Home اسلام حضرت مولانا پیر سید مختار الدین شاہؒ کون تھے ؟

حضرت مولانا پیر سید مختار الدین شاہؒ کون تھے ؟

پیر سید مختار الدین شاہ
پیر سید مختار الدین شاہ

مفتی سید مختار الدین شاہ 2 جنوری 1952 کو شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختون خوا) کے ضلع ہنگو کے علاقے کربوغہ شریف میں پیدا ہوئے تھے ۔ ابتدائی ساتویں جماعت تک تعلیم انہوں نے اپنے علاقے میں ہی حاصل کی تھی ۔ جس کے بعد مزید تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے تھے محنت مزدوری کے سلسلے میں مصروف ہو گئے تھے ۔

بعد ازاں 1965 کو والد صاحب سے 400 روپے لیکر گھر سے نکلے اور مشکلات کو طے کرتے ہوئے سلسلہ روزگار کے تحت قطر چلے گئے ، قطر سے ہی 1969 میں حج کے مبارک سفر پر چلے گئے ، حج کے دوران ان کی ملاقات فضائل اعمال کے مصنف حضرت مولانا ذکریا کاندھلویؒ سے ہوئی ، وہ تبلیغی گھرانے کی وجہ سے پہلے سے ہی حضرت کے نام و مقام سے واقف تھے ۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا ذکریا کاندھلویؒ نے پہلی ہی ملاقات میں انہیں اپنے ہاتھوں سے حلوہ کھلایا اور اپنا بنا لیا ۔ اور ساتھ ہی دعا بھی دی ۔ جس کا دعا کے ثمرات آج پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں نے دیکھ لیئے ہیں ۔ جس کے بعد اگلے ہی برس مختار الدین شاہ نامی نوجوان دوبارہ سفر حج پر چلا گیا ۔

اسی سال اقامہ ختم ہونے کے باوجود ایک ہی روز میں ان کا اقامہ بھی بننے کا عجوبہ پیش آیا تھا ۔ انہیں مدینہ کے سفر پر ایک خواب یاد آیا کہ انہوں نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ ریاض الجنہ میں تھے کہ انہیں خواب آیا کہ کسی نے نام پکار کر کہا کہ ذکریا اور مختار اوپر آ جائیں ۔ ملاقات کے اگلے ہی سال 14 دسمبر 1970 کو انہوں نے جوانی کی عمر میں شیخ الحدیث مولانا ذکریا کاندھلویؒ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔

یوں انہوں نے قطر سے ملازمے چھوڑی اور استغنا کی دولت لیکر پاکستان آ گئے ۔ پاکستان آکر انہوں نے اپنے سسر حضرت مولانا عبدالجلیل سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ۔ یوں دارالعلوم کراچی میں بھی اپنی دینی تعلیم مکمل کی اور تخصص بھی یہیں سے کیا ۔

جب وہ دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ان کا تعلق مولانا ذکریا کاندھلویؒ سے بھی تھا اور اس دوران 1975 کو یعنی تقریبا 23 برس کی عمر میں انہیں خلافت بھی دے دی گئی ۔ جس پر وہ اپنے شیخ کے سامنے روئے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں ۔ یوں انہوں نے اس راز کو سینے میں چھُپا کر مذید اصلاحی اور دینی کام شروع رکھا ۔

وہ نوجوان خلیفہ تھے جس کی وجہ سے ان کے بارے میں کچھ لوگوں کو معلوم تھا تاہم حضرت شیخ الحدیث ذکریا کاندھلویؒ کی وفات کے بعد ان کے مریدین جمع ہوئے آپس میں ایک دوسرے کو کہا کہ حضرتؒ نے اپنی زندگی میں کربوغہ کے ایک نوجوان کو خلافت عطا فرمائی تھی ۔ ان کے بارے میں معلوم کریں کہ وہ کون ہیں ؟۔ ان میں صوفی اقبالؒ بھی موجود تھے ۔

