مفتی منیب الرحمن نے بریلوی مسلک کے علماء کو حق چھپانے پر جھنجھوڑ دیا

الرٹ نیوز : مفتی منیب الرحمن نے اہلسنت بریلوی مسلک میں پائی جانے والی فروعات اور بدعات کے خاتمے کیلئے اپنے ہی علماء کو کھری کھری سنا دی ہیں ۔ اہلسنت و الجماعت کے مفتی اعظم پاکستان و مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے نجی مجلس میں بریلوی مسلک کے علماء کو جھنجھوڑ دیا ہے کہ وہ عوام اہلسنت کو حق بتائیں ۔

مفتی اعظم پاکستان منیب الرحمن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ علمائے کرام کی ایک نجی مجلس میں بیٹھے ہیں ۔جہاں انہوں نے انتہائی دردِ دل کے ساتھ علمائے کرام کو بتایا کہ ایک دن میں نے گھکول شریف کی مسجد میں نماز پڑھائی ۔ جہاں دو صفیں اول رکعت والی تھیں جب کہ 8 صفوں کے نمازی مسبوق ( اول یا دوم رکعت چھوٹ جانے والے) تھے ۔ سلام پھیرنے کے فورا بعد با آواز بلند درود شریف شروع کردیا گیا ، جس پر ان لوگوں کی نماز میں خلل آنے کا اندیشہ تھا ۔

مذید پڑھیں : سندھ حکومت آئمہ پر قائم مقدمات واپس کرے ورنہ سوچنے پر مجبور ہونگے : مفتی منیب الرحمن

تاہم ہمارے علمائے حضرات ان نمازیوں کو نہیں بتاتے کہ ذکر آہستہ آواز میں بھی کر لیا کریں تاکہ دیگر نمازیوں کو مسئلہ نہ ہو، کیوں کہ ان کی کچھ رکعت نماز رہتی ہے ۔ علماء خوف کھاتے ہیں اس لئے وہ یہ مسئلہ عوام کو نہیں بتا سکتے ۔ کیوں یہ خوف اللہ سے نہیں اپنے نمازیوں سے ہے ۔ اس وجہ سے ہم دنیا میں امت سے الگ تھلگ ہیں ۔ یا تو ہم یہ کہیں کہ ہمارے خطے کے لئے الگ نبی آئے تھے ۔ اگر ہم اس نبی کے امتی ہیں جس کےعالمی سطح پر امتی ہیں ۔ اور ہم بھی اہلسنت و الجماعۃ کی حیثیت سے اس امت کا ایک حصہ ہیں ۔ تو پھر ہمیں اس دور میں یہ چیزیں سوچنی چاہیئں کہ ہم ہر جگہ علیحدہ کیوں ہیں ۔

مفتی منیب الرحمن نے تمثیل دی کہ ہماری مسجد اگر انگلیڈ میں ہے تو وہ علیحدہ ہے اور اگر امریکا میں ہے تو وہاں علیحدہ سسٹم ہے ۔ میں امریکا گیا تو وہاں دعوت اسلامی والوں نے مجھے کہا کہ ہماری مسجد میں آئیں ۔ میں چلا گیا تو ہر بات پر مدینہ مدینہ کہہ رہے تھے ، میں نے انہیں کہا او اللہ کے بندو ! یہاں مسجد میں کسی کو داخل تو ہونے دو ، اس کے بعد مدینہ کا اثر اس میں داخل کر لینا ۔ لیکن باہر سے ہی ٹرینڈ مارک شروع کر دیا ، اب باپر سے المدینہ گرین ہے تو شروع سے ہے تو اس وقت صحابہ کرام ،تابعین تھے ، اس وقت یہ چیز کیوں نہیں تھی ۔

مذید پڑھیں : مفتی عدنان کاکا خیل نے نوجوانوں کیلئے چوتھا کامیاب پروگرام شروع کر دیا

مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ عام طور پر ہمیں ایک اجتماعی تحریکی اور تجدید کی ضرورت ہے ۔ تاکہ ہم اس ماحول سے نکلیں ۔ اس بات کے بعد سامنے بیٹھے ہوئے ایک عالم دین نے کہا کہ اس ہر ہمیں جرت کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور نماز کے بعد بلند آواز سے جو درود پڑھتے ہیں اس کو آہستہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ جس پر مفتی منیب الرحمن نے تائید کرتے ہوئے پھر کہا کہ اس سے حرج ہی کیا ہے ۔ تاہم مفتی منیب الرحمن نے کہا میں تو جرت کرتا ہوں اور ہر جگہ بیان کرتا ہوں کہ علمائے کرام کھڑے ہو جائیں اور اگر علمائے کرام اس کے لئے کھڑے ہو جائیں گے تو ان کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا ۔ لیکن علما ڈگمگا رہے ہیں ۔

جس پر سامنے بیٹھے ایک عالم دین نے دوبارہ کہا کہ میں نے ایک جگہ عرض کیا تھا کہ یہ جو بہشتی دورازہ کا تصور ہم نے بنا لیا ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ جو اس دورازے سے گذر گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا ۔ اس کے لئے لوگ دو دو روز انتظار میں کھڑے رہتے ہیں اور اس دوران نہ نماز اور نہ وضو ہوتا ہے ۔ مگر اس دورازے سے جنت میں جانا ہے ۔ اس کے بعد مفتی منیب الرحمن نے کہا میں اس سال ٹیلی ویژن پر بتاتا رہا ہوں کہ جتنی چادریں مزارات پر چڑھائی جاتی ہیں یہ اصراف ہے یا نہیں ؟ احترام کے لئے ایک چادر کافی ہے ۔ اب 25 اور پچاس پچاس چادریں چڑھائی جارہی ہیں ۔ اب اوقاف والے کیا کرتے ہیں کہ وزیر آیا تو اس کے گلے میں ڈال دی ۔ ارے بھائی آپ اس چادر کے مالک ہی نہیں ہیں ، آپ کیسے دے رہے ہیں ؟ ۔ فقہا نے لکھا ہے کہ وہاں جو کپڑے وغیرہ دیں وہ فقرا کا مال ہو گا ، اب اس چادر کے ساتھ فقرا کیا کریں گے ؟

مذید پڑھیں : وفاق المدارس کے 1 سال میں 78 ہزارحافظ قرآن تیار

مفتی منیب الرحمن نے کہ اگر صاحب مزار کے احترام میں ایک چادر چڑھا دی اور اس کو ہم استدلال بیت اللہ کے غلاف سے کرتے ہیں کہ علامت تکریم ہے ۔ یہ تو نہیں ہے کہ 25 اور پچاس چادریں ڈال دیں اور داتا صاحب کو عرس ہے تو لفنگے چادر پکڑ کر چندہ مانگ رہے ہیں ۔ مفتی منیب الرحمن نے علمائے کرام کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کی پکڑ سب سے زیادہ ہو گی کہ جانتے بوجھتے آپ نہیں اٹھ رہے کہ ہم اس قوم کی اصلاح کریں اور ان کی رہنمائی کریں ، بس فکر معاش کی وجہ سے اصلاح نہیں کررہے ۔

اس کے بعد سامنے بیٹھے اسی عالم دین نے دوبارہ کہا ہمارا مدرسہ جامعہ رشیدیہ داتا دربار کے سامنے ہے ۔ وہاں جب بھی عرس کا موقع ہوتا ہے تو ڈھول باجے شروع ہو جاتے ہیں ۔ ساری ساری رات چادریں چڑھائی جاتی ہیں ۔ ناچنا کعدنا چلتا رہتا ہے ، جس پر مفتی منیب الرحمن نے قدرے اونچی آواز میں کہا کہ ہم نے لکھ کر دیا تھا یہ فتوی جاری کرو ورنہ تم پکڑے جائو گے ۔ ہمارا کام مسئلہ بیان کرنا ہے ۔ جتنی ہماری اعراس کی تقریبات ہیں ، ان سب کا زیرو فیصد درست استعمال نہیں ہوتا ۔ میں داتا دربار جاتا ہوں مجھے ایک سیشن کی صدارت دیتے ہیں ۔ وہاں 25 پیر بیٹھے ہوتے ہیں ۔ 25 واعظ ہونگے ، ہرایک چاہتا ہے ، اسپیکر پر میرا نام لیا جائے ، اب اگر کسی کو کھڑا کریں گے تو اس کو تربیت اور اصلاح کی کوئی غرض نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں : پیر نورالحق قادری اورفواد چوہدری میں اختلافات سامنے آ گئے

مفتی منیب الرحمن نے مذید کہا کہ وہ واعظ اور پیر یہ چاتت ہیں کہ ایٹم بم کو پھنک دو کی طرح کا بس نعرہ لگ جائے ۔ اتنا مرکزی عرس ہے ، میں نے ان سے کہا اللہ کا واسطہ ہے ایک سیشن میں ہی سہی ، آدھے گھنٹہ میں خطاب کریں تاکہ جو لوگ آئے وہ دین لیکر جائیں ، مفتی منیب الرحمن نے علمائے کرام کو مخاطب کرتے ہوئے پھر کہا کہ آپ بریلوی حضرات کا جو حشر ہو گا اس پر میں اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں ۔

نوٹ : اس واقعہ کی ویڈیو الرٹ نیوز کے یوٹیوب چینل پر درج ذیل لنک پر کلک کرکے دیکھی جا سکتی ہے ۔

ویڈیو دیکھیں : مفتی منیب الرحمن نے بریلوی علما کو حق بولنے تلقین کیسے کی ؟

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close