سینئر صحافی احفاظ الرحمان انتقال کر گئے

الرٹ نیوز : پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدر سینئر صحافی احفاظ الرحمن طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں ۔ احفاط الرحمن کو 3 اپریل کو کراچی کے آغا خان اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ، جن کی طبعیت انتہائی ناساز تھی ۔

احفاظ الرحمن کی صحافی برادری کے لئے بے شمار خدمات ہیں ۔ مرحوم سینئر صحافی ہونے کی وجہ سے صحافیوں کے استاد بھی تھے ۔ متعدد اداروں کے اعلی مناسب پر کام کیا ، ناصر بیگ چغتائی کا کہنا ہے کہ ہم نے ان سے فیچر رائٹنگ سیکھی تھی ۔ بیماری سے قبل وہ ایکسپریس میگزین کے گروپ ایڈیٹر تھے ۔ انہوں نے متعدد کتابیں بھی لکھیں ، تراجم کیئے اور ان کی ہی وجہ سے صحافیوں کے لئے ویج بورڈ کا انعقاد ممکن ہوا تھا۔

مذید پڑھیں : جنگ گروپ کے چیئرمین انتقال کر گئے

احفاظ الرحمٰن ان محدودے چند صحافیوں میں ہوتا ہے ، جنہیں عالمی سطح پر جمہوریت کے لئے ان کی جدوجہد کی بنا پر جانا جاتا ہے ، ضیاء مارشل لاء دور میں قید و بند کی صعوبتوں سے انہین گزرنا پڑا تھا ۔ سوشلسٹ اور ترقی پسند ذہن رکھنے والے احفاظ بھٹو فلسفے کو مقدم سمجھتے تھے ۔

احفاظ الرحمن کی ایک یاد تصویر جہاں دور طالب علمی میں فیض احمد فیض سے انعام وصول کر رہے ہیں ۔

احفاظ الرحمن صحافتی آزادی کے لئے قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کیا ، صحافت اور میڈیا کے کارکنوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی ہیں ۔ متعدد آمرانہ پاکستانی حکومتوں اور کارپوریٹ میڈیا ہاؤسز کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہے ، مالکان کی جانب سے صحافیوں اور دیگر کارکنوں کو پریس انڈسٹری کے حقوق دینے سے انکاری تھے اور احفاظ الرحمن حق دلوانا چاہتے تھے ۔انہوں نے بہت ساری کتابیں لکھیں اور ترجمے بھی کئے ہیں ۔ پریس کی آزادی اور ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لئے ان کی کوششیں نمایٓاں ہیں ۔ انہیں پاکستانی میڈیا حلقوں میں انتہائی عزت و احترام سے جانا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں : ملک ریاض نے آپ نیوز چینل کیوں بند کرایا ؟

1993 میں ضیاء دور کے خاتمے کے بعد وہ پاکستان واپس آئے اور میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اردو اخبار ڈیلی جنگ میں شامل ہو گئے ۔ 2002 میں وہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے ، جو کہ پاکستانی صحافیوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے اور وہ دنیا کے صحافیوں کی سب سے بڑی فیڈریشن ، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) سے وابستہ رہے ۔

احفاظ الرحمن پی ایف یو جے کے صدر رہے ، انہوں نے صحافی مزدوروں کو ان کے مناسب حقوق نہ دینے پر ویج بورڈ ایوارڈ پرعمل درآمد نہ کرنے کے لئے ملک کے اخبار اور میڈیا ہاؤس مالکان کے خلاف مستقل احتجاج کیا تھا ۔ جس کے بعد اس حق کی پاداش میں خدمات سے معطل کردیا گیا تھا ۔ بے روزگاری کے ایک اور دور کے بعد بالآخر احفاظ الرحمٰن کو ایکسپریس اخبار میں ایڈیٹر رکھ لیا گیا تھا ۔وہ ہفتہ وار کالم بھی لکھا کرتے تھے ۔ جو اتوار کو بلیک اینڈ وائٹ کے نام سے روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتا تھا ، نومبر 2007 میں وہ اس گروپ کے ساتھ وابستہ ہوئے تھے ۔احفاظ الرحمن وہ واحد پاکستانی صحافی تھے جنہیں مشرف دور میں میڈیا پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے دوران سب سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا ۔