مذید سنیں : پیر سید مختار الدیں شاہ کون تھے ؟

بعد ازاں حضرت صوفی اقبالؒ کی خواہش پر پیر عزیز الرحمن ہزارویؒ کو کہا کہ وہ کربوغہ جائیں یا کسی کو بھیجیں اور وہاں معلوم کریں کہ ایسا کوئی بندہ رہتا ہے اس کو بلا کر لائیں ۔ یوں انہوں نے دو علما کو کربوغہ بھیجا اور مختار الدین شاہؒ ان بزرگوں کے پاس آئے تو صوفی اقبالؒ نے کہا میں آپ کئ علاقے آؤں گا تو مختار الدین شاہؒ نے منع کیا کہ وہاں وسائل کی کمی ہے لہذاہ آپ نہ آئیں تو پیر عزیز الرحمن ہزارویؒ نے کہا میں آئوں گا تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ آ جائیں ۔

یوں پیر عزیز الرحمن ہزارویؒ کربوغہ شریف گئے اور ان کی مسجد میں پیر مختار الدین شاہؒ کے کہنے پر بیان کیا اور بیان میں تمام سامعین کو بتا دیا کہ آپ کے شیخ اس وقت واحد شیخ ہیں جن کو حضرت مولانا شیخ الحدیث ذکریا کاندھلویؒ نے اپنی خلافت عطا فرمائی تھی جس پر پیر مختار الدین شاہ ؒ بہت ناراض ہوئے تاہم اسی محفل میں انہوں نے اپنے دیرینہ ساتھیوں جو ان کے ساتھ قطر سے چھوڑ چھاڑ کر آ گئے تھے ان کو خلافت بھی عطا فرمائی تھی اور یوں پاکستان میں یہ خبر پھیلی تھی کہ اس وقت شیخ الحدیث ذکریا کاندھلویؒ کے خلیفہ موجود ہیں ۔

پیر مختار الدین شاہؒ نے آج سے 40 سے 50 برس قبل ضلع ہنگو کے علاقے کربوغہ شریف میں اپنے شیخ کے نام پر دینی ادارے جامعہ دارالعلوم زکریاؒ (دارایمان والتقوی) کی بنیاد رکھی جہاں وہ اس وقت شیخ الحدیث بھی تھے اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے ۔

انہوں نے متعدد کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں ایمانی صفات دو جلدوں میں ، البرہان فی تعلیم القرآن جیسی تفسیر ، آئینہ ایمان ،عقیدہ اور عقیدت ، اسلام سے ملحد (انگریزی) ، اصلاحی مجالس ، اسلام اور آج کا مسلمان ، اسلام کے نام پر روحِ اسلام کو مٹانے کی شیطانی سازش ،کتاب الحیض ،کتاب القسم ، کتاب الطلاق ، مناجات الفقیر (انگریزی اور اردو) ، راہِ محبت اور ذکر الله کے فضائل و مسائل سمیت دیگر شامل ہیں ۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ان کی تحریک ایمان و تقوی سے لاکھوں لوگ وابستہ ہو گئے ، کربوغہ شریف جیسے دور افتادہ علاقے میں ہر سال درایمان و التقوی میں لوگ آتے اور رمضان الکریم میں پوری دنیا کا سب سے بڑا اجتماع یہیں پر ہوتا تھا جس میں لاکھوں افراد جمع ہوتے اور تزکیہ نفس اور اپنی اصلاح کرتے تھے ۔ جب کہ کربوغہ شریف کو جانے والی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، بجلی اور کمیونیکیشن کے ذرائع بھی وہاں کام نہیں کرتے ہیں تاہم ان کے مریدین لاکھوں کی تعداد میں ہرسال وہاں جمع ہوتے اور ہزاروں طلبہ زیر تعلیم بھی ہیں ۔

Exit mobile version