عمران خان نے کارروائی کے بجائے کرپشن والوں کو پھر نواز دیا

الرٹ نیوز : پاکستان کی وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ایک بار پھر تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔ چینی اور آٹا چوروں کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسرے منفعت بخش عہدوں پر لگا دیا گیا ہے ۔

کئی وفاقی وزرا بشمول مخدوم خسرو بختیار اور حماد اظہر کے قلمدان تبدیل کر دیے گئے ہیں ۔ وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار سے ان کا قلمدان واپس لے کر سید فخر امام کو دے دیا گیا ہے ۔ حماد اظہر جو اب تک وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور تھے، انھیں وزارتِ صنعت و پیداوار دے دی گئی ہے جبکہ حماد اظہر کا اقتصادی امور کا قلمدان اب خسرو بختیار کو دے دیا گیا ہے ۔

سیکرٹری وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی ہاشم پوپلزئی کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ عمر حمید کو سیکریٹری تعینات کر دیا گیا ہے ۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت کو دسمبر 2019 اور جنوری 2020 میں آٹے اور چینی کے بحران پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے ۔

مذید پڑھیں : تحریک انصاف کے دور میں کرپشن تین درجے مزید بڑھی ،عالمی رپورٹ

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ منظرِ عام پر آئی تھی ، جس میں ملک میں ماضی قریب میں پیدا ہونے والے چینی کے بحران کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس بحران سے فائدہ اٹھانے والوں میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں ۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فروری کے مہینے میں ایف آئی اے کو ملک میں چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق مکمل تفتیش کر کے رپورٹ جمع کروانے کے احکامات صادر کیے تھے۔ ایف آئی اے نے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے تحقیقات کے بعد یہ رپورٹس تیار کی ہیں ۔

ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں چھ رکنی انکوائری کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی شخصیات نے سرکاری سبسڈی حاصل کرنے کے باوجود زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اس کمیشن میں انٹیلیجنس بیورو، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ایف بی آر کے نمائندے بھی شامل تھے ۔

مذید پڑھیں : تحریک انصاف حکومت نے آٹو انڈسٹری تباہ کردی ،18لاکھ افراد بے روزگار

رپورٹ میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے قریبی رشتہ دار کے بارے میں کہا گیا کہ انھوں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے اس بحران سے فائدہ اٹھایا ۔ حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الہٰی کو بھی چینی بحران سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاسی شخصیات کا اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ہونے کی وجہ سے انھوں نے کم وقت میں زیادہ سبسڈی حاصل کی اور بہت ہی کم وقت میں زیادہ سے زیادہ منافع بھی یقینی بنایا ۔ کابینہ میں دیگر تبدیلیاں کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کا وزارتِ ٹیلی کام سے استعفیٰ قبول کرتے ہوئے ان کی جگہ ان کی جماعت کے امین الحق کو یہ قلمدان دے دیا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس سے کیوں راہ فرار اختیار کررہی ہے ؟

اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم خان سواتی کو وفاقی وزیر برائے انسدادِ منشیات تعینات کر دیا گیا ہے جب کہ بابر اعوان کو مشیرِ پارلیمانی امور تعینات کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح وزیرِ اعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

مزکورپہ اکھاڑ پچھاڑ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے کسی کے خلاف کارروائی کے بجائے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پی ٹی آئی کے کارکنان کو مطمئمن کرنے کی کوشش کی ہے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close