ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں محققین کیلئے مسائل پیدا کر دیئے

الرٹ نیوز : ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی محقیقن کیلئے تحقیق کی راہیں مسدود کر دیں ۔ پاکستان سے سالانہ کروڑوں روپے بیرون ملک بھیجنے اور تعلیمی معیار کو برباد کرنے کا نیا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے ۔ ایچ ای سی نے تحقیقی مجلات (ریسرچ جنرلز) کی زیڈ کیٹگری ختم کر کے بین الاقوامی صرف دو ایجنسیز سے انڈکٹ کرانے کی پالیسی وضع کردی ہے ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے 3 مارچ کو ایک نوٹی فکیشن نمبر 1465 جاری کیا گیا جس میں کہا ہے کہ ایچ جے آر ایس کے تحت ڈبیلو ، ایکس اور وائے کیٹیگری میں تمام جرنلز کو چیک کیا جائے اور اس کے بعد یکم جولائی 2020 تک اس جنرل کی کیٹیگری کو طے کیا جائے گا ۔ اس حوالے سے مذید معلومات کے لئے اسلام آباد ڈائریکٹر جنرل آر اینڈ ڈی ڈاکٹر طاہر علی شاہ سے مذید تفصیلات لینے کے لئے کہا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : پی ایچ ڈی ایسوسی ایشن نے آن لائن الیکشن کے نتائج جاری کردیئے

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی نوٹی فکیشن کے بعد تمام یونیورسٹیز کو ہدایات دی گئی ہیں ان شائع ہونے والے ریسرچ جنرلزکو بین الاقوامی صرف دو ایجنسز کے ساتھ رجسٹریشن کرانا ہو گی جن میں ویب آف ٹائم اور اسکوپس شامل ہیں ۔ ان دونوں کےعلاوہ کسی بھی دیگر ایجنسی میں رجسٹریشن نہیں کرائی جاسکے گی ۔ حیرت انگیز طور پر مذکورہ مسلط کردہ فیصلے کی روشنی میں پاکستان کے نصف سے زائد تحقیقی مجلات بند کو جائیں گے جب کہ دیگر رہ جانے والوں کو عالمی ایجنسز کے معیار پر اترنے کے لئے اپنے محققین کی تعداد کو نصف سے بھی کم کرنا پڑے گا ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تحقیقی معیار کو بہتر بنانے کے نام کھیلا جانے والا کھیل پاکستان کے حق میں ہے نہ ہی محقیقین وجامعات کی خدمت ہے ۔ ملک و تعلیم دشمن یہ اقدام پاکستان میں تعلیمی معیار کو کم کرنے اور ملک سے سالانہ کروڑوں روپے کو ریونیو بیرون ممالک بھیجنے اور کمیشن بٹورنے کی سازش ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس ایچ ایس سی کی موجود انتطامیہ نے زیڈ کیٹگری کے جنرلز کو ختم ہی کردیا ہے جس کی وجہ سے دیگر تین کیٹیگریز پر بوجھ بھی بڑھ گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق سربراہ پر9 گاڑیوں کے استعمال کا الزام

بین الاقوامی دونوں ایجنسیز کے ساتھ پاکستانی ریسرچ جنرلز کی رجٹریشن فیس 2 سے ڈھائی لاکھ روہے ہے اور اس کے علاوہ ہر 6 ماہ بعد پاکستان سے 500 ریسرچ جنرلز کے شمارے اپ لوڈ کرنے کی مد میں 50 ہزار روپے لینے کی صورت میں دو کروڑ 50 لاکھ روپے ہر 6 ماہ بعد مذکورہ دو ایجنسیز کے نام پر بیرون ملک جائیں گے جب کہ سالانہ یہی رقم 5 کروڑ روپے بنتی ہے اس کے علاوہ مذکورہ تینوں کیٹیگریز کے ریسرچ جنرلز کی سالانہ تجدیدی فیس بھی کروڑوں میں بنتی ہے ۔ تاہم 10 فیصد کمیشن وصول کرنے کے لئے ایچ ای سی کا متعلقہ ڈائریکٹر جنرل مبینہ طو رپر ظالمانہ اقدام پاکستانی محقیقن و جامعات کے سر پر تھوپنا چاہ رہے ہیں ۔

اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے پاکستان بھر کے مختلف شہروں میں خاموشی سے تحقیقی عمل کو پروان چڑھانے والے محققیق کو جمع کردیا ہے ۔ جس کے بعد گزشتہ روز تحقیقی مجلات پاکستان کے ایڈیٹرز نے باہمی طور پر ایک ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا ہے جس کے انتخابی عمل کے ذریعے ڈاکٹر سید باچا آغا کو مرکزی صدر جب کہ ڈاکٹر بشیر احمد کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے ۔ نو منتخب صدر سید باچا آغا کا کہنا ہے کہ ہم ہائرایجوکیشن کمیشن کی ناجائز پاپائیت تسلیم نہیں کرتے ، لہذا وہ مجلات کے متعلق اپنے حالیہ فیصلوں کو واپس لیکر ایڈیٹرز ایسوسی ایشن اور فپواسا کی مشاورت سے قابل قبول و قابل عمل پالیسی تشکیل دیں ۔

مذید پڑھیں : یونیورسٹیوں کے لئے فنڈز کمی کا بہانا ،HEC نے 21ویں گریڈ کی مراعات دیکر10 مشیر بھرتی کرلئے ،

آل پاکستان قومی تحقیقی مجلات کے مرکزی ایسوسی ایشن کے انتخابات الیکشن کمیٹی کے ممبران ڈاکٹرضیاء الرحمن اورڈاکٹر عزیزالرحمن سیفی کے نگرانی میں مکل ہوِئے ، جن میں پروفیسر ڈاکٹرمحمد ضیاءالحق، پروفیسر ڈاکٹر محی الدین ہاشمی، پروفیسر ڈاکٹرعبدالقدوس صہیب اور پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی ایگزیکٹیو ممبرز نامزد کئے گئے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹرعبدالغفاربخاری کو چیئرمین ، پروفیسرڈاکٹر روبینہ شاہین کو ڈپٹی چیئرمین ، ڈاکٹرسید باچا آغا کو صدر، ڈاکٹر محمد افضال بٹ کو سینئر نائب صدر، ڈاکٹر جنید اکبر کو نائب صدر، ڈاکٹربشیر احمد درس کو جنرل سیکرٹری، ڈاکٹر محمد الطاف یوسفزئی کو ڈپٹی جنرل سیکرٹری، پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال کو فنانس سیکرٹری جب کہ ڈاکٹراعجاز علی کھوسہ کو سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا گیا ہے ۔

نومنتخب کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے تمام تحقیقی مجلات آرٹس و سوشل سائنسز کا نمائندہ پلیٹ فارم ہونے کے ناطے مجلات کو درپیش مشکلات کے قابل عمل حل کے حوالے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ مرکزی صدر نے کہا کہ پاکستان کی تمام جامعات کی نمائندہ تنظیم فپواسا کو چاہیئے کہ وہ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے نا جائز اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں ۔ کیونکہ مجلات کی بقاء اور کامیابی سے ہی تمام محققین کی پروموشن اور تحقیق کا دائرہ وسیع ہونا ممکن ہے ۔ اگر مجلات حالیہ عتاب کے زیر اثر رہے تو تمام پروفیسرز کے تحقیقی عمل کو لاک ڈاون لگ جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *