جامع مسجد بنوری ٹاؤن کےنائب امام و خطیب حضرت مولانا سید عتیق الحسن الحسینی صاحب کی طرف سے اہم خط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان !!!

سلام اللہ علی من اتبع الھدی

دیکھئے بغیرکسی تمہید یہ بات پیش خدمت ہے کہ اس پاک سرزمین کا ہر شہری پاکستانی ہے اور پاکستان کے قانون کا جہاں پابند ہے وہاں قانون اسے امن کی گارنٹی بھی دیتا ہے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کی تلقین کرتا ہے۔۔۔۔۔لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ جب قانون یکطرفہ ہوجاتا ہے تو پھر ایک جانب مظلوم بن جاتی ہے اور جب اسے انصاف نہیں ملتا تو اس میں ظالم کی جو صورت ہو اس سے ٹکرلینے کےجذبات ابھرناشروع ہوجاتے ہیں اور پھر ملک انارکی کی جانب گامزن ہوتا چلاجاتا ہے جس کے نتیجہ میں دشمن کو محنت نہیں کرنا پڑتی بلکہ وہ دور سے بیٹھ کر خوشی کے ترانے بجاتا ہے۔۔۔۔
چنانچہ قرآن نے خود اس حقیقت کو آشکارا کیا ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وإن تصبكم سيئة يفرحوا بها….الآية .

یعنی۔۔۔۔اور اگر تم کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں۔۔۔

لہذا دو باتوں کا خیال فرمائیں۔۔۔۔

1) ناموس رسالت کے قانون کو چھیڑنے کے لئے منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو ڈھیل مت دیں اور جو ان کی پشت پناہی کررہے ہیں ان کے چہرے بے نقاب کریں اور گرفتار کردہ پر امن شہری علمائے کرام اور ملک سے محبت کرنے والے طلبہ مدارس کو باعزت بری کرنے کا حکم نامہ جاری کریں ورنہ مظلوم کی بددعاء ظالموں کا ستیاناس کردے گی اور ملک میں امن برقرار رہنے کی گارنٹی دینا مشکل ہوجائے گا۔

2) دوسری بات یہ کہ یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ مدارس و جامعات کے علمائے کرام اور ان کے تلامذہ طلبہ سے زیادہ کوئی بھی ملک کا اس قدر خیر خواہ نہیں اور نہ ہی ان سے بہتر محافظ اور فوج کے شانہ بشانہ دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے والا ہے۔
یہ بات تمام جرنیلوں کو بخوبی معلوم ہے کہ افغان جہاد سے لے کر آج تک پاکستان کی افغانستان سے ملی 2200 میل کی مسافت سرحدوں کی حفاظت میں کہاں کے پڑھے ہوئے مجاہدین پاک سر زمین کے چوکیدار بنے ہوئے ہیں۔
اب اگر اس احسان کا بدلہ ظلم سے دیا جائے گا تو یقینا یہ طویل سرحد بھی غیر محفوظ ہوجائے گی۔
لہذا خود اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے والے کاموں سے اجتناب کیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ دو چیزوں کی حفاظت اور سپورٹ کرنے میں اس پورے ملک کی حفاظت بھی ہے اور ترقی بھی ہے۔۔۔۔۔۔

ایک ناموس رسالت کے قانون کی بقا۔
اور
دوسرے مدارس اسلامیہ کی بقا۔

اگر آپ ان دو اہم چیزوں کے محافظ بن گئے تو سمجھ لیں اول کی حفاظت کے نتیجہ میں براہ راست اللہ تعالی کی مدد ونصرت آپ کی اور ہمارے ملک کی ترقی میں شامل حال رہے گی۔
اور دوم کی حفاظت کے نتیجہ میں حکومت اور پاک فوج کو وہ تعاون حاصل ہوگاجس کا آپ تصور نہیں کرسکتے۔

ناموس رسالت کے قانون کو ہماری ضرورت نہیں اس ختم رسالت کا محافظ تو صرف اللہ ہی کافی ہے اور وہ اس کے دشمنوں نمٹنا بھی خوب جانتا ہے۔۔۔۔یہ تو در حقیقت ہماری اور آپ کی آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ اور بہانا ہے۔
اور مدارس کو آپ کے ایک رپیہ کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالی مسلمانوں کے دلوں میں اپنے دین کے محافظ مدارس کے ساتھ تعاون کا شوق ڈالتا ہے جسے کوئی بھی نہیں نکال سکتا۔
عقل مند انسان وہ ہے جو ماضی سے درس لیتا ہے اور جو درس نہیں لیتا وہ قدرتی طور پر بڑا نقصان اٹھاتا ہے۔

محترم !!!
یہ تحریر محض آپ لوگوں کو جہاں تشویشناک حالات پر قابو پانے کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہے تو وہاں آپ کو آپ کی آخرت کی فکر دلانے کے لئے بھی ہے۔۔۔۔اور اس لئے بھی کل محرر سے رب تعالی سوال نہ کرے کہ تم نے پیغام حق کیوں نہ پہنچایا تھا۔
الحمدللہ بندہ خدا نے آپ تک پیغام پہنچانے کی سعی کرلی ہے اب عنداللہ برئ الذمہ ہوگیا ہے ، آگے کی ذمہ داری آپ کی ہے قرآن نے ختم نبوت کا اعلان کردیا ہے اب جو اس کے منکر ہیں اور ملک میں بدامنی کے خواہاں ہیں ان کو قابو کرنا آپ کا کام ہے اگر قابو نہیں کیا تو اہل ایمان کی کثیر تعداد بے قابو ہوسکتی ہے اس لئے یکطرفہ پالیسی یکسر ختم ہونی چاہئے اور ملک پاکستان کے متفقہ بل کے مطابق قادیانیوں کی آزادی اور دہرے معیار پر سختی سے پابندی کی تجدید ہونی چاہئے۔

ہم وہ مسلمان ہیں کہ اگر قادیانی اتنے بڑے جرم کے بعد بھی توبہ کرلیں اور ختم نبوت تسلیم کرکے آجائیں تو ہم خود ان کو اپنا حاکم بنالیں گے لیکن ڈکیتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سلسلہ میں ختم نبوت کا ہر سپاہی ہر صورت حال سے نمٹنے کے لئےتیار ملے گا۔امید ہے کہ آپ بہتر اقدام کا فیصلہ کرکے ملک کو انتشار سے بچائیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *