Home تازہ ترین حالیہ سلیکشن بورڈ کا فیصلہ ہوئے بغیر نیا بورڈ منعقد کرنے کا...

حالیہ سلیکشن بورڈ کا فیصلہ ہوئے بغیر نیا بورڈ منعقد کرنے کا فیصلہ

: وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کے تقرر کے لیے نیا اشتہار جاری، حالیہ سلیکشن بورڈ کا فیصلہ تاحال نہیں کیا جاسکا ۔

تفصیلات کی مطابق 2022 کا اشتہار منسوخ، نئے اشتہار میں عبدالحق کیمپس کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ۔کثیر تعداد میں ایڈہاک اسسٹنٹ پروفیسرز کی موجودگی میں ایک جونیئر اسسٹنٹ پروفیسر ایڈہاک کو مستقل کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے ۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کی جانب سے 12 اپریل 2026 کو اخبارات میں اساتذہ کے تقرر کے لیے نیا اشتہار جاری کر دیا گیا جبکہ 2022 میں جاری کیے گئے اشتہار کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس اشتہار کے جاری ہوتے ہی یونیورسٹی کے اساتذہ میں شدید غم و غصہ اور مایوسی کی لہر پائی جاتی ہے جبکہ اساتذہ کی تمام نمائندہ انجمنوں نے اس اشتہار کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اس اشتہار کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ایک طرف نئے شعبہ جات کے قیام اور ان میں اساتذہ کے تقرر کا بندوست کیا گیا ہے تو دوسری طرف چند مخصوص اور من پسند اساتذہ کو نوازنے کی بھی تیاری نمایاں نظر آتی ہے۔ مثلاً اردو یونیورسٹی میں اس وقت کثیر تعداد میں ایڈہاک اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دے رہے ہیں جن میں سینئر ترین اساتذہ کا تعلق شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ہے اور ایچ ای سی قوانین کی وجہ سے ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہے ۔ تاہم ان تمام سینئر اساتذہ کیا جا رہا ہے ۔

مزید یہ کہ شعبہ کیمیاء میں اس وقت 2 پروفیسر موجود ہیں اور اسی طرح شعبہ حیوانیات میں بھی 1 پروفیسر دستیاب ہے۔  اس کے باوجود ان شعبوں میں ایک بار پھر مزید پروفیسر کے تقرر کی تیاری ہے جبکہ فارمیسی، اسلامیات، بین الاقوامی تعلقات، ابلاغ عامہ اور اردو وغیرہ جیسے شعبوں میں کسی سینئر استاد کو پروفیسر پر تقرر کے لیے کوئی آسامی اس اشتہار میں شامل نہیں۔

اس کے علاوہ سنڈیکیٹ میں عرصہ دراز سے عبدالحق کیمپس کی نمائندگی موجود نہیں ہے ۔ اس کی وجہ عبدالحق کیمپس میں پروفیسر کا نہ ہونا بتائی جاتی ہے۔ حالیہ اشتہار میں ایک بار پھر عبدالحق کیمپس میں کسی استاد کو پروفیسر بنانا تو درکنار کسی بھی شعبہ یا کلیہ کو جگہ نہیں دی گئی۔ وہ سینئر اساتذہ جو 2022 کے اشتہار میں درخواستیں جمع کروا چکے تھے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں ان سے بھی ریٹائرمنٹ سے قبل ترقی کا حق چھین لیا گیا ہے۔

ماضی کا جائزہ لیا جائے تو سابق قائم مقام وائس چانسلر نے 2013 اور 2017 کے اشتہارات کے تحت سلیکشن بورڈ منعقد کروائے اور بعدازاں سابق قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الدین نے بھی اپنے دورانیے میں چند اساتذہ کا سلیکشن بورڈ منعقد کروایا تاہم آج تک ان سلیکشن بورڈ کی سینیٹ سے منظوری کا معاملہ التواء کا شکار ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی اساتذہ میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک اور متنازع ترین اشتہار کا اجراء جس میں جونیئر اور مخصوص و من پسند اساتذہ کو نوازنے کی تیاری واضح دکھائی دیتی ہے

NO COMMENTS

Exit mobile version