شب ِ برات کی فضیلت اور اس میں عبادت

بلاگ : محمد طاہر مکی
دارافتا جامعہ حمادیہ مدرسہ ندوۃ العلوم ٹنڈوآدم

ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ فر ماتی ہیں کہ رسول اکرم شعبان کے روزے رکھتے تھے تو ہم یوں سمجھتے تھے کہ اب روزے رکھتے ہی رہیں گے،اور فرماتیں ہیں کہ میں نے سوائے رمضان کے کسی اور مہینے میں رسول اللہ ﷺ کو پورے مہینے روزے رکھتے نہیں دیکھا ، اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ شعبان میں جتنے روزے رکھے کسی اور ماہ میں اتنے روزے رکھے ہوں، الغرض آپ ﷺ کو شعبان میں روزے رکھنا بہت ہی مرغوب تھا، ام المؤمنین حضرت سلمہؓ کا قول ہے کہ شعبان سے زیادہ رسول اکرم ﷺ نے کسی ماہ میں روزے نہیں رکھے اس کی وجہ یہ ہے کہ مرنے والوں کے نام شعبان میں زندوں کی فہرست سے نکال کرمُردوں کی فہرست میں شامل کردئے جاتے ہیں، آدمی سفر کرتا ہے حالانکہ اسکا نام مرنے والوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے، حضرت انسؓ کا قول ہیکہ رسول ِ خدا سے افضل روزے دریافت کئے گئے تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ رمضان کی تعظیم میں شعبان کے روزے رکھنا، حضرت عائشہ ؓ فرماتیں ہیں کہ میں نے ایک رات حضور ﷺ کو بستر پر نہ پایا، میں اُن کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ ﷺ (مدینہ طیبہ کے قبرستا ن) بقیع میں ہیں ۔

آپ ﷺ نے مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ کیا تو یہ اندیشہ رکھتی ہیکہ اللہ تعالیٰ اور اسکا رسول تجھ سے بے انصافی کرینگے؟ یعنی تیری باری میں کسی اور (بیوی) کے پاس تشریف لے جائیں گے؟ میں نے کہا کہ ی ارسو ل اللہ! مجھے خیال ہوا کہ شاید آپ ﷺ اپنی بیویوں میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر تشریف لے آتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر انسانوں کی مغفرت فرماتے ہیں (بنو کلب عرب میں ایک قبیلہ تھا جس کے پاس سب سے زیادہ بکریاں تھی اس وجہ سے اس کی مثال دی گئی)(بحوالہ ترمذی جلد اول ص: ۶۵۱) حضرت عائشہ کی دوسری روایت امام بیہقی دعوات کبیر میں نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ تو جانتی ہے یہ کیسی رات ہے؟ یعنی نصف شعبان کی رات ،میں نے کہا یا رسول اللہ اسمیں کیا ہوتا ہے؟ فرمایا : اولادِ آدم میں سے اس سال میں جو بچہ پیدا ہونے والا ہواس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور سال بھر میں جتنے انسان مرنے والے ہوتے ہیں ان کا نام لکھ دیا جا تا ہے اور اس میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اور اس رات میں بندوں کے رزق نازل کئے جاتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو یارغار کیوں کہا جاتا ہے ؟

