ڈاکٹرز کا ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کا معاملہ، پی ایم ڈی سی نے فیصلہ جامعات کے وائس چانسلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

رپورٹ :سید محمد عسکری

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) نے پاکستان کی جنرل سرکاری جامعات سے ایم فل، پی ایچ ڈی اور ایم ڈی کرنے والے سیکڑوں ڈاکٹرز کو اپنی اسناد تسلیم کرانے کا موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ جنرل جامعات کے وائس چانسلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے.

پی ایم ڈی سی کے اسسٹنٹ رجسٹرار اسماعیل کی جانب سے تمام جامعات کے وائس چانسلرز کو خط لکھے گئے ہیں۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مختلف ڈاکٹروں کے کراچی یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے رجسٹریشن کے مسئلے کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اجلاس 17؍ جولائی 2018ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں کونسل کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں اور کراچی یونیورسٹی کے ذریعے مختلف ڈاکٹروں کیلئے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز پی ایم ڈی سی آرڈیننس مجریہ 1962ء کے تیسرے شیڈول میں شامل نہیں اور انہیں غیر قانونی رجسٹریشن کی بنیاد پر رجسٹریشن نہیں دیا جا سکتا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے جن افراد کو یونیورسٹی کی جانب سے یہ ڈگریاں جاری کی گئی ہیں وہ یہ ڈگریاں استعمال کر سکتے ہیں تاہم انہیں پی ایم ڈی سی کی جانب سے رجسٹریشن فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں انہیں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی چاہے تو اپنی جاری کردہ ڈگریوں کو ’’تسلیم شدہ‘‘ کی حیثیت دلوانے کیلئے کونسل کے ترمیمی آرڈیننس میں وضع کردہ طریقہ کار کے تحت درخواست دے سکتی ہے۔ کونسل کے اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا ہے کہ تربیتی مقام کو تسلیم شدہ قرار دیے جانے اور اس کے معائنہ کے بعد وفاقی وزارت کی جانب سے اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا جس کے بعد تسلیم شدہ ڈگریوں کا رجسٹریشن ممکن ہو سکتا ہے۔

تربیتی مقامات سے رسماً کہا جائے کہ وہ وضع کردہ طریقہ کار کے تحت الحاق کیلئے درخواست دیں۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں پی ایم ڈی سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کی روشنی میں اپنی درخواست وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کو آرڈینیشن اسلام آباد میں جمع کرائیں تاکہ پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کو ’’تسلیم شدہ‘‘ کی حیثیت مل سکے۔ یاد رہے جنرل جامعات سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹرز کو اپنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کی تصدیق کرانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی تعاون نہین کررہا جس کی وجہ سے پی ایم ڈی سی ان کی اعلیٰ اسناد کو رجسٹرڈ کرنے پر تیار نہیں ہے صرف جامعہ کراچی سے 70 سے زائد ڈاکٹرز کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند پی ایم ڈی سی گزشتہ پانچ سال سے تسلیم نہیں کررہی تاہم اس سے قبل تمام ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے امیدواروں کی پی ایم ڈی سی نے کیسے تسلیم کیں اور کچھ مخصوص امیدواروں کی بھی رجسٹریشن تسلیم کر لی گئی یہ معاملہ تاحال پرسرار ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں مشتمل سہ رکنی بینچ نے 9؍جون کو پی ایم ڈی سی کی جانب سے جامعہ کراچی کو ڈگری ایورڈنگ کا درجہ ختم کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا اور کہا تھا کہ پی ایم ڈی سی کے اساقدام سے طلبا کا مستقل دبائو پر لگ جائے گا۔ڈھائی ماہ سے زائد گزر جانے کے باوجود پی ایم ڈی سی تاحال اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے نوٹیفکیشن معطل کئے جانے پر کیا اقدام کرے۔ پی ایم ڈی سی کے پاس اس وقت جامعہ کراچی کے علاوہ کئی اورجنرل جامعات کیایم فل /پی ایچ ڈی اور ایم ڈی کی 200کے لگ بھگ اسناد کو رجسٹریشن رکی ہوئی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی پی ایم ڈی سی کچھ امیدواروں کو معذرت کے خط بھی بھیج دیئے تھے کہ جہاں سے انہوں نے سند لی ہے اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا تاہم بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ یہ توہین عدالت نہ ہو جائے تو خط واپس لے لئے گئے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *