جامعہ اردو نےغیر قانونی افسر کو قانونی مشیر بنا ڈالا

الرٹ تحقیقات : وفاقی جامعہ اردو سے 13 برس قبل ریٹائرڈ ہونے والا ایسوسی ایٹ پروفیسر بدرالزمان تاحال 73 برس کی عمر میں بھی جامعہ میں موجود ہے ۔ بیک وقت 55 ہزار تنخواہ اور 80 ہزار روپے پینشن کی مد میں رقم وصول کررہے ہیں ۔ تدریس کیلئے کنٹریکٹ پر غیر قانونی نوکری دی گئی تھی ،جس کے بعد سابق کرپٹ انتظامیہ نے اپنے غیر قانونی کاموں کو قانونی شکل دینے کے لئے قانونی مشیر تعینات کردیا تھا ۔

سابق وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر محمود نے بدرالزمان کو ریٹائرڈمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر 35 ہزار تنخواہ کے عوض بھرتی کیا تھا ، ظفر اقبال نے آتے ہی انہیں ہٹا دیا تھا ، جس کے بعد جعلی پی ایچ ٖڈی ہولڈر سلیمان ڈی محمد نے دوبارہ 35 ہزار ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیا تھا ، بعد ازاں زائد العمر وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین نے اپنی زائد المعری کی برابری کی وجہ سے بدرالزمان کی تنخواہ 55 ہزار روپے کر دی تھی ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو کے کرپٹ افسران کے ہاتھوں اسسٹنٹ ٹریژار بصام عبدالماجد کا قتل ہو گیا

جامعہ اردو کے سابق رجسٹرار آصف علی کے دستخط سے 18 اگست 2015 کو جاری ہونے والے مجاریہ/درا/2102/2015 کے مطابق بدر الزمان کو بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر معاہداتی طور پر شعبہ سیاسیات مجلس اول میں صرف 5 ماہ کیلئے بھرتی کیا گیا تھا ۔ جنہوں نے مسلسل 5 سال لگا دیئے ہیں ۔ اس کے بعد سے بدر الزمان نے کلاسیں نہیں لی ہیں ۔ جب کہ رجسٹرار آفس کے سامنے انہیں کمرہ دیا گیا ہے ۔

بدر الزمان کی عمر اس وقت 73 برس بتائی جاتی ہے ۔ بدر الزمان اس وقت پنشن کی مد میں حکومت سے 80 ہزار روپے سے زائد کی رقم لیتے ہیں جب کہ تنخواہ کی مد میں 55 ہزار روپے وصول کرتے ہیں ۔ بدرالزمان پولیٹیکل سائنس کے استاد کی حیثیت سے دوبارہ ملازمت پر بھرتی ہوئے تھے تاہم گزشتہ کئی برسوں میں انہوں نے کوئی بھی کلاس نہیں لی ہے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو تنخواہ 3 روز پہلے دیکر ریکارڈ قائم کرے گا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق کسی بھی سرکاری عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے افسر کو دوبارہ نوکری پر تعینات نہیں کیا جاسکتا ہے ۔جب کہ بیک وقت پنشن اور تنخواہ بھی غیر قانونی ہے ۔ معلوم رہے کہ حکومت نے 60 سال عمر ریٹائرمنٹ کيلئے اس لئے رکھى ہے کہ عمر کے اس حصے کے بعد میڈیکل کی بنیاد پر انسان کسی ذمہ داری والی جگہ پر نوکری کے قابل نہیں ہوتا ہے ۔ انسانی ہوش وہواس ،استعداد اور سوچنے سمجھنے کى صلاحيتيں بہت نچلى سطح پر آ جاتى ہیں ۔ جس کے باعث ملازمت سے ریٹائرڈمنٹ دے دی جاتی ہے ۔جب کہ جامعہ اردو میں اس عمر کے بعد بھی 13 سال سے بدر الزمان سے قانونی مشاورت لیئے جانے کا عظم کام انجام دیا جارہا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے جامعہ اردو کی مسلسل پستی ، نیک نامی کے زوال اور بد انتظامی سمیت کرپشن کی کہانیاں اس لئے عروج پر ہیں کہ اعلی افسران کو مشاورت فراہم کرنے والے شخص 73 سال کے ہیں ۔ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹرعارف زبير سے استدعا کی ہے کہ وہ جلد از جلد زائد العمر غیر متعلقہ شخص سے قانونی مشیر کا عہدہ واپس لے کر انہیں باعزت گھر کو بھیج دیں تاکہ جامعہ کی نیک نامی میں اضافہ ہو ۔ بصورت دیگر ایسے غیر قانونی مشیروں کی وجہ سے ڈاکٹر قیصر ، ڈاکٹر ظفر اقبال ، پروفیسر سلیمان ڈی محمد اور ڈاکٹر الطاف حسین کی طرح ہی ڈاکٹر عارف زبیر کی شہرت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں : ملک ریاض نے آپ نیوز چینل کیوں بند کرایا ؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کرپٹ رجسٹرار ڈاکٹر صارم نے سب سے زیادہ مشاورت بدرالزمان سے ہی کی تھی ۔ دستاویزات کے مطابق بدر الزمان نے جامعہ اردو کے ہونہار افسر ڈپٹی ٹریژار بصام عبدالماجد کی تنخواہوں کو روکنے ، اسے ذہنی مریض قرار دینے سے لیکر ہر سطح پر اس کی فائل کو روکنے سمیت گھر میں فاقوں اور ذہنی اذیت میں لانے تک میں کردار ادا کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے سول سوسائٹی کی جانب عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جس میں بدرالزمان کو رسپوڈنٹ میں شامل کیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *