ہری پور : تھانہ خانپور پولیس کے مبینہ جعلی پولیس مقابلے کیخلاف DPO کو درخواست دے دی گئی ۔ خانپور پولیس ‛ سرکاری پریس ریلیز اور THQ خانپور کی MLO ڈاکٹر وجیہہ صدیقی کے بیانات میں حیران کن تضادات نے معاملے کو انتہائی مشکوک بنا دیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق ہری پور کی تحصیل خانپور کے گاؤں سنجلیالہ میں 8 مارچ کو ریاض عرف نازی نے اپنے سگے ماموں زاد ریاض ولد ستاد کو اس وقت قتل کر دیا تھا جب ریاض اپنے بھائیوں شیراز اور فیاض کے ہمراہ ناکام جرگہ کے بعد گھر واپس جا رہا تھا ۔ جس کے بعد ستار ولد غفار نے تھانہ خانپور میں مقدمہ نمبر 176/2026 زیر دفعہ الزام 302/34 درج کرایا ۔ جس کے تفتیشی افسر نے کوشش کی مگر ملزم ریاض ولد اللہ داد گرفتار نہ ہو سکا ۔ قانونی کارروائی کے بعد ملزم کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ۔
اس دوران ستار ولد غفار نے اپنے کزن ریحان سکنہ سنجلیالہ محلہ تھالہ کے ہمراہ DPO ہری پور شفیع اللہ گنڈا پور سے ملاقات کی ۔ جس میں شفیع اللہ گنڈا پور نے انسپکٹر عباس کو OII تعینات کر کے ٹاسک اور سخت ہدایات کی کہ ہر صورت دو سے تین روز میں ملزم کو گرفتار کرنا ہے ۔ جس کے بعد عباس نے اپنے مخبروں کا نیٹ ورک فعال کیا ۔ کھیدو پنجو گاؤں کے پولیس ٹاؤٹس کے ذریعے ملزم ریاض کے بہنوئی ارشد ولد سرور کے گھر کی نگرانی شروع کرا دی ۔
10 اپریل کی رات کو ہی مخبر خاص نے عباس کو اطلاع دی کہ ارشد ولد سرور کے گھر واقع کھیدو پنجو میں ملزم ریاض عرف نازی آیا ہوا ہے ۔ جس کے بعد کھیدو پنجو گاؤں میں رات ساڑھے 9 سے پونے 10 کے درمیان دو موبائل ڈالوں میں درجن بھر اہلکاروں مع دو لیڈی کانسٹیبلان دھاوا بولا تو ریاض عرف نازی نے فائر کر دیا ۔جس کا نشان اب بھی ارشد ولد سرور کے کمرے میں موجود ہے ۔ اس دوران پولیس نے یکدم دروازہ کھولا ۔ ریاض عرف نازی کو جھپٹ کر پکڑ لیا اور فی الفور ہتھکڑی لگا کر ہاتھ پیچھے باندھ دیئے ۔ اس واقعہ کو درجن بھر خواتین و حضرات اور بچوں نے بنفس نفیس اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔

اس دوران ریاض عرف نازی کی بہن شاہدہ بی بی نے ریاض کو پولیس سے چھڑانے کی کوشش کی جس پر پولیس اہلکاروں نے شاہدہ بی بی کو تھپڑ مارے اور اس دوران پرلیس اہلکار کا پولیس مونو گرام کا بیج اور بیٹری اسی گھر میں رہ گئی ۔ یعنی چور لنگوٹ چھوڑ گیا ۔یوں خانپور پولیس ملزم ریاض ولد اللہ داد اور اس کے بہنوئی ارشد محمود کو گرفتار کر کے لے گئی اور تھانہ خانپور کی حدود میں واقع کھیدو قبرستان میں لے جا کر نازی کو گاڑی سے دھکا دیکر نیچے گرایا اور اسی کے پستول سے اس کی ٹانگ میں فائر کر دیئے ۔
ریاض عرف نازی کو زخمی کرنے کے بعد سب سے پہلی کال موقع پر موجود پولیس کی طرف سے سنجلیالہ میں مبینہ طور پر فرزان ولد ہادی کو دی گئی ۔ اس کے 1 سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد صرف 35 منٹ دوری کی مسافت پر واقع THQ خانپور میں ریاض عرف نازی کو مردہ حالت میں پہنچایا گیا ۔ یعنی پولیس 35 منٹ کے سفر کو ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک لے گئی اور اس دوران ملزم ریاض کا خون بہہ جانے سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ یوں ریاض ولد ستار کیس کی فائل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کر دی گئی ۔ تاہم ایک نئی فائل کھل گئی ۔خانپور پولیس نے اپنے ہاتھوں ہونے والے قتل کا مقدمہ ایک بے گناہ شخص ارشد محمود ولد سرور سکنہ کھیدو پنجو کے نام درج کر لیا ہے ۔
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال خانپور کی MLO ڈاکٹر وجیہہ صدیقی کے مطابق ریاض کو تین گولیاں ٹانگ پر لگی تھیں اور پونے 12 بجے مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا ۔ مقتول کی بہن شاہدہ نے ڈی پی او ہری پور کو درخواست دی ہے کہ میرے گھر سے پولیس ریاض اور میرے شوہر ارشد کو زندہ لیکر گئی اور آگے لے جا کر مار دیا ۔
شاہدہ بی بی زوجہ ارشد محمود کے مطابق ریاض کے زخمی ہونے کی اطلاع فرزان ولد ہادی کو دی گئی ۔ ہمارے مخالف شیراز اور فیاض ولد ستار پولیس مقابلہ کرنے والے اہلکاروں سے رابطے میں تھے ۔ لہذاہ فرزان ولد عبدالہادی ‛ فیاض اور شیراز سمیت جعلی مقابلے کے اہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور قتل کی FIR درج کرائی جائے ۔
معلوم رہے کہ اس کیس میں ہری پور پولیس کے پیج پر موجود سرکاری پریس ریلز ۔ خانپور سرکل کے DSP اور تھانہ خانپور کے SHO اعجاز خان اور THQ خانپور کی MLO ڈاکٹر وجیہہ صدیقی کے بیانات میں جھول ‛ جھوٹ اور اس قدر تضاد ہے کہ کوئی بھی وکیل نامزد پولیس اہلکاروں اور پولیس کے ٹاؤٹس کیخلاف جعلی پولیس مقابلے کے ذریعے قتل کی FIR درج کرا سکتا ہے ۔واضح رہے کہ سرکاری پریس ریلیز ‛ DSP سرکل خانپور ‛ SHO خانپور اعجاز خان اور THQ کی MLO ڈاکٹر وجیہہ کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جنہیں کسی بھی طرح جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔
اس کیس کو منطقی اور ٹیکنیکلی طور پر بہت آسانی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے ۔ جس میں جیوفینسنگ ‛ CDR ‛ پولیس اہلکاروں ‛ ملزم ریاض عرف نازی ‛ ارشد محمود کی لوکیشنوں ‛ برآمد ہونے والے پشتول اور گن کے فارنزک ‛ کمرے میں ہونے والے فائر ‛ بیٹری اور بیچ کے نشانات سے کیس منطقی انجام کو پہنچ جائے گا ۔