کراچی : جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے پیکا ایکٹ میں گرفتار صحافی اسلم شاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے سید محمد اسلم شاہ کو رہا کر دیا ۔ اسلم شاہ 7ویں روز رہا ہو کر گھر پہنچ گئے ۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب کے سابق ممبر سید محمد اسلم شاہ کی ضمانت کیلئے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد عدالت پہنچی تھی ۔ جس کے بعد سینئر قانون دان نعیم قریشی کی ٹیم کے علاوہ ایڈووکیٹ محمد ناصر کے علاوہ دیگر وکلا کی بھی بڑی تعداد موجود تھی ۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے صحافی اسلم شاہ کی ضمانت منظور کر لی ، عدالت نے صحافی اسلم شاہ کو 30 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ۔
اس موقع پر اسلم شاہ کے وکیل نعیم قریشی نے عدالت میں کہا کہ کس کو نہیں معلوم کے واٹر ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی فروخت کیا جا رہا ہے ۔ اس جرم کو رپورٹ کرنے پر صحافی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے ۔
اسلم شاہ کا 32 سالہ صحافتی کیرئیر ہے ، پورا پریس کلب اس کے پیچھے کھڑا ہے ، ایسی قانون سازی کی گئی ہے کہ صحافیوں کو سچ لکھنے پر جیل میں ڈالا دیا گیا ہے ، اس موقع پر عدالت نے این سی سی آئی اے سے استفسار کیا کہ جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کی موجودگی میں کسی صحافی کو کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔
اس موقع پر این سی سی آئی اے کے وکیل شیراز راجپر نے کہا کہ کسی بھی اسکینڈل کے خلاف ٹی وی اور اخبارات میں لکھنا جرم نہیں ہے ۔ سوشل میڈیا پر الزامات رپورٹ کرنے پر اعتراض ہے ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا پر رپورٹ کرنے سے کیا کسی کی ڈیفیمیشن ہو جاتی ہے ؟۔ جس پر این سی سی آئی اے کے وکیل نے کہا کہ جرنلزم ٹی وی اور اخبار کے لیے ہوتی ہے ، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا خلاف قانون ہے ۔
واضح رہے کہ اسلم شاہ کے خلاف واٹر بورڈ کے متنازعہ افسر سید تابش رضا حسنین کی شکایت پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ اس افسر کے خلاف ادارے میں متعدد انکوائریاں ہوئی ہیں اور متعدد بار انہیں ڈی سیٹ بھی رکھا گیا ہے ۔
