خیبر پختون خوا کے IG ثناءاللہ عباسی خود کرپٹ نکلے

خیبر پختون خوا کے پولیس افسران IG ثناءاللہ عباسی سے تنگ آ گئے ۔ خیبر پختون خوا پولیس افسران اپنے ہی آئی جی ثناءاللہ عباسی سے انتہائی تنگ آ گئے ہیں ۔ پولیس افسران نے وزیراعظم عمران خان ، وزیر اعلیٰ کے پی کے سمیت دیگر اہم اداروں کے سربراہاں کو خط لکھ دیئے ہیں ۔

کے پی کے پی ایس پی پولیس افسران نے اپنے آئی جی ثناءاللہ عباسی کو انتہائی جھوٹا ، دغا باز اور چور قرار دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان ، وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سمیت دیگر اہم اداروں کے نام ایک خط لکھا ہے ۔ جس میں پولیس افسران نے جشم کشا انکشاف کئے ہیں ۔ خط میں پی ایس پی افسران نے موقف اختیار کیا ہے کہ ثناءاللہ عباسی اپنے افسران کے خلاف گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : ایف آئی اے میں پولیس کے افسران کی اپائنٹمنٹ ،ٹرانسفر ،پوسٹنگ کے لئے رولز میں ترمیم

جب کہ ثناءاللہ عباسی کے پی کے پولیس کو برباد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ پولیس افسران نے خط کے ساتھ  ایک ایف آئی آر منسلک ہے ۔ جو 29 اپریل 1998 کو سندھ کے ضلع جیکب آباد میں واقع پولیس اسٹیشن ”مارکیٹ” میں ثناءاللہ عباسی کے خلاف درج کی گئی تھی ۔ مذکورہ ایف آئی آر نمبر 33/98 کی کاپی بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے ۔ جس میں واضح ہے کہ بطور ایس پی جیکب آباد ثناء اللہ عباسی نے اپنے قائم مقام اکاﺅٹنٹ کے ساتھ مل کر 17 لاکھ 60 ہزار روپے کا فراڈ کیا تھا ۔ جب کہ آیف آئی آر میں مزید لکھا گیا کہ قادر بخش اوڈھو نے ان کی کرپشن کو سامنے لایا تھا ۔

قادر بخش اوڈھو اس وقت قائم مقام اکاﺅٹنٹ تھے  ۔ جب کہ قادر بخش اوڈھو کی شکایت پر ثناءاللہ عباسی کے خلاف انکوائری بھی کی گئی تھی اور اس انکوائری میں ثابت کیا گیا تھا کہ بطور ایس پی جیکب آباد 17 لاکھ 60 ہزار روپے اپنے اکاﺅٹنٹ جارو خان کے ساتھ مل کر غبن کر لئے تھے ۔ ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی زیر دفعہ 471، 468، 265، 420، 409 سمیت سیکشن 5 (2) کرپشن ایکٹ 447 جیسی دفعات لگائیں تھیں ۔ جس پر ایس ایچ او خان محمد شیخ کے دستخط بھی موجود ہیں ۔

مذید پڑھیں : جعلی ASP گرفتار، 40 کروڑ روپے فراڈ کا مقدمہ درج

قادر بخش اوڈھو نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ ثناءاللہ عباسی نے اپنے اکاﺅٹنٹ کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات بھی تیار کی تھیں ۔جن کے ذریعے یہ پیسے نکلوائے تھے ۔ بعد ازاں یہ الزامات انکوائری میں ثابت بھی ہوئے تھے ۔ پولیس افسران نے خط میں مزید لکھا ہے کہ اس ایف آئی آر کے بعد یہ بات بالکل واضح تھی کہ ثناءاللہ عباسی کسی طور پر بھی سزا سے نہیں بچ سکتے ۔ جس کی وجہ سے انہوں نے اس کے بعد اپنا سیاسی اور دوسرا اثر و رسوخ استعمال کرنا شروع کیا اور اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی کے ذریعے اس وقت کے آئی جی آفتاب نبی ( QPM، PPM، PSP ) کو کہہ کر ایف آئی آر منسوخ کرا دی تھی ۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختون خوا ثنااللہ عباسی کے خلاف درج مقدمے کا عکس

معلوم رہے کہ خیبر پختون خوا پولیس افسران نے یہ خط اس لئے بھی لکھا ہے کہ انہیں ایک جانب عزت نفس کے مجروح ہونے کا خدشہ ہے اور دوسری جانب آئی جی ثناءاللہ عباسی کا مالی منفعت کے لئے پولیس کے پیسوں کی ’’صفائی‘‘ کا بھی خدشہ ہے ۔ غبن کردہ 17 لاکھ روپے پولیس کانسٹیبلز کے لئے کھانے پینے کی مد میں مختص تھے ۔

مذید تفصیلات :سندھ میں نیب سے پلی بارگین کرنیوالے افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

خط میں افسران نے مزید لکھا ہے کہ ثناءاللہ عباسی کے دونوں بھائی کلیم اللہ عباسی اور سلیم اللہ عباسی کرپشن میں ملوث ہیں ۔ جب کہ جلد ان کی طرف سے کی جانے والے کرپشن کو بے نقاب کیا جائے گا ۔ جس میں ان کے ملائشیا کے کاروبار کے بارے میں انکشافات کئے جائیں گے ۔

اس حوالے سے موقف جاننے کے لئے انسپکٹر جنرل آف پولیس ثناء اللہ عباسی سے رابطہ کیا تاہم انہوں نے اس رپورٹ کے متعلق موقف دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جس نے یہ خط لکھا ہے کہ اسی سے بات کی جائے ۔