مجھے کراچی کیوں‌ پسند ہے ؟

بلاگ : مجھے کراچی پسند ہے

میں کہیں بھی چلا جائوں مجھے سکوں کراچی ہی میں ملتا ہے۔
رہزن راج کے باوجود لفٹ دینا اس شہر کا کلچر ہے۔
بسوں میں کوئی بزرگ چڑھ جائے تو لوگ اپنی سیٹ دینے کے لئے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
رستے میں گاڑی یا بائیک خراب ہوجائے تو مدد کرنیوالے اتنے آ جاتے ہیں کہ اچھا بھلا بندہ شرمندہ ہوجاتا ہے۔
رمضان میں افطار کے وقت سڑک سے گزر جائیں تو روزہ کھلوانے والوں سے جان چھڑانی مشکل ہوجاتی ہے۔

کراچی والوں کی یہ ادا مجھے بہت پسند ہے ۔
یہاں کے لوگ سخی ہیں ۔ ملک کی تمام بڑی سماجی تنظیموں ، الخدمت، ایدھی، چھیپا، سیلانی، عالمگیر ویلفیئر، الرشید ٹرسٹ ،الاختر ٹرسٹ ، جے ڈی سی، کے کے اىف، انصار برنی، فاطمید بلڈ، حسینی بلڈ بینک سمیت سینکڑوں سماجی تنظیموں کی جنم بھومی یہی شہر ہے ۔انہیں چندہ بھی یہی شہر دیتا ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے مدارس اس شہر میں ہیں ۔ بڑی جہادی تنظیمیں اس شہر سے اٹھی ہیں ۔ مفتی اعظم اس شہر سے ہیں ۔

مذید پڑھیں : کراچی کینٹ اسٹیشن کی تاریخی بلڈنگ کا منظر

امن پسند صوفی ہوں یا انتہاپسند مولوی ، دینی جماعتیں ہوں یا مدارس ، فرقہ پرست ہوں یا بھائی چارے کے داعی ، یہاں سب کے لئے وافر چندہ موجود ہے، چندہ اس شہر کی خو میں اتنا رچا بسا ہوا ہے کہ یہاں کے لونڈے لپاڑے پکنک پر بھی چندہ جمع کر کے جاتے ہیں ۔
محرم آنے والا ہو، محلے محلے میں چندے سے سبیلیں لگیں گى ، رت جگوں کے شور میں حلیم کی دیگیں کھڑکیں گى۔
یہاں بھیک اتنی ملتی ہے کہ سڑکوں پر بهانت بهانت دیس دیس کے بهکاریوں کا راج ہے ، بلکہ بهیک کی جگہیں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔

ریستورانوں کے باہر مفت کھانے والوں کی لمبی لمبى قطاریں جا بجا نظر آتی ہیں۔
آج کل خیراتی دستر خوان کا رواج چل پڑا ہے ۔ جہاں صدقے کا مٹن غیر مستحق لوگوں کا دل بھی لبھاتا ہے، کراچی میں خیراتی دسترخوانوں پر روزانہ کم سے کم چار سے پانچ لاکھ لوگ کھانا کھاتے ہیں۔
اس شہر میں غربت تو ہے مگر بھوک نہیں ہے۔
سب کے لئے روزگار ہے، پناہ ہے۔
ہر دو گام بدلتی ہوئی زبان ، کلچر اس شہر کا حسن ہے۔

مذید پڑھیں : لاک ڈاون میں کٹی پہاڑی کا منظر نامہ

زاہد کی نہاری، سٹی کورٹ کے مرغ چھولے، کاشف غائر کی بریانی، جمشید روڈ کی مچھلی، کراچى حلیم میں میری جان بند ہے ۔
یہاں کے لوگ چهٹیاں منانے کے بہت شوقین ہیں، چھٹی کا کوئی بہانہ مل جائے ، چهٹی کرنے سے نہیں چوکتے ، بقرعید پر پانچ/چھ چهٹیاں منا کر اگلى محرم کی دو ىا موڈ ہوا تو پانچ چھٹیوں کے پلان بنانے اسٹارٹ ہو جائیں گے۔
بیشتر کو ایم کیو ایم کے جانے سے یہی غم لاحق ہے کہ اب ہڑتال کی چھٹی ماری گئی۔

مذید پڑھیں : ایم کیو ایم کے یونٹ 133 کا دفاتر بھوت بنگلہ بن گیا

اس شہر کی اپنی مدد آپ کے تحت جینے کی خو مجھے بہت پسند ہے، اس کا کوئی والی وارث نہیں مگر یہ سب کا والی وارث ہے۔
مجھے یہ احساس بھی بے حد سکون دیتا ہے کہ اتنے بڑے شہر کے تمام راستوں سے علاقوں سے واقف ہوں۔
تما م شارٹ کٹس مجھے معلوم ہیں۔
اس شہر میں مجھے یہ بات بھی بہت پسند ہے کہ یہاں ہر دوگام کوئی نہ کوئی جان پہچان والا مل جاتا ہے سلام دعا کرلیتا ہے۔

نوٹ : وٹس پر گردش کرنے والی یہ تحریر کیس ہے یہ معلوم نہیں ہو سکا ، تاہم یہ ہر کراچی والے دل کی آواز کی ہے ۔ رائیٹر کا نام ہو تو کمنٹ کیجئے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close