مذید پڑھیں : کراچی کے صحافی حسن منصور اور غلام مصطفی فاروق انتقال کر گئے ،

فروری 2008 میں احفاظ الرحمن پاکستانی ادب کی تاریخ میں سب سے پہلے آدمی تھے ، جن کی ایک ہی دن میں چار کتابیں شائع ہوئیں اور آرٹس کونسل کراچی میں ایک ساتھ ان کی تقریب پذیرائی کی گئی تھی ، جس میں وہ بیک وقت شاعر ، ادیب ، صحافی کے طور لوگوں کے سامنے آئے تھے ۔ نومبر 2013 میں کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والی چھٹی بین الاقوامی اردو کانفرنس میں ان کی شاعری کا ایک نیا مجموعہ ’’زندہ ہے زندہ باد ‘‘ کی تقریب پذیرائی کی گئی تھی ۔

2015 میں احفاط الرحمٰن نے ضیاء الحق آمریت کے خلاف پریس آزادی کی تاریخی تحریک کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی ۔اس کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی تھی ۔ کتاب میں 1977-78 میں صحافیوں کی آزادی صحافت کی تحریک کی تاریخ کا بیان کی گئی تھی ۔ احفاظ الرحمن ادیب بھی تھے ،ان کی متعدد غزلیں شہرت پا چکی ہیں جب کی ان کو صحافت ، ملت و ملک کو واضح کرتی ایک نظم بہت مقبول ہوئی تھی ۔

مذید پڑھیں : مفتی منیب الرحمن نے بریلوی مسلک کے علماء کو حق چھپانے پر جھنجھوڑ دیا

عزم عالی… شان

یہ زمین خریدوں گا، یہ آسمان خریدوں گا
آسمان کے سینے پر اپنا نام لکھوں‌ گا
مے کدہ خریدوں گا، گلستان خریدوں گا
گلستان کے چہرے پر اپنا نام لکھوں گا

عزم عالی شان میرا ، ہاتھ آہنی میرا
راگ آہنی میرا، ساز آہنی میرا
اپنے ساز کی دھن پر سب کو میں‌نچائوں‌گا
عزم عالی شان میرا

کس جہاں‌میں‌رہتے ہو، خواب دیکھتے ہو تم
ریت کی لکیروں‌ پر آشیاں بناتے ہو
پائمال راہوں کو راہنما بناتے ہو
کہنہ ضابطوں کو تم پاسبان بناتے ہو
کس جہاں‌میں رہتے ہو، خواب دیکھتے ہوتم

ہر اصول کی قیمت میری جیب کے اندر
ہر قماش کے پتے میری جیب کے اندر
چیخنے سے کیا حاصل، رینکنے سے کیا حاصل
اس جہان میں پیارے ، ہر کوئی بکائو ہے
مال و زر کی منڈی میں زندگی بکائو ہے
ضابطے خریدوں‌ گا، آئینے خریدوں گا
آئینوں‌کی دھڑکن کے سلسلے خریدوں گا
کون سی ہے شے جس کے دام لگ نہیں‌ سکتے
ہر ضمیر بکتا ہے ، ہر خمیر بکتا ہے

میں قلم خریدوں گا ، عدلیہ خریدوں‌ گا
آدمی خریدوں‌ گا ، فیصلہ خریدوں گا
یہ زمیں خریدوں‌گا، آسماں خریدوں گا
آسماں کے سینے پر اپنا نام لکھوں‌ گا
پاک سرزمین میری، عزم عالی شاں میرا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *