Home پاکستان ای او بی آئی کے افسر ابوبکر سلیم کا غیر قانونی گاڑی...

ای او بی آئی کے افسر ابوبکر سلیم کا غیر قانونی گاڑی استعمال کرنے کا انکشاف

کراچی : وزیر اعظم کے سادگی کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے ای او بی آئی افسر ابوبکر سلیم کے غیر قانونی طور پرسرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے ، بعض اعلیٰ افسران کی پشت پناہی حاصل ہے ، گاڑی حادثہ کے ملزم افسر کو سزا کے بجائے ترقی مل گئی ۔ 

وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے ماتحت ادارےایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے گزشتہ ڈیڑھ برس سے ادارہ میں کوئی مستقل چیئرمین نہ ہونے کے باعث بعض بااثر افسران شتر بے مہار ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں ای او بی آئی نے بورڈ آف ٹرسٹیز کی منظوری سے اعلیٰ افسران کے لئے 32 کروڑ روپے مالیت کی برانڈ نیو سوزوکی گاڑیاں خریدی ہیں۔ لیکن پرانی گاڑیوں کو ہیڈ آفس کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ٹرانسپورٹ پول میں محفوظ رکھنے اور ان کے فوری آکشن کے بجائے بعض لاڈلے افسران کی جانب سے غیر قانونی طور پرسرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے جسے بعض اعلیٰ افسران کی پشت پناہی حاصل ہے۔جبکہ حکومت کی جانب سے سادگی اختیار کرنے کے احکامات کے باوجود ای او بی آئی کو ان پرانی سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر ماہانہ سینکڑوں لٹر پٹرول ، مینٹننس اور مرمت پر بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق ای او بی آئی لاہور میں تعینات افسر محمد ابوبکر سلیم ایمپلائی نمبر930427 ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ اکاؤنٹس بی اینڈ سی،II لاہور جو اس وقت لاہور میں ای او بی آئی کے ایڈہاک چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ کا منظور نظر پروٹوکول افسر بنا ہوا ہے، ادارہ سے ماہانہ ٹرانسپورٹیشن الاؤنس کے علاوہ ماہانہ 100 لٹر پٹرول کی وصولی کے ساتھ مال مفت دل بے رحم کی طرح غیر قانونی طور پر ای او بی آئی کی متعدد سرکاری گاڑیوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے جبکہ قانون کے مطابق ادارہ کے ڈائریکٹر اور اس سے بالا سطح کے افسران اور ریجنل ہیڈز ہی سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ابوبکر سلیم کے گھر میں گاڑی کی پارکنگ کی جگہ نہ ہونے کے باعث اس کے زیر استعمال سرکاری گاڑی نمبر LEJ-1182 پوری رات کینال روڈ پر لاوارث کھڑی رہتی ہے جس کے نتیجہ میں اب تک ابوبکر سلیم کے غیر قانونی طور پر زیر استعمال تین سرکاری گاڑیوں کی بیٹریاں چوری ہو چکی ہیں، لیکن اس سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں ۔

ذرائع کے مطابق یہ سرکاری گاڑی ماضی میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی، II لاہور کے زیر استعمال تھی انہوں نے ادارہ کی جانب سے نئی گاڑی فراہم ہوتے ہی اپنے زیر استعمال پرانی گاڑی ادارہ کو واپس کر دی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد ابوبکر سلیم فنانس کیڈر کا افسر ہے اور اس کا اصل مقام تعیناتی فنانس اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی ہے لیکن وہ فروری 2022 سے ایک بھاری سفارش پر لاہور میں تعینات ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے دنوں ابوبکر سلیم ڈپٹی ڈائریکٹر کو ریجنل آفس شاہدرہ لاہور میں جعلی پنشن کیس میں ملوث ہونے کے باوجود ایک بھاری سفارش پر صرف سرزنش کر کے چھوڑ دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی غیر قانونی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی کی ایک سو سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیوں کے انچارج ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی اور اس کا ماتحت غلام اصغر شیخ اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ٹرانسپورٹ) ہے یہ دونوں افسران ملی بھگت کے ذریعہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ای او بی آئی کی درجنوں سرکاری گاڑیوں کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دوستیاں نبھانے کے لئے بااثر افسران کو سینکڑوں لٹر پٹرول سمیت سرکاری گاڑیوں کی سہولت سے نوازتے رہے ہیں جبکہ بتایا جاتا ہے کہ ای او بی آئی کی سرکاری گاڑیوں کی آمد ورفت کا ریکارڈ رکھنے کے لئے کوئی لاگ بک بھی نہیں ہے۔

جبکہ اگست 2022 میں ریجنل آفس ساہیوال کی سرکاری گاڑی سوزوکی کلٹس رجسٹریشن نمبرSLG-1071 کو ای او بی آئی کے ایک غیر متعلقہ افسر کی فیملی کے لئے غیر قانونی استعمال کے دوران حادثہ پیش آیا تھا اور اس کی مرمت کے لئے ہیڈ آفس کراچی سے جعلی بلوں کی ڈیڑھ لاکھ روپے وصولیابی میں ملوث سابق ریجنل ہیڈ ساہیوال حاضر علی عطاری ایمپلائی نمبر 920229 کے خلاف انکوائری ختم کرکے نا صرف اسے بخش دیا گیا ہے بلکہ 16 اپریل 2026 کو اسے اگلے گریڈ ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی سے بھی نواز دیا گیا ہے۔

ای او بی آئی کے انتہائی جونیئر افسر کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال حالیہ امریکا ایران کشیدگی کے دوران پٹرول کی بلند ترین قیمتوں اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اداروں کو سادگی اختیار کرنے کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس پر انتظامیہ کی چشم پوشی سوالیہ نشان ہے۔

NO COMMENTS

Exit mobile version