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا کہ بے شک اللہ پاک جھانکتے ہیں نصف شعبان کی رات میں، پس مغفرت فرمادیتے ہیں اپنی تمام مخلوق کی،مگر مشرک اور کینہ رکھنے والے کی بخشش نہیں فرماتے (بحوالہ مشکوٰ ۃ ص ۵۱۱) اسی مشکوٰ ۃ میں حضرت عبداللہ ؓبن عمر ؓبن عاص ؓکی روایت ہیکہ دو آدمیوں کی بخشش نہیں فرماتے ایک کینہ رکھنے والا اور دوسرا کسی مسلمان کا قاتل ، اسی مشکوٰ ۃ والے نے ابن ماجہ سے ”حضرت علیؓ کی روایت نقل کی ہیکہ حضور اقدس ﷺ نے فر مایا کہ جب نصف شعبان آ جائے تو تم اس کی رات میں قیام کیا کرو (نوافل پڑھا کرو) اور اس کے دن کا روزہ رکھا کرو، اس لئے کہ اللہ پاک اس میں سورج غروب ہونے سے طلوع فجر تک قریب کے آسمان پر نازل ہوتے ہیں، پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی استغفار کرنے والا!بخشش مانگنے والا! کہ میں اسکی بخشش کردوں؟ کیا ہے کوئی رزق مانگنے والا! کہ میں اسکو رزق دوں؟ کیا ہے کوئی مصیبت یا بیماری میں مبتلاء! کہ میں اس کو عافیت دوں؟ کیا ہے کوئی فلاں؟ کیا ہے کوئی فلاں؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ ارشاد فرماتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ، لیکن یہاں پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ بعینہ یہی فضیلت ”شب قدر“ کی بھی ہے کہ فیصلوں کا نازل ہونا وغیرہ، جیسا کہ سورۂ دخان کی آیت ایک تا پانچ میں ہیکہ یہ رات با برکت ہے، اس میں قرآن کریم نازل ہوا،اور فرمایا کہ اسی رات میں تمام حکمت والے کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں، اس”بابرکت رات“ سے بعض حضرات نے شب قدر مراد لی ہے،جنمیں حضرت تھانوی بھی شامل ہیں،اور بعض حضرات نے شب برأت، تو ان دونوں اقوال میں تطبیق اس طرح ہو گی کہ فیصلوں کی تجویز تو ”شب برأت“ میں ہو جاتی ہے، اور پھر ”شب قدر“ میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا میں جو فرشتوں کا صدر دفتر ہے وہاں ان کی نقول جاری کر دی جاتیں ہیں ۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے بھی یہی بات پسند فرمائی ہے۔ ، اس رات میں جو ذکر کیا گیا ہے کہ کس کی بخشش ہو گی اور کس کی نہیں، تو اس سے قبل گناہِ کبیرہ اور صغیرہ کی تعریف سمجھنی چاہیئے، یعنی چھوٹے اور بڑے گناہ، کبیرہ یعنی بڑے گناہ تو وہ کہلاتے ہیں جن پر اللہ نے یا جناب رسولِ خاتم ﷺ نے دوزخ کی وعید سنائی ہو، یا اللہ کے غضب کی وعید سنائی ہو ، تو اس قسم کے گناہ تو گناہِ کبیرہ کہلاتے ہیں ، اور جس کام کو پسند نہیں فرمایا مگر کوئی وعید بھی نہیں سنائی ان کو گناہِ صغیرہ کہا جاتا ہے، کبائر گناہ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ شرک، والدین کی نافرمانی، کسی مسلم کا قتل، جھوٹی گواہی، وغیرہ تو انکے لیئے شرط ہے کہ آج کی رات اللہ سے سچے دل سے معافی مانگے تو اللہ معاف کرنے والا ہے، معافی مانگنے والوں کو اللہ معاف فرماتا ہے، یوں تو اللہ بِن مانگے کسی کو معاف فرما دے تو اس سے کوئی پوچھنے والا بھی تو نہیں لیکن اصول قاعدہ یہی ہے کہ ایسے مجرم کو جو اپنے کبیرہ گناہوں کیوجہ سے اللہ کے قہر اور اسکی لعنت کا مستحق ہوا، اسے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے، تو اس بات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اس رات میں جو مغفرت کا وعدہ آیا ہے یہ ان لوگوں کیلئے ہے جو بخشش مانگنے والے ہیں اور جو لوگ بخشش مانگنے والے نہیں بلکہ عین اس رات کو بھی انہی جرائم کے مرتکب ہیں جنکی وجہ سے اللہ کی ان پر لعنت ہوئی تو ظاہر ہیکہ انکی بخشش کا وعدہ بھی نہیں،تو ہر کبیرہ گناہ کے مرتکب کیلئے یہ شرط ٹھہری کہ وہ پہلے اپنے اس کبیرہ گناہ کا نام لیکر معافی مانگے ۔

