Home پاکستان سینیئر صحافی سید اسلم شاہ کو کیوں گرفتار کیا گیا ؟

سینیئر صحافی سید اسلم شاہ کو کیوں گرفتار کیا گیا ؟

کراچی : واٹر بورڈ کے افسر تابش رضا حسنین کی شکایت پر این سی سی آئی اے نے سینیئر صحافی اسلم شاہ کو  گرفتار کر لیا ہے ۔ فاضل جج نے صحافی کو جیل کسٹڈی کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے افسر تابش رضا حسنین کی شکایت پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے ) نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ۔ منگل کی شام کو واٹر بورڈ افسر کی مخبری پر نائنتھ مائل کارساز واٹر بورڈ کے دفتر (بی بلاک) سے سینئر تحقیقاتی رپورٹر اسلم شاہ کو گرفتار کیا تھا ۔

تحقیقاتی صحافی اسلم شاہ کے خلاف مقدمہ کیلئے واٹر کارپوریشن کے افسر سید تابش رضا حسنین نے جرنلسٹ پروٹیکشن بل کے تحت درج قوانین کے مطابق طریقہ کار کو فالو نہیں کیا اور نہ ہی صحافی کے لئے کارروائی سے قبل صحافی کو نوٹس ارسال کیا تھا ۔ سید تابش رضا حسنین نے اپنے ایم ڈی کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا تھا نہ ہی اجازت لی تھی ۔

سید تابش رضا حسنین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے خلاف بھی ماضی میں متعدد انکوائریاں چلتی رہی ہیں اور حال ہی میں وہ حساس ادارے کی حراست میں رہنے کے بعد واپس آئے ہیں اور تابش رضا حسنین رواں ماہ اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہو جائیں گے ۔ جس کی وجہ سے واٹر بورڈ نے ان سے سرکاری جمنی گاڑی لیکر لیاری ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ انجنیئر (ایس ای) انور میمن کو الاٹ کر دی ہے ۔

واضح رہے کہ 6 ستمبر 2021 کو تابش رضا حسنین کو سر عام ٹیم کے اینکر اقرار الحسن نے ایک ہائیڈرنٹ قائم کرنے کی مد میں رشوت لیتے ہوئے بے نقاب کیا تھا ۔ جس پر تابش رضا حسنین نے اے آر وائی میں اپنے مراسم کے ذریعے پروگرام رکوانے کی بھر پور کوشش کی تھی تاہم پروگرام آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے ۔

سید تابش رضا حسنین اس وقت سپرٹنڈنٹ انجنیئر (ایس ای ) اینٹی تھیفٹ سیل تعینات ہیں جن کے پاس اس سے قبل سب سوائل واٹر (زیر زمین کھانے پانی )کا چارج بھی تھا ، جو اب ان سے لیکر آر آر جی ڈیپارٹمنٹ کو دے دیا گیا ہے ۔

30 جنوری کو ریٹائرڈ ہونے سے قبل ان سے سرکاری گھر بھی واپس لیا جانا ہے ۔ تابش رضا حسنین نے کلفٹن میں واقع اپنے گھر کا اپنے بھانجے عذیر کے نام پر الاٹ کرا لیا ہے ۔ تاہم وہ بدستور اسی گھر میں رہیں گے۔ عزیر گریڈ 16 کا سب انجنیئر ہے جس کو لُک آفٹر چارج گریڈ 17 میں ( اے ای ای) کا دیا ہوا ہے ۔

ادھر پیکا ایکٹ کے تحت اس کارروائی کی صحافی برادری نے شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسلم شاہ کو فوری رہا کیا جائے ۔ صحافی برادری پیکا ایکٹ کے خلاف اپنی جہدوجہد جاری رکھے گی ۔ پیکا ایکٹ سرکاری افسران کی کرپشن چھپانے اور میڈیا کا منہ بند کرنے کی کوشش ہے۔

واضح رہے اس سے قبل بھی اسلم شاہ کے خلاف سرکاری افسران نے پیکا ایکٹ کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کروایا تھا جس پر متعلقہ عدالت نے اسلم شاہ کو پہلی پیشی پر ہی مقدمہ ختم کر کے باعزت بری کر دیا تھا ۔  اسلم شاہ واٹر کارپوریشن میں مبینہ کرپشن اور اس میں ملوث افسران و ملازمین کی میڈیا میں نشاندہی کرتے رہے ہیں ۔ میڈیا واٹر کارپوریشن کے کچھ افسران کی کرپشن کو پہلے ہی بے نقاب کر چکا ہے ۔

Exit mobile version