ہری پور : تھانہ خانپور پولیس کے مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے خلاف مدعیہ نے آئی جی خیبر پختون خوا اور ایف آئی اے سے بھی رابطہ کر لیا ہے ، تاہم ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈا پور کی جانب سے واقعہ کی انکوائری ایس پی انوسٹیگیشن کو سونپی گئی ہے جن کی ٹیم جائے وقوعہ اور جہاں سے گرفتار کیا گیا تھا وہاں دوسری بار وزٹ کر چکی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق 10 اپریل کو تھانہ خانپور پولیس کے ایس ایچ او اعجاز خان اور ریاض ولد عبدالستار کیس کے آئی او عباس خان کی سربراہی میں منگ کے نواہی گائوں کھیدو پنجو میں چھاپہ مار کر ملزم ریاض ولد اللہ داد کو اس کے بہنوئی ارشد ولد سرور کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا ۔
جس کے بعد ارشد ولد سرور کو علیحدہ پولیس گاڑی میں دوسری پولیس گاڑی میں ریاض ولد اللہ کو ڈالا گیا تھا جس کے بعد بہادر پور چوک پر گاڑیاں گائوں جاب سے آنے والی کسی گاڑی کا انتظار کرنے لگی تھیں جس کے بعد گائوں جب سے ایک کیری ڈبہ آیا تھا ، جس میں ارشد کے بقول ملک فرزان موجود تھا جس کے بعد ارشد والی گاڑی کو خانپور کی طرف اور ریاض عرف نازی کی گاڑی کو واپس کھیدو کی طرف موڑ لیا گیا تھا ۔
بعدازاں ریاض عرف نازی کو کھیدو قبرستان لے جا کر پولیس مقابلہ کیا گیا اور اس کو زخمی حالت میں ہسپتال نہیں پہنچایا گیا جس کی وجہ سے خون بہہ جانے کی وجہ سے ریاض عرف نازی کی موت واقع ہو گئی ۔ اس حوالے سے خانپور THQ کی ایم ایل او ڈاکٹر وجیہہ صدیقی کا کہنا ہے کہ جب پونے بارہ سے بارہ بجے کے وقت ریاض کو لایا گیا تھا تب اس کی موت واقع ہو چکی تھی ۔
اس کے بعد جنازہ کی ادائیگی کے بعد فرزان ولد ہادی دوبارہ خانپور میں ارشد ولد سرور کے پاس گیا کہ صلح کر لیں تاکہ آپ کی جان بھی چھوٹ جائے تاہم ارشد نے اس کا کہنا نہیں مانا اور اس کے بعد پولیس نے اپنے ہاتھوں قتل ہونے والے ملزم کا بھی ارشد کو ہی بنا کر اسے جیل بھیجوا دیا تھا ۔
بعد ازاں ریاض عرف نازی کی والدہ اور بہن کی جانب سے ڈی پی او کی درخواست دی گئی کہ کھیدو پنجو گائوں میں ریاض اور ارشد کو صحیح سلامت لے جایا گیا تھا بعد میں پولیس مقابلہ کیا گیا ہے ۔ لہذاہ کیس کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے ۔
جس کے بعد ایس پی انوسٹیگیشن شبیر خان کی جانب سے انکوائری شروع کی گئی اور تین روز قبل ڈی ایس پی اور منگل کو دوبارہ پال آفس سے سعید نامی پولیس افسر کو کھیدو میں واقع ارشد کے گھر بھیجا گیا ۔ مقتول کی بہن اور ارشد کی بیوی کے مطابق آنے والے پولیس افسر نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ پولیس والوں کا نام نہ لیں اور ان کے شوہر کو چھوڑ دیتے ہیں ۔