عفیفہ ء کائنات حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ ایک رات اللہ کے رسول نے فرمایا کہ عائشہ جانتی ہویہ کیسی رات ہے۔۔۔ الخ پھر فرمایا کہ مجھے اجازت دوگی الخ! حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول اجازت ہے (اجازت پاکر) آپ ﷺ نماز کو کھڑے ہو گئے حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ قیام میں تو سورۂ فاتحہ اور ایک چھوٹی سورت پڑھی مگر سجدے میں جو گئے تو آدھی رات تک سجدہ کیا پھر یوں ہی دوسری رکعت کا قیام مختصر کرنے کے بعد سجدے میں گئے تو یہ سجدہ صبح تک رہا ۔ میں قریب گئی اور سنا تو آپ ﷺ کہ رہے تھے کہ میں تیرے عذاب سے تیرے عفو کی اور تیرے غضب سے تیری رضا مندی کی اور تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں ۔ تیری ذات بزرگ ہے ۔ میں تیری تعریف پوری نہیں کرسکتا ۔ جیسی تونے اپنی تعریف کی ہے ۔ یہ بھی علماء نے لکھا ہیکہ اللہ نے شب قدر کو پوشیدہ رکھا اور شب برات کو ظا ہر کردیا اس وجہ سے کہ شب قدر رحمت اور مغفرت کی رات ہے ۔ اللہ نے اس کو اس وجہ سے پوشیدہ رکھا کہ لوگ اس رات کے بھروسے پر بیٹھ نہ جائیں کہ چلو اس دن عبادت کرلیں گے اور اللہ کو راضی کر لیں گے،اور شب برات چون کہ حَکم اور فیصلے کی رات ہے ناراضگی و رضا مندی کی رات ہے ۔

اس لئے اسکو ظاہر کر دیا ،روایت میں ہے کہ جب حضرت حسن بصری پندرہویں شعبان کو گھر سے باہر آتے تھے ۔ تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کو قبر میں دفن کردیا گیا تھا اور ابھی آپ نکل کر آئے ہیں ۔ اس کی وجہ دریافت کی گئی تو بتایا کہ خدا کی قسم جس کی کشتی وسط سمندر میں ٹوٹ گئی ۔ ہو اس کی مصیبت میری مصیبت سے بڑی نہیں، کہ مجھے اپنے گناہوں کا تو یقین ہے ۔ لیکن نیکیوں کی طرف سے اندیشہ ہے ۔ معلوم نہیں قبول ہوتیں ہیں یا میرے منہ پر ماردی جاتیں ہیں ۔ بہر حال شب برات کی رات میں بجائے فضول کچہریوں کے اور سڑکوں پر گھومنے کے اور آتش بازی کے اللہ کے حضور گڑ گڑا کرتوبہ واستغفار کرنی چاہئے ۔ اس رات کو یہ بھی خیال رکھا جائے کہ ساری رات جاگ کر صبح نماز میں نہ پہنچ سکیں، اس سے ساری رات کی عبادت بے کار جانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ساری رات کی عبادت نفلی جب کہ صبح کی نماز فرض ہے اور ہزار نوافل بھی فرض کے برابر نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ اگر کسی نے رات کی نماز عشاء باجماعت پڑھی اور سو گیا اور صبح کی نماز باجماعت پڑھی تو اس کو ساری رات نماز پڑھنے کا ثواب مل جائیگا ،اس لئے تمام مسلمان جو توفیق ہو نماز پڑھ کر سو جائیں اور اللہ توفیق دے اگلے دن روزہ رکھلیں کہ اس روزے کی بڑی فضیلت ہے۔،

حضرت شیخ المشائخ محبوبِ سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے اپنی کتاب ”غنیۃ الطالبین“میں شب ِ برء ات کی ایک عبادت لکھی ہے کہ سورکعتوں میں ایک ہزار بار سورۂ اخلاص یعنی ہر رکعت میں دس بار قل ہواللہ احد پڑھیں اس نماز کانام نمازِ خیر ہے،اس نماز کی بڑی فضیلت آئی ہے،حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ مجھ سے رسول خدا ﷺ کے تیس صحابیوں ؓنے بیان کیا ہیکہ اِس رات جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ اسکی طرف ستر بار نگاہ کرتا ہے،اور ہر بار میں ستر حاجتیں پوری کرتا ہے جنمیں کم سے کم حاجت گناہوں کی مغفرت ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close