دنیا کے 13 ممالک میں‌ موجود 2400 تبلیغی افراد کی واپسی کیلئے حکومتی کمیٹی قائم

الرٹ نیوز : ” تبلیغی جماعت ” سے تعلق رکھنے والے 2 ہزار 4 سو ایک پاکستانی کورونا وائرس کی وبا کے دوران دین کا کام کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں مصروف ہیں اور وہ سب کے سب مکمل صحت مند اور خیر و عافیت کے ساتھ ہیں ۔

تاہم حکومت پاکستان نے ، پاکستانی افراد کو واپس لانے اور یہاں سے غیر ملکی تبلیغی افراد کو واپس بھجوانے کے لیے 6 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے ۔ تبلیغی جماعت کے مرکز رائے ونڈ کے زمے دار محمد اکبر شاہ کے مطابق دنیا کے مختلف ملکوں میں اب بھی 285 جماعتیں ” اللہ کے راستے میں ” مصروف عمل ہیں ۔

مذید پڑھیں : علمائے کرام کا ملک بھر میں مساجد کھولنے کا فیصلہ

تاہم اب وہ تمام اپنی وطن واپسی کے لیے فلائٹس دستیاب ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ، کیونکہ ان کے چار مہینے یا کوئی اور طے شدہ ” مدت ” ختم ہو چکی ہے ۔ وفاقی حکومت نے ہمارے ذمے داروں کے توجہ دلانے پر ان 4 ہزار 401 پاکستانیوں کو وطن واپس لانے اور یہاں موجود غیر ملکی ” تبلیغی ساتھیوں ” کی واپسی کے لیے بھی متعلقہ ممالک سے رابطہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

اکبر شاہ کا کہنا تھا کہ 285 جماعتیں ، سوڈان ، آسٹریلیا ، کنیڈا ، یوگنڈا ، ملائیشیا ، نائیجیریا ، نیوزی لینڈ ، زمبابوے ، تھائی لینڈ ، جاپان ، سوئٹزرلینڈ ، کمپوڈیا ، یوگنڈا ، ترکی، جرمنی ، کینیا اور دیگر ممالک میں ہیں ۔ ہر جماعت 5 تا 8 افراد پر مشتمل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکام کو ملک سے باہر تبلیغ کے لیے موجود تمام پاکستانیوں کی فہرست دیگر تفصیلات کے ساتھ پہنچادی گئی ہے۔

مذید پڑھیں :‌ باجماعت نمازوں کے اعلان پر علماء کو کن با اثر لوگوں کے فون آنا شروع ہوئے

جب کہ وفاقی حکومت نے پاکستان میں موجود تمام غیر ملکیوں کو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود پریشان نہ ہونے اور 30 اپریل تک واپس اپنے ملک جانے کی اجازت دینے کے ساتھ ان کو واپس متعلقہ ملک بھیجنے اور دنیا کے مختلف ممالک میں موجود “تبلیغی ساتھیوں ” کو واپس پاکستان لانے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے اعلی سطحی 6 رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے ۔

کمیٹی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی سربراہی میں قائم کی گئیں ۔ جس میں تبلیغی جماعت کی تین اہم شخصیات بھی شامل ہیں ۔ معلوم رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے احتجاج کے بعد تحریک انصاف کور کمیٹی کے بعض افراد نے عمران خان کو کہا کہ مولانا فضل الرحمن اس ایشو کو اٹھا سکتے ہیں جب کہ یہ ایک حقیقی ایشو ہے جس پر بعض لابی نے منفی پروپیگنڈا کرکے مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر مذہبی تنظیموں کو موقع فراہم کیا ہے ۔

مذید پڑھیں : تبلیغی جماعت کے قافلوں کو بلا وجہ پریشان کیا جا رہا ہے

تاہم ابھی تک کسی تنظیم نے بیانات کے بعد عملی احتجاجی حکمت عملی نہیں اپنائی ہے جس کی وجہ سے ہمیں دنیا بھر میں پھیلے ان ہزاروں افراد اور ان سے براہ راست وابستہ لاکھوں اور ان کے چاہنے والے کروڑوں لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کا بھی اچھا موقع مؤہے جس کے بعد وزیر مملکت شہر یار آفریدی کی قیادت میں کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو رائیونڈ مرکز سے مسلسل رابطے میں ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *