حسن نثار کا صحافی بیٹا نیم پاگل ہو کر در بدر کیوں ہوا ؟

الرٹ نیوز : حسن نثار کی پہلی اہلیہ سے کون کون سے بیٹے ہیں اور وہ آج کل کہاں اور کس حال میں ہیں ۔؟

لاہور ہائی کورٹ کے وکیل علی ملک نے ٹویئڑ پر ایک ویڈیو شیئر کر کے لکھا ہے کہ حسن نثار کا بیٹا شہپر امام پنجاب لاء کالج میں ہمارا کلاس فیلو تھا ، اسے بڑے عرصہ بعد دیکھا ہے ۔ آج اس کے حالات آپ کے سامنے ہیں ۔ بیروزگار ہونے کی وجہ سے کسی حکومت سے نہیں بلکہ اپنے والد سے مالی امداد یا نوکری کی درخواست کر رہا ہے ۔

ٹوئٹر پر متعدد صارفین نے اس پر تبصرے کئے ہیں ، جن میں سے چند ایک تبصرے ایسے ہیں جو حسن نثار یا ان کے بیٹوں کو قریب سے جاننے والوں کے ہیں ۔ جن کو الرٹ نیوز کے قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ۔ مہد نامی صارف نے لکھا ہے کہ “یہ حسن صاحب کی پہلی بیوی کے بچے ہیں ، طلاق کے بعد حسن نثار نے کوشش کی تھی ان کو ساتھ رکھیں ، لیکن بیوی نہیں مانی اور اپنے ساتھ لے گئی تھی ۔ بچوں کا بھی یہی فیصلہ تھا اور آئندہ نہ ملنے کا فیصلہ ہوا تھا ۔ حسن نثار کا اس حوالے سے انٹرویو بھی یوٹیوب پر موجود ہے ۔ پھر بھی مدد کردینی چاہئے ۔

مزید پڑھیے: عمران خان نے کارروائی کے بجائے کرپشن والوں کو پھر نواز دیا

سید توقیر حیسن شاہ نے لکھا ہے کہ ” میں ان کو جانتا ہوں ،ان تینوں بھائیوں شہپر امام ، رہبر امام اور اصفر امام کو جانتا ہوں ،لیکن اب کافی عرصہ بعد ان کو دیکھا ہے “۔ پوروس نامی صاف نے لکھا ہے کہ ”میں نے چمد سال قبل پروگرام “ایک دن جیو کے ساتھ” دیکھا تھا ، اس میں تو حسن نثار نے جو بچے اپنی اولاد کے طور پر متعرف کروائے ان میں خاتم کا کہا تھا جس کی عمر لگ بھگ آٹھ 10 سال تھی ۔شائد وہ پھر حسن نثار کی دوسری بیوی سے ہو سکتے ہیں ۔”

حسن نثار کے بیٹے کے پاس موجود اس کے کارڈ کی تصاویر

سید توقیر الحسن نے لکھا ہے کہ “حسن نثار نے ان بچوں کے لڑکپن میں ہی پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی ، جس کی وجہ سے لڑکے آوارہ ہو گئے تھے ، مگر ان میں رہبر نامی بیٹا کچھ سنبھل سکا تھا جس نے بعد میں گاڑیوں کی سیل پرچیز کا چھوٹا سا بزنس بھی شروع کیا تھا ،اس کا بھی کوئی پتہ نہی کافی سال سے کہ آج کل کہاں ہے ۔ ایک اور صارف عشق کا فقیر نے لکھا ہے کہ ضروری نہیں کہ حسن نثار ہی غلط ہوں ان کی بھی غلطیاں ہونگی ۔

ایک اور صارف ایم حسن نے لکھا ہے کہ حسن نثار پی سی ایس آئی آر II میں رہتے ہیں ، وہ اپنی حویلی میں ایک کمرہ اس بیٹے کو دے سکتے ہیں ۔ ایک صارف شاہ عالم نور نے لکھا ہے کہ حسن نثار کو ان کے والد نے فیصل آباد کے گھر سے نکال دیا تھا جس کے بعد وہ لاہور ماڈل ٹائون کے گھر میں کرائے پر رہتے تھے ۔ طاہر سدوزئی نے لکھا ہے کہ میں حسن نثار کے کام شوق سے پڑھتا تھا مگر ایک روز والد کے متعلق ان کی گفتگو سن کر پڑھنا چھوڑ دیا ۔

حسن نثار کا اپنی فیملی کے ہمراہ گروپ فوٹو

ویڈیو میں حسن نثار کے بیٹے کی داڑھی ، مونچیں ، اور سر کے بال بڑھے ہوئے ہیں ، ان کی حالت بھی پراگندہ سی ہوئی ہے ، جبکہ اس کے کمرے کی حالت بھی انتہائی خراب ہے ،جس میں دیوار کے ساتھ کچھ پھٹے پرانے کپڑے لٹکے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ویڈیو میں حسن نثار کا بیٹا اپنے والد سے درخواست کرتا ہے کہ اس پر اس کمرے کا 37 ہزار روپے قرض چڑھ گیا ہے اور ان کے پاس اب کوئی نوکری بھی نہیں ہے ۔

مزید پڑھیے: گلگت بلتستان کے محسن صحافی حبیب الرحمن کی طبی موت یا قتل ؟

شہپر امام کے مطابق اس کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1975 ہے ۔ شہپر امام کے پاس موجود دی نیوز میڈیا گروپ کا سروس کارڈ بھی موجود تھا جس کے مطابق اس نے سر آغا خان روڈ لاہور میں واقع دی نیوز میں سب ایڈیٹر کے طور پر ملازمت بھی کی ہے ۔کارڈ میں گھر کا ایڈریس لاہور ماڈل ٹائون 135 جی لکھا ہوا ہے ۔ کارڈ نمبر 672/512 کے مطابق اس کی تاریخ میعاد 15 مارچ 2003 تھی ۔ ایک اور کارڈ کے مطابق شہپرامام بن حسن نثار متحدہ عرب امارات میں بھی ملازمت کے لئے گیا تھا ۔

معلوم رہے کہ حسن نثار کا مذکورہ بیٹا لاہور ٹھوکر نیاز بیگ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہے ۔ حسن نثار کے بیٹے کے مطابق وہ یو اے ای میں تھا تو حسن نثار نے کہا کہ واپس آئو یہاں آیا تو کوئی کام بھی نہیں دلوایا ۔ فرنٹیئر پوسٹ میں میں کام کرتا تھا انہوں نے ڈھائی ماہ کی میری ایک لاکھ سے زائد تنخواہ تھی وہ نہیں دی تھی ، شارجہ میں انگریزی اخبار میں میں نے کام کیا ہے ۔

میں یو آے ای سے واپس آیا تو اپنے گھر میں ہی آیا ، ہماراس سے قبل ایک گھر جوڈیشنل کالونی فیز ٹو میں تھا ۔ میری والد پنجاب سوسائٹی میں شفٹ ہو گئی تھیں ۔جہاں میں کبھی ان کے پاس رہتا تھا ، میری داڑھی اس لئے بڑھی ہوئی ہے میرے پاس پیسے نہیں ہے ۔

Show More

عزت اللّٰہ خان

عزت اللّٰہ خان سینئر رپورٹر ہیں، پشاور پریس کلب کے ممبر ہیں، بعض موضوعات پر ان کی تحقیقاتی رپورٹس صف اول کے اخبارات میں تہلکہ مچا چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے، معروف ویب سائٹس پر ان کے معاشرتی پہلوؤں پر بلاگز بھی شائع ہوتے رہے ہیں، آج کل الرٹ نیوز کے لیے لکھتے ہیں۔

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close