چینی چور مافیا کیخلاف کارروائی بھی ضروری ہے

بلاگ : عنایت شمسی

وزیر اعظم عمران خان نے آٹا اور چینی بحران کے حوالے سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پبلک کر دی، رپورٹ کے مطابق بحران سے سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، جب کہ وقافی وزیر خسرو بختیار کے بھائی، ق لیگی رہنما چودھری مونس الٰہی اور مریم نواز کے سمدھی چودھری منیر سمیت اہم سیاسی خاندان بھی بہتی گنگا میں اشنان کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ذخیرہ اندوزی ایک معاشرتی برائی ہے، اس عمل سے پورا سماج متاثر ہوتا ہے۔ بسا اوقات سماج کے اندر مختلف شعبوں سے وابستہ بڑے کاروباری افراد، بالخصوص اجناس کا بیوپار کرنے والے بڑے ڈیلر اور کارخانے دار کارٹیل اور جتھا بنا کر ملی بھگت سے اشیاءاور مال بازار سے غائب کر دیتے ہیں، ان کا مقصد مصنوعی قلت پیدا کرکے مال کی طلب میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، تاکہ ان کے مال اور جنس کی قیمت بیٹھے بٹھائے آسمان تک پہنچ جائے، جس کے بعد وہ اپنا مال نئے مہنگے دام کے ساتھ گوداموں سے نکالتے اور مارکیٹ میں لا کر راتوں رات بے تحاشا دولت کما لیتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی حرص اور ہوسِ زر کا شاخسانہ ہوتی ہے۔ مال اور دولت کی خواہش اور اس کیلئے جائز ذریعوں سے کوشش کرنا کسی بھی اخلاقی، قانونی اور مذہبی حوالے سے غلط نہیں ۔

مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس کی طلب بھی ہونی چاہیے اور اس کیلئے ہر ممکن جائز عمل اختیار کرنا بھی بری بات نہیں ، مگر دولت کمانے کے کچھ اصول ہوتے ہیں، ذخیرہ اندوزی کا محرک بھی دولت کمانے کا جذبہ ہی ہوتا ہے، مگر دولت کمانے کا یہ طریقہ اس لیے نا جائز اور غیر قانونی ہے کہ اس سے عوام الناس کو ضرر پہنچتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی سے مہنگائی میں غیر فطری طریقے سے اضافہ ہوتا ہے۔ چند ذخیرہ اندوز مال بنانے کیلئے اشیاءکی قلت اور بعد ازاں قیمت بڑھا کر پورے معاشرے کو تکلیف میں ڈالتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کے باعث ضرورت مندوں کی بڑی تعداد اشیاءکی قلت کی وجہ سے ایک طرف اشیاءکی عدم دستیابی کی تکلیف اٹھاتی ہے، دوسری طرف اس دوران گرانی کے نتیجے میں کم آمدن والے افراد اشیاءکے حصول سے محروم رہتے ہیں اور یوں پورا معاشرہ چند افراد کے ہوس زر کے نتیجے میں بحران کی اذیت سہتا ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں بد انتظامی اور حکومتی غفلت و نا اہلی کے باعث ہمیشہ ہی مختلف اشیاءکی قلت کے جعلی و منصوبہ بند بحران سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ بیشتر ایسے بحران اجناس اور اشیائے خورو نوش کے ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اپنے زر مبادلہ کا بہت بڑا حصہ زراعت کے شعبے سے حاصل کرتا ہے، اس کے باوجود بد قسمتی سے یہاں ایسے پریشان کن بحران ہی زیادہ اٹھتے ہیں، جن کا تعلق زراعت اور زرعی پیداوار سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں زراعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے یہاں زراعت کے شعبے کو دوسرے پیداواری شعبوں کی نسبت مراعات بھی زیادہ دی گئی ہیں۔ زراعت کے شعبے کے ٹیکس دوسرے شعبوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ زرعی ادویہ اور زرعی آلات کی در آمد پر بھی خصوصی رعایتیں ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ زراعت کے کئی شعبوں اور ضروریات کو قومی خزانے سے خاطر خواہ سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔ ان تمام مراعات اور سہولتوں کا مقصد یہ ہے کہ ملکی زراعت پھلے پھولے، زیادہ سے زیادہ زرعی پیدا وار حاصل ہو اور زراعت پیشہ افراد کو مسائل اور مشکلات کا سامنا نہ ہو، مگر ان تمام نوازشات کو سامنے رکھ کر دوسرے شعبوں سے موازنہ کیا جائے تو اندازہ یہی ہوتا ہے کہ اگر زراعت جیسی مراعات دوسرے پیداواری شعبوں کو دے دی جائیں تو زراعت کے مقابلے میں ان سے ملکی معیشت کو زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، جو بڑا المیہ ہے۔

زراعت کی اپنی گنجائش کے دائرے میں مطلوبہ پیداوار حاصل نہ ہونے اور قومی معیشت کو زراعت سے حسب توقع خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہی مافیا ہے جس پر زیر بحث تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل سر اٹھانے والے چینی بحران کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ یہی چند خاندان اور گنے چنے افراد ہیں، جن کے پنجے میں ملکی زراعت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ ان کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ یہ جب چاہتے ہیں اشیاءو اجناس کو اپنے گوداموں میں چھپا کر پوری قوم کو دانہ دانہ کا محتاج بنا دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اشیاءکی پیدا وار کم یا زیادہ کرکے ملکی معیشت کو اتھل پتھل کرکے رکھ دیتے ہیں اور اس عمل کی بھاری قیمت الٹا قومی خزانے سے مراعات اور سبسڈی کی شکل میں کھرے کرتے ہیں۔ ذخیرہ اندوز چھوٹا ہو یا بڑا سبھی قوم کے مجرم اور سزا کے لائق ہیں، تاہم پورے کے پورے شعبے کو اپنی مٹھی میں لینے والے ذخیرہ اندوز، بالخصوص جب وہ سیاسی اثر رسوخ بھی رکھتے ہوں، کسی صورت قابل معافی نہیں ہو سکتے، وہ پوری قوم کو عذاب میں ڈالتے ہیں، لہٰذا ان کا زور توڑنا چھوٹے ذخیرہ اندوزوں کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے۔

ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں جن لوگوں کے نام بے نقاب ہوئے ہیں، بلاشبہ یہ لوگ برسوں سے یہی دھندا کرتے آئے ہیں اور ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے عمل کے پرانے اور عادی مجرم ہیں۔ زیر بحث تحقیقاتی رپورٹ میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ سال ہا سال سے ایک ہاتھ سے حکومت سے سبسڈی لیتے آرہے ہیں، جب کہ دوسرے ہاتھ سے مال کا منافع عوام سے وصول کرکے اپنی دولت دونوں ہاتھ سے بڑھاتے رہے ہیں، مگر آج پہلی بار ان کا مکروہ دھندا اور ان کے چہرے بے نقاب ہوئے ہیں، جس کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان کو نہ دینا زیادتی ہو گی ۔ یقینا یہ پہلا قدم تھا اور یہ آسان بھی نہیں تھا۔ جو لوگ چینی چوری کے گھناؤنے عمل میں ملوث ٹھہرے ہیں، یہ بڑی پہنچ اور بہت طاقت رکھتے ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں، جن کے صرف نام ظاہر کرنا ہی حکومت کیلئے بڑا مشکل معاملہ تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق ان افراد نے تحقیقات رکوانے کی بھی بڑی کوششیں کیں اور اس مقصد کیلئے دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے، مگر اس کے باوجود وزیر اعظم نے تحقیقات بھی مکمل کروائی اور ان کے چہرے بھی قوم کے سامنے ظاہر کر دیے۔ جناب وزیر اعظم کو اس سارے عمل کے دوران اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہ کس قدر طاقتور مافیا ہے اور کس طرح قوم کو آناً فاناً مشکل میں ڈالنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ان کو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہوگیا ہوگا کہ مافیا صرف ان کے سامنے نہیں کھڑی، مافیا صرف وہ نہیں، جو ان کے سیاسی کیمپ سے باہر ہیں۔

مافیا ان کے دائیں بائیں پہلو میں اور ان کی اغل بغل میں بھی موجود ہے اور بڑی ٹھاٹ سے ان کی حکومت کے سائے تلے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ قوم بس اتنا جانتی ہے کہ مافیاو ¿ں کا جبڑا توڑنا عمران خان کا سب سے بڑا سیاسی نعرہ رہا ہے، اب جبکہ ان پر حقیقت کھل چکی ہے کہ مافیا کہاں کہاں موجود ہے تو اس پہلے قدم کے بعد امید ہے کہ جناب وزیر اعظم انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے زیر سایہ پروان چڑھنے والی اس خون آشام مافیا کو کیفر کردار تک بھی پہنچائیں گے۔ صرف تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنا کافی نہیں ہے۔ بات یہیں تک رہ گئی تو یہ اس مافیا سمیت تمام شعبوں میں موجود مافیاؤں کی ہمتیں بڑھ جائیں گی اور وہ اپنی چھریاں عوام پر مزید تیز کر دیں گی !

Show More

عنایت شمسی

عنایت شمسی روزنامہ اسلام میں ایڈیٹوریل بورڈ سے وابستہ ہیں اور سینئر سب ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کا شمار بہترین لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ معاشرتی مسائل پر بہترین نکات لکھتے ہیں۔ آپ کے قلم سے درجنوں کتابوں تیار ہو کر مارکیٹ ہو چکی ہیں۔ آپ نے الرٹ نیوز کیلئے خصوص بلاگ لکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close