قائد عوام اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹیز میں تنخواہوں کا مسئلہ پیدا

الرٹ نیوز : خیرپور میں واقع شاہ عبداللطیف یونیورسٹی اور قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں جامعات میں بد انتظامی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں افسران ، ملازمین اور اساتذہ کرام کو جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے تنخواہوں کی مد میں 60؍ فیصد ادائیگی کی گئی اور 40؍ فیصد روک لی گئی ہے جس پر ملازمین اور اساتذہ میں سخت بے چینی پھیل گئی ہے۔ دوسری طرف مالی بے انتظامی کے باعث قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے لاڑکانہ کیمپس کے افسران، ملازمین اور اساتذہ کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کی گئی اور وہ ابھی تک تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر پروین شاہ اور قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم رضا اس حوالے سے خاموش ہیں ۔

مذید پڑھیں : ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں محققین کیلئے مسائل پیدا کر دیئے

فیڈریشن آف آل پاکستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ایڈمنسٹریٹیوز آفیسرز کے چیئرمین محمد طاہر خان نے سندھ کی دونوں شاہ عبداللطیف میں تنخواہوں کے مسئلہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے مارچ کی تنخواہ کی ادائیگی کی تاریخ 25 مارچ دے دی گئی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے سندھ کی بیشتر جامعات نے تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی۔ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور اور قائد عوام یونیورسٹی لاڑکانہ کیمپس میں تنخواہ کی بروقت ادائیگی نہ ہونے سے حکومت سندھ کی کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کامیاب کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا گمان ہوتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *