑی بھی ان کی پہچان ہے۔ تاہم یہ دینی حلیہ اور وضع قطع ان کے عالمی علمی اعزاز اور تحقیقی خدمات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے۔ کچھ اندھے دینی حلیے پر تنقید کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ علم اور محنت کی قدر دینی یا ظاہری شکل سے نہیں ماپی جاتی۔ ڈاکٹر عبدالباسط کی یہ کامیابی اور عالمی شناخت ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں دینی اور علمی اقدار دونوں کا امتزاج ممکن ہے اور حقیقی خدمت، محنت اور علم کے ذریعے عالمی سطح پر پہچان حاصل کی جا سکتی ہے۔

NO COMMENTS

Exit mobile version