باجماعت نماز روکنے کیلئے SHO جوتوں سمیت مسجد میں گھس گئی

الرٹ نیوز : کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی جامعہ مسجد حقانی میں خاتون ایس ایچ او شرافت خان جوتوں سمیت گھس گئی ، نمازیوں کو صفوں سے ہٹانے کی کوشش کی اور مغلظات بھی بکیں ، سنگیں نتائج کی دھمکیاں بھی دیں، جس پر نمازی مشتعل ہو گئے۔

اورنگی ٹائون کے علاقے پیر آباد تھانے کی ایس ایچ او لیڈی انسپکٹر آف پولیس شرافت خان اپنی ٹیم کے اہلکاروں سمیت جامعہ مسجد حقانی عرف سیڑھی بابا مزار میں جمعہ کی نماز کے دوران جوتوں سمیت پہنچ گئیں ، مسجد کا اندرونی حال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا ، اس دوران شرافت خان کو جوتے اتارنے اور مسجد سے باہر نکلنے کا کہا گیا ۔

مذید پڑھیں : لیاقت آباد مسجد میں پولیس کیوں گئی ؟

انسپکٹر شرافت خان نے باجماعت نماز پڑھانے سے مولانا عبدالرحمن کو منع کیا ، مسجد میں جوتوں سمیت گھسنے پر لوگوں نے پولیس آفیسر کو کہا کہ پہلے وہ مسجد سے باہر جائیں ، کیوں کہ یہ اللہ کا گھر ہے اور یہاں جوتے نہیں لائیں ، تاہم لیڈی پولیس آفیسر کے ہمراہ اے ایس آئی حیات گل ، اہلکار سلام اور اہلکار مُنے سمیت دیگر کو کہا کہ صفوں سے لوگوں کو باہر ہٹائو ، جس پر نمازی مشتعل ہو گئے ۔

تاہم اس دوران پولیس اہکاروں نے اپنی مزید نفری کے لئے 15 پر کال کی ، جس کے بعد مذید نفری بھی پہنچ گئی ، اس دوران مشتعل نمازیوں نے پولیس کو واپس جانے کے لئے کہا تاکہ حالات مذید خراب نہ ہو ، خاتون ایس ایچ او شرافت خان نے آگے بڑھ کر مرد نمازیوں کو خود ہاتھوں سے باہر نکالنے کی کوشش کی ، جس پر انہیں ناک پر معمولی چوٹ بھی آ گئی ۔

مذید پڑھیں : قاری عثمان کی دھکمی پر K-Electric نے ایوریج بلوں کا فیصلہ واپس لے لیا

ادھر پیر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کو منتشر کرنے کوشش کی ، جس پر ہجوم نے پتھرائو کیا ۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ آصف علی عباسی نے خاتون پولیس افسر پر حملے کا نوٹس لیا اور واقعے کی فوری رپورٹ ڈی آئی جی ویسٹ سے طلب کر لی ہے ۔

ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی خاتون ایس ایچ او پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کراچی میں خاتون ایس ایچ او پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے ۔ سینیٹر رحمان ملک نے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پولیس سندھ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور واقعے کی تفصیل دریافت کی ۔

مذید پڑھیں : اسلام آباد انتظامیہ کی خواہش پر علماء جیلیں بھرسکتے ہیں : مولانا زاہد الراشدی

معلوم رہے کہ سامنے آنے والی ویڈیو میں انسپکٹر شرافت خان پشتو زبان میں نمازیوں کو مغلظاب بھی بک رہی ہیں اور مسجد کو سیل کرنے کی دھمکی بھی دے رہی ہیں ۔اور اہلکاروں سے کہہ رہی ہیں کہ اس مسجد کے بڑے مولوی کو پکڑ پر لائو ، جب کہ نمازیوں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ آپ کے خلاف خود ایف آئی آر دوں گی ۔ جس کے بعد تھانے پہنچ پر خاتون افسر نے خود پر مبینہ حملے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کیا ہے ۔

درج ہونے والے مقدمہ نمبر115/2020 میں ایس آئی پی محمد اشرف آرائیں نے دہشت گردی کی دفعہ 78 اے سمیت337 اے ،427 ، 324 ، 353 ، 149 ، 147 ، 269 کے علاوہ کرورنا وائرس ایمرجنسی 144 کی خلاف ورزی کی دفعات شامل کی گئی ہیں ۔ پولیس نے بتایا کہ مقدمہ مسجد انتظامیہ اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے تاہم اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔

مذید پڑھیں : اسلام آبادعلماء کے دباء سے پولیس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی

گزشتہ جمعے کو بھی کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نماز جمعہ کا اجتماع کرنے پر پولیس نے منع کیا تو شہریوں نے پولیس پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار زخمی ہو گئے تھے اور شہریوں نے پولیس اہلکاروں کو اپنے گھروں میں پناہ دی تھی۔

ادھر واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد قاری محمد عثمان نے ایڈیشنل آئی جی سے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ ایسی پختون بستی میں خاتون ایس ایچ او کو تعینات کرنا ہی غلط ہے ۔جب کہ دوسرے نمبر پر ایس ایچ او جوتوں سمیت مسجد میں گھسی اور ویڈیو میں مغلظات بکتے ہوئے بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ اب خود فیصلہ کریں کہ ایس ایچ او نے لوگوں کو خود اشتعال دلایا کہ نہیں ؟

Show More

One Comment

  1. الئہ پاکستان کے حالات پر رحم فرمائے کیا تاجر کیا عام ادمی سب کے سب کس راہ پر چل رھے ھیں الئہ ھماری حفاظت فرمائے امین